Wednesday, July 3, 2019

* عمرے کا طریقہ *


عمرہ کرنے کا ثواب


حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے مابین گناہوں کا کفارہ ہے اور حجِ مبرورکی جزا جنت ہی ہے۔(حدیث)۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مہمان ہيں ،وہ انہيں بلاتا ہے تو يہ اس کے بلاوے پر لبيک کہتے ہيں اوریہ اس سے سوال کرتے ہيں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اِنہيں عطا فرماتا ہے۔(حدیث)۔
حضرتِ سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا، حج اورعمر ہ پے در پے ادا کرلیا کرو کیونکہ یہ فقر اورگناہوں کواس طر ح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی سونے چا ندی اور لوہے کا زنگ دور کردیتی ہے۔(حدیث)۔


ماہِ رمضان ميں عمرہ کی فضیلت


حضورنبی کریم ،رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: رمضان المبارک ميں عمرہ کرنا ميرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔(حدیث)۔
حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کيا گيا کہ کون سا عمل آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ے ارشاد فرمایا: رمضان المبارک ميں عمرہ کرنا۔ 


اِنہیں طواف وسَعْی کا نام عُمرہ ہے۔





















copywrites © 2019,

* آبِ زم زم *

اب زَم زَم پر آیئے


یاد رہے! مسجِدمیں آبِ زم زم پیتے وَقْت اعتِکاف کی نیّت ہوناضَروری ہےآب زَم زَم پر آ کراور قِبلہ رُو کھڑے کھڑے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط پڑھ کر تین سانس میں خوب پیٹ بھر کر پئیں ، پینے کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کہیں ، ہر بار کَعبۂ مُشَرَّفہ کی طر ف نِگا ہ اُٹھا کر دیکھ لیں ، کچھ پانی جِسم پر بھی ڈالیں ، مُنہ سَر اور جِسم پر اُس سے مَسح بھی کریں مگر یہ اِحتِیاط رکھیں کہ کوئی قطرہ زمین پر نہ گرے ۔ سَرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذِیشان ہے: زَم زَم جس مَقصَدکے لئے پِیاجائے گا وہ مَقصَد حاصِل ہوجائے گا۔(سُنَن اِبنِ ماجہ ج۳ ص۴۹۰حدیث۳۰۶۲)۔

آبِ زم زم پی کر یہ دعا پڑھئے


اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْۤ اَسْئَلُكَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّ رِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَآءً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ ط
ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے علم نافِع اورکشادہ رزق اور ہر بیماری سے صحّت یابی کا سوال کرتا ہوں۔

آبِ زم زم پیتے وقت دعا مانگنے کا طریقہ



شارِحِ مسلم شریف حضرتِ سیِّدُنا امام نَوَوِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں:پس اُس شخص کے لئے مُستَحب ہے جومغفِرت یا مَرَض وغیرہ سے شِفا کے لئے آبِ زم زم پینا چاہتا ہے کہ قبلہ رُو ہو کر پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ط پڑھے پھرکہے: اے اللہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ تیرے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: آبِ زم زم اُس مقصدکے لئے ہے کہ جس کے لئے اسے پیا جائے ۔(مسند امام احمدج۵ص۱۳٦حدیث۱۸۵۵)(پھر یُوں دعائیں مانگے مَثَلاً)اے اللہ! میں اسے پیتا ہوں تاکہ تو مجھے بخش دے یا اے اللہ! میں اسے پیتا ہوں اس کے ذَرِیْعے اپنے مَرَض سے شِفا چاہتے ہوئے ،اے اللہ! پس تومجھے شِفا عطا فرما دے‘‘اور مثل اس کے( یعنی حسبِ ضرورت اِسی طرح مختلف دعائیں کرے)(الایضاح فی مناسک الحج للنووی ص۴۰۱)۔

copywrites © 2019,

Monday, July 1, 2019

**** مقام ملتزم ****

اب ملتزم پر آئیے


نمازِ طواف ودُعاسے فارِغ ہوکر(مُلْتَزَم کی حاضِری مُستحَب ہے ) مُلْتَزَم سے لپٹ جائیے۔ دروازۂ کعبہ اور حَجَرِاَسوَد کے دَرمِیانی حصَّے کو مُلْتَزَم کہتے ہیں، اِس میں دروازۂ کعبہ شامل نہیں ۔ مُلْتَزَم سے کبھی سینہ لگائیے تو کبھی پیٹ، اِس پر کبھی دایاں رُخسار تو کبھی بایاں رُخسار اور دونوں ہاتھ سَر سے اُونچے کر کے دیوار ِمقدَّس پر پھیلائیے یا سیدھا ہاتھ دروازۂ کعبہ کی طرف اور اُلٹا ہاتھ حَجَرِاَسوَد کی طرف پھیلا ئیے۔ خوب آنسو بہائیے اورنہایت ہی عاجِزی کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے پاک پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ سے اپنے لئے اور تمام اُمَّت کے لئے اپنی زَبان میں دُعا مانگئے کہ مَقامِ قَبول ہے۔ یہاں کی ایک دُعا یہ ہے:۔
یَا وَاجِدُ یَا مَاجِدُ لَا تُزِلْ عَنِّیْ نِعْمَۃً اَنْعَمْتَھَا عَلَیَّ ط
اے قدرت والے! اے بزرگ! تو نے مجھے جو نعمت دی، اس کو مجھ سے زائل نہ کر۔
حدیث میں فرمایا: ’’جب میں چاہتا ہوں جبریل کو دیکھتا ہوں کہ مُلتَزَم سے لپٹے ہوئے یہ دعا کر رہے ہیں ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ج۱ص۱۱۰۴)اورہو سکے تو دُرُود شریف پڑھ کر یہ دُعا بھی پڑھئے:۔

مقام ملتزم پر پڑھنے کی دعا


اَللّٰھُمَّ یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ اَعْتِقْ رِقَابَنَا وَ رِقَابَ اٰبَآئِنَا وَ اُمَّھَاتِنَا وَ اِخْوَانِنَا وَ اَوْلَادِنَا مِنَ النَّارِ یَا ذَا الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَ الْفَضْلِ وَ الْمَنِّ وَ الْعَطَآءِ وَ الْاِحْسَانِ ط اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَۃِ ط اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَ اقِفٌ تَحْتَ بَابِكَ مُلْتَزِمٌ بِاَعْتَابِكَ مُتَذَلِّلٌۢ بَیْنَ یَدَیْكَ اَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَ اَخْشٰی عَذَابَكَ مِنَ النَّارِ یَا قَدِیْمَ الْاِحْسَانِ ط اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْۤ اَسْئَلُكَ اَنْ تَرْفَعَ ذِکْرِیْ وَ تَضَعَ وِزْرِیْ وَتُصْلِحَ اَمْرِیْ وَ تُطَھِّرَ قَلْبِیْ وَ تُنَوِّرَلِیْ فِیْ قَبْرِیْ وَ تَغْفِرَ لِیْ ذَنْۢبِیْ وَاَسْئَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ ط اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم

ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اے اِس قدیم گھر کے مالک !ہماری گردنوں کو اور ہمارے(مسلمان) باپ دادوں اور ماؤں (بہنوں)اور بھائیوں اور اولاد کی گردنوں کو دوزخ سے آزاد کردے، اے بخشش اور کرم اور فضل اور اِحسان اورعطاوالے! اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تمام مُعامَلات میں ہمارا انجام بخیر فرما اورہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیرا بندہ ہوں اوربندہ زادہ ہوں، تیرے (مقدس گھر کے) دروازے کے نیچے کھڑاہوں، تیرے دروازے کی چوکھٹو ں سے لپٹا ہوں ، تیرے سامنے عاجِزی کااظہار کر رہاہوں اور تیری رحمت کا طلب گار ہوں اورتیرے دوزخ کے عذاب سے ڈر رہاہوں اے ہمیشہ کے محسن !(اب بھی احسان فرما)اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے سُوال کرتا ہوں کہ میرے ذکر کو بلندی عطا فرما اور میرے گناہوں کا بوجھ ہلکا کر اور میرے کاموں کو دُرُست فرما اور میرے دل کو پاک کر اور میرے لئے قبر میں رو شنی فرما اور میرے گناہ مُعاف فرما اور میں تجھ سے جنَّت کے اونچے دَرَجوں کی بھیک مانگتاہوں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔

ایک اَہم مَسئَلہ


مُلتَزَم کے پاس نَمازِ طواف کے بعد آنا اُس طواف میں ہے جس کے بعد سَعی ہے اور جس کے بعد سَعی نہ ہو مثلًا طوافِ نفل یا طوافُ الزیارَۃ (جب کہ حج کی سَعی سے پہلے فارغ ہوچکے ہوں ) اُس میں نَماز سے پہلے مُلتَزَم سے لپٹئے۔ پھر مَقام اِبراہیم کے پاس جاکر دو رَکعَت نَماز ادا کیجئے۔(المسلک المتقسط ص۱۳۸)۔


copywrites © 2019,

* نَمازِ طواف و مَقامِ ابراہیم *

نَمازِ طواف


اب مقامِ ابراہیم کے قریب جگہ ملے تو بہتر ورنہ مسجدِ حرام میں جہاں بھی جگہ ملے اگر وَقْتِ مکروہ نہ ہو تو دو رَکْعَت نمازِ طواف ادا کیجئے، پہلی رَکْعَت میں سُوْرَۂِ فَاتِحَہ کے بعد قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌشریف پڑھئے، یہ نَماز واجِب ہے اور کوئی مجبوری نہ ہو تو طواف کے بعد فورا ًپڑھنا سُنَّت ہے۔اکثر لوگ کندھا کھلارکھ کر نَماز پڑھتے ہیں یہ مکروہ ہے ۔ اِضطِباع یعنی کندھا کُھلا رکھنا صِرف اُس طواف کے ساتوں پَھیروں میں ہے جس کے بعد سَعی ہوتی ہے۔ اگر وَقْتِ مکروہ داخِل ہوگیا ہو تو بعد میں پڑھ لیجئے اور یاد رکھیے اس نَماز کا پڑھنا لازِمی ہے۔
مَقامِ ابراہیم پر دو رَکْعَت ادا کرکے دعا مانگئے،حدیثِ پاک میں ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے: ’’جو یہ دُعا کرے گا میں اس کی خطا بخش دوں گا، غم دور کروں گا، محتاجی اُس سے نکال لوں گا، ہر تاجرسے بڑھ کر اس کی تجارت رکھوں گا، دنیا ناچار و مجبور اُس کے پاس آئے گی اگرچِہ وہ اُسے نہ چاہے۔‘‘(ابن عساکر ج۷ص۴۳۱) وہ دُعا یہ ہے:۔


مَقامِ ابراہیم کی دُعا


اَللّٰھُمَّ اِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَ عَلَانِیَتِیْ فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِیْ وَ تَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَ عْطِنِیْ سُؤْلِیْ وَ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ فَا غْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ ط
ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تو میری سب چُھپی اورکُھلی باتیں جانتا ہےلہٰذا میری معذِرت قَبول فرمااور تو میری حاجت کو جانتا ہے لہٰذا میری خواہش کوپورا کر اور تو میرے دل کاحال جانتا ہے لہٰذا میرے گناہوں کو مُعاف فرما۔

مَقامِ ابراہیم


اب سیدھا کندھا ڈھانپ لیجئے اور’’مَقامِ اِبراہیم ‘‘ پر آکر پارہ 1 سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ کی یہ آیتِ مقدَّسہ پڑھئے:۔
وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ
ترجَمۂ کنزالایمان :اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کونَماز کامقام بناؤ۔

copywrites © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...