Sunday, June 16, 2019

**** نمازتہجد ****

صلوٰۃ اللیل


رات میں بعد نماز عشا جو نوافل پڑھے جائیں ان کو صلاۃ اللیل کہتے ہیں اور رات کے نوافل دن کے نوافل سے افضل ہیں صحیح مسلم شریف میں مرفوعاً ہے: “فرضوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔” (بهار شريعت،سنن ونوافل کا بيان، ج۱، حصہ۴، ص٦۷۷ وصحيح سلم،کتاب الصيام، باب فضل صوم المحرم، الحديث: ۱۱٦۳، ص۵۹۱)۔
طبرانی نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ رات میں کچھ نماز ضروری ہے اگرچہ اتنی ہی دیر جتنی دیر میں اونٹنی یابکری دوہ لیتے ہیں اور فرض عشا کے بعد جو نماز پڑھی وہ صلاۃ اللیل ہے۔ (المعجم الکبير للطبرانی ، اياس بن معاوية المزني، الحديث:۷۸۷، ج۱، ص۲۷۱)۔

نمازتہجد


اسی صلوٰۃ اللیل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کے بعد رات میں سو کر اٹھیں اور نوافل پڑھیں، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: “جو شخص رات میں بیدار ہواور اپنے اہل کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعت پڑھیں تو کثرت سے یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے۔” (بهارشريعت، سنن ونوافل کا بيان، ج۱، حصه ۴، ص٦۷۷، ٦۷۸والمستدرک للحاکم، کتاب صلاة التطوع، باب توديع المنزل برکعتين، الحديث:۱۲۳۰، ج۱، ص٦۲۴)۔

یہ نماز اسلام میں اولًا سب پر فرض رہی،پھر امت سے فرضیت منسوخ ہوگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر آخر تک رہی۔تہجد کم از کم دو رکعتیں ہیں زیادہ سے زیادہ بارہ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آٹھ پڑھتے تھے کبھی کم و بیش۔حق یہ ہے کہ تہجد ہمارے لیئے سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے کہ اگر بستی میں کوئی نہ پڑھے تو سب تارک سنت ہوئے اور اگر ایک بھی پڑ ھ لے تو سب بری الذمہ ہوئے۔تہجد کا وقت رات میں سو کر جاگنے سے شروع ہوتا ہے صبح صادق پر ختم مگر آخری تہائی رات میں پڑھنا بہتر ہے اور قبل تہجد عشا پڑھ کر سونا شرط ہے ا وربعد تہجد کچھ سونا یا لیٹ جانا سنت ہے۔جو شخص تہجد پڑھنا شروع کردے پھر نہ چھوڑے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے۔
وضو کرکے کم از کم دو رکعت پڑھ لے، تہجد ہو گئی ، قرات کا اختیار ہے جو چاہے پڑھے اور قرآن یا د نہ ہو تو ہر رکعت میں تین تین بار سورئہ اخلاص بہتر ہے کہ جتنی رکعتیں پڑھے گا اسے ختم قرآن مجید کا ثواب ملے گا۔ احادیث شریفہ میں نمازتہجد کی بڑی فضیلتیں وارد ہیں، تہجد کی کثرت سے آدمی کا چہرہ نورانی اور زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔ تہجد پڑھنے والے بلا حساب جنت میں جائیں گے۔

copywrites © 2019,

Saturday, June 15, 2019

**** صلوٰۃالتسبیح ****

صلوٰۃالتسبیح


اس نماز میں بے انتہا ثواب ہے۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ اس کی بزرگی سن کر ترک نہ کرے گا مگر دین میں سستی کرنے والا، حدیث میں ہے کہ اگرتم سے ہو سکے تو اسے ہر روز ایک بار پڑھو ورنہ ہفتہ میں ایک بار، اور یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کر سکو تو سال میں ایک بار اور یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر میں ایک بار پڑھ لو۔
اس نماز کے پڑھنے کی ترکیب ہم حنفیوں کے طو ر پر وہ ہے جو ترمذی شریف میں مذکور ہے کہ:اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھنے کے بعد ثنا پڑ ھے پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑ ھے۔سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہ وَ لَا اِ لٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہ اَکْبَرْ ۔پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ کے ساتھ سورہ فاتحہ اور سورت پڑ ھ کر دس مر تبہ یہی تسبیح پڑ ھے۔پھر رکوع کر ے اور رکوع میں “سبحان ربی العظیم” کے بعد دس بار پڑ ھے پھر جب رکوع سے سر اٹھائے تو “سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا ولک الحمد “کے بعد دس بار پڑ ھے ۔پھر سجدہ میں جائے اور”سبحان ربی الاعلیٰ” پڑ ھنے کے بعد اُس میں بھی دس بار پڑ ھے ۔پھر سجدہ سے سر اُٹھا کر دس بار پڑ ھےپھر سجدہ میں جائے اور “سبحان ربی الاعلیٰ”کے بعد اُس میں دس مرتبہ پڑ ھے۔اِسی طرح سے چار رکعت پڑھے۔ہر رکعت میں ۷۵/بار تسبیح اور چاروں رکعات میں تین سو مر تبہ ہوں گی۔

بہتر ہے کہ اس نماز میں سورہ تکاثر،والعصر اور قل یا یھاالکافرون اور قل ہو اللہ پڑ ھے۔اگر اِس نماز میں کوئی ایسی بھول ہو جس کی وجہ سے سجدہ سہو کر نا پڑے تو اُس سجدے میں یہ تسبیحیں نہیں پڑ ھی جائیں گی۔اور اگر کسی جگہ پر بھول کر دس بار سے کم تسبیح پڑھی تو دوسری جگہ پر اُتنا اور پڑ ھ لے کہ مقدار پوری ہو جائے۔ تسبیح انگلیوں پر نہیں گِنے بلکہ ہو سکے تو دل ہی دل میں شمار کرے نہیں تو انگلیوں کو دبا کر۔یہ نماز ہر غیر مکروہ وقت میں ادا کی جا سکتی ہے مگر بہتر یہ ہے کہ ظہر کی نماز سے پہلے پڑ ھے۔
یہ نفل نماز ہے لہذا دوسری رکعت کے قعدے میں تشہد درود شریف اور دعاءماثورہ پڑھیں پھر تیسری رکعت کے لے کھڑے ہو اور تیسری رکعت میں پہلے ثنا پڑھیں۔

copywrites © 2019,

Friday, June 14, 2019

**** نماز استخارہ و نماز حاجت ****

نماز استخارہ


حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم ایسے ہی دیتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
جب کسی کو کوئی کام کا آغاز کرنے کا ارادہ ہو وہ کا دینی ہو،تجارتی،رشتہ داری ہو اس کاکے کرنے سے پہلے ۲ رکعات نفل کی نیت سے نماز پڑھ کر بھلائی ،اللہ سے مشہورہ کرنا سنت سے ثابت ہے،اور اس نماز کو نبی اکرمﷺ صحابہٗ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سکھایا کرتے اور یہ نماز کے بارے میں امام بخاری اور امام ابو داود رحمۃ اللہ علیھما نے نقل کیا ہے،یہ نماز کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں،لیکن یہ رات میں پڑھنا بہتر ہے۔
دو رکعات نفل کی نیت کرکے ہاتھ باندھ لے،پہلی رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قل یاٰیھا الکٰفرون اور دوسری رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قل ھو اللہ احد پڑھنا بہتر ہےاور اگر یہ سورے یاد نہ ہوتو جو سورے یاد ہو وہ اسکو پڑہ لے،نماز پڑھنے کے بعد دعا استخارہ پڑ ھے: اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِى فِى دِينِى وَمَعِيشَتِى وَعَاقِبَةِ أَمْرِى وَعَاجِلِ أَمْرِى وَآجِلِهِ فَيَسِّرْهُ لِى ثُمَّ بَارِكْ لِى فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِى فِى دِينِى وَمَعِيشَتِى وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاصْرِفْهُ عَنِّى وَاصْرِفْنِى عَنْهُ وَاقْدُرْ لِىَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِى بِهِ

هَذَا الأَمْرَ۔یہ لفظ کہتے وقت اپنی حاجت اور ضرورت کو اپنے دماغ میں رکھے۔اور چاہے تو اس لفظ کے پڑ ھنے کے بعد اپنی حاجت کا ذکر کرے پھر آگے دعا پڑ ھے۔
پھر قبلہ رخ کرکے سوجائے دنیا کی باتیں نہ کرے،اور اگر خواب میں اس کام کے بہتری کی طرف اشارہ ہو،یا سفید یا ہرا رنگ نظر آئے تو اس کام کو کرنے میں بھلائی کی طرف اشارہ ہے، اور اگر اس کام کے نا مناسب ہونے کی طرف اشارہ ملے یا کالا یا لال رنگ نظر آئے تو اس کامطلب یہ کام نا مناسب ہے،اس کو نہ کرنا ہی بہتر ہے،
بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کیو نکہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ:ائے انس! جب تو کسی کام کا ارادہ کر تو اپنے رب سے اُس کے بارے میں سات بار استخارہ کر پھر دیکھ کہ تمہارے دل میں کیا گذرا؟ تو جو گذرے وہ کر کہ بے شک اُس میں بھلائی ہے۔[کنز العمال،کتاب الصلاۃ،حدیث:۲۱۵۳۵]۔


نماز حاجت


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خاص معاملہ پیش آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑ ھتے تھے۔[سنن ابی داؤد،کتاب التطوع،حدیث:۱۳۱۹]۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آجائے اللہ کی طرف یا کسی بندے کی طرف تو اچھی طر ح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑ ھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر یہ دعا پڑ ھے۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلاَمَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لاَ تَدَعْ لِى ذَنْبًا إِلاَّ غَفَرْتَهُ وَلاَ هَمًّا إِلاَّ فَرَّجْتَهُ وَلاَ حَاجَةً هِىَ لَكَ رِضًا إِلاَّ قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ۔[جامع التر مذی،ابواب الوتر،باب ماجاء فی صلاۃ الحاجۃ،حدیث:۴۷۸]۔
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:ایک نابینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئےاور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے عافیت بخشے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ:اگر تم چاہو تو دعا کردوں اور چاہو تو صبر کرو اور یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!دعا فر ما دیجئے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فر مایا کہ:جاؤ !اچھی طر ح سے وضو کر کے دو رکعت نماز پڑ ھو ۔اور اُس کے بعد اِس طر ح سے دعا مانگو:اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِىِّ الرَّحْمَةِ یَا مُحَمَّدُ إِنِّى تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّى فِى حَاجَتِى هَذِهِ لِتُقْضَى لِى اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِىَّ
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:خدا کی قسم !ابھی ہم اُسی جگہ تھے اور باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ شخص ہمارے پاس آیا تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کبھی اند ھا تھا ہی نہیں۔[سنن ابن ماجہ،باب ماجاء فی صلاۃ الحاجۃ،حدیث:۱۳۸۵۔جامع التر مذی،کتاب الدعوات،حدیث:۳۵۸۹۔المعجم الکبیر،جلد:۹/ص:۳۰/ حدیث:۸۳۱۱]۔
حاجت کی نیت سے دو رکعت نماز نفل کی نیت کر کے دو رکعت نماز ادا کی جائے،کئی مقاصد کیلئے ایک مرتبہ صلوٰۃ الحاجۃ پڑھنا درست ہے اسی طرح جن مقاصد کیلئے پڑھی جا رہی ہے ان مقاصد کو ذہن میں رکھ کر خشوع و خضوع سے نماز و دعا مانگی جائے۔

copywrites © 2019,

Thursday, June 13, 2019

غزوۂ اُحُد

غزوۂ اُحُد islamic-greet

غزوۂ اُحُد

غزوہ بدر میں شکست کھانے کا کفار کو بڑا رنج و ملال تھا۔ معرکہ بدر میں کفارِ مکہ کو شکست و ہزیمت اور اشراف کے قتل کا جو صدمہ برداشت کرنا پڑا اس کے سبب وہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب سے کھول رہے تھے۔ بدر کی شکست کے بعد انہوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ لڑ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈ ا کریں اور اپنے جذبہ غیظ و غضب کو تسکین دیں اور اس کے ساتھ ہی معرکہ آرائی کی تیاریاں بھی شروع کر دیں۔ اس معاملے میں سردارانِ قریش میں سے عکرمہ بن ابوجہل، صفوان بن اُمیہ، ابو سفیان بن حرب اور عبداللہ بن ابی ربیعہ زیادہ پر جوش اور پیش پیش تھے۔
تمام مشرکینِ مکہ کو ملا کر کل تین ہزارکی فوج تیار ہوئی۔ قائدینِ قریش اس رائے پر متفق ہوئے کہ اپنے ساتھ عورتیں بھی لے چلیں تاکہ حرمت و ناموس کی حفاظت کا کچھ احساس ہو۔ لہٰذا پندرہ خواتین بھی قریش کے قافلے میں شامل ہوگئیں جن میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی شامل تھی۔ مشرکین کے دستے کی کمان ابو سفیان کر رہا تھا ۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہٗ قریش کی اس ساری نقل و حرکت کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔ آپؓ نے تمام تفصیلات ایک قاصد کے ذریعے خط کی صورت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں بھیجی۔ یہ خط حضرت ابی کعبؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں رازداری برتنے کی تاکید کی ۔ اس کے بعد مدینہ منورہ میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ۔لوگ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت ہتھیار بند رہنے لگے یہاں تک کہ دورانِ نماز بھی ہتھیار جدا نہیں کیے جاتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ ، حضرت اسید بن حضیرؓ اور سعد بن عبادہؓ پر مشتمل یہ مختصر سا دستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگرانی پر تعینات ہو گیا۔ یہ صحابہ کرامؓ ہتھیار پہن کر ساری ساری رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دروازے پر گزار دیتے تھے۔
غزوۂ اُحُد کے موقع پر رسول اکرمﷺ کی مبارَ ک رائے یہ تھی کہ شہر کے اندر رہتے ہوئے مدینہ منورہ کا دفاع کیا جائے ‘لیکن پرجوش نوجوان صحابۂ کرام کی ایک جماعت نے اصرار کیا کہ ہمیں باہر میدان میں نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے ‘ ان کے سامنے بدر کی تاریخی فتح کا ایمان افروز منظر تھا۔ جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت کاغلبہ تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے آپ کومُسَلّح کر لیا ‘ یعنی زرہ پوش ہوگئے‘سرِ مبارک پرعمامہ پہن لیا اور تلوار اور تیر کمان سے لیس ہوکر سَکَبْ نامی گھوڑے پر سوار ہوئے ‘ توان صحابۂ کرام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہﷺ! جیسے آپ کی مرضی ہو کیجئے‘ مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا نبی جب جہاد کے لیے تیار ہوکر اسلحہ بند ہوجاتاہے ‘ تو پھر وہ اسلحہ نہیں اتارتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اور (اہم) کاموں میں ان (صحابہ)سے مشورہ کیجئے اور جب آپ (کسی بات کا) عزم کرلیں‘ تواللہ پر توکل کریں ‘ بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتاہے‘‘۔(آل عمران: ۱۵۹)۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لشکرِ اسلام کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا:مہاجرین کا دستہ۔ اس کا پرچم حضرت مصعب بن عمیرؓ کو عطا کیا۔قبیلہ اوس (انصار) کا دستہ۔ اس کا علم حضرت اُسید بن حضیرؓ کو عطا فرمایا۔قبیلہ خزرج(انصار) کا دستہ۔ اس کا عَلَم حباب بن مُنذِرؓ کو عطا فرمایا۔اسلامی لشکر ایک ہزار(۱۰۰۰) مردانِ جنگی پر مشتمل تھا جن میں ایک سو زرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے۔ حضرت اُمِّ مکتومؓ کو اس کام پر مقرر فرمایا گیا کہ وہ مدینے کے اندر رہ جانے والے لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔
راستے میں سے رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو ساتھیوں کے ہمراہ واپس چلا گیا۔ اس موقع پر بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ یہود کے کئی قبائل‘ جو ہمارے حلیف ہیں ‘ ان سے مدد طلب کی جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمیں اس کی حاجت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ ‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ‘ انہیں تو وہی چیز پسند ہے ‘ جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ اُن کی دشمنی تو اُن کی باتوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور جو (نفرت) انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہے ‘ وہ اس سے بھی بہت زیادہ ہے ‘‘۔(آل عمران:۱۱۹)۔
جب اُحُد کے مقام پر لشکر صف آرا ہوئے‘ تو رسول اللہ ﷺ نے ایک وادی میں حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی قیادت میں پچاس تیراندازوں کاایک دستہ مقرر کیا اور ان کو ہدایت جاری کرتے ہوئے فرمایا :” تم لوگ ہمارے لشکر کی عقَبی جانب کی حفاظت کرنا اور کسی بھی صورت میں اپنے مورچے کو خالی نہ کرنا‘یہاں تک کہ اگر (خدانخواستہ) تم دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جارہا ہے ‘تب بھی ہماری مدد کے لیے اپنے مورچے کو نہ چھوڑنا اور اگر تم دیکھو کہ ہم فتح یاب ہوگئے ہیں اور مالِ غنیمت جمع کررہے ہیں ‘تو پھر بھی تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا ‘یعنی ہرصورت میں ہماری عقبی جانب کی حفاظت کرنا ‘‘۔جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے مجاہد دستوں کی اس خاص مقام پر تعیناتی اورفتح ہویا شکست ‘ہر صورت میں اپنی پوزیشن کو نہ چھوڑنے کی تاکید وہدایت ‘ رسول اللہ ﷺ کی حربی مہارت کا واضح ثبوت تھا۔
ابتدا میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور مجاہدین مالِ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے ۔ اس منظر کو دیکھ کر عبداللہ بن جبیرؓ کی قیادت میں متعین مجاہدین کے دستے میں اختلافِ رائے ہوگیا‘ کچھ لوگوں نے کہا کہ فتح مل گئی ہے ‘ مالِ غنیمت سمیٹا جارہا ہے ‘ ہمیں بھی آگے بڑھ کر مالِ غنیمت سمیٹنے میں شریک ہوجانا چاہیے ‘ اب یہاں مورچہ بند رہنے کا کیا فائدہ ؟چنانچہ دس تیر اندازوں کی سوا باقی سب مورچہ چھوڑ کر مالِ غنیمت جمع کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔
جب خالد بن ولید ‘جو اُس وقت تک لشکرِ کفار میں تھے ‘ نے دیکھا کہ عَینَین کی پہاڑی تیر اندازوں سے قریباً خالی ہوچکی ہے ‘ تو وہ اور عِکرمہ بن ابوجہل گُھڑ سواروں کے ہمراہ جبل اُحُد کا چکر کاٹ کر آئے۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھی‘ جو اپنی پوزیشن پر قائم تھے‘ مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ قرآن مجیدنے اس منظر کو یوں بیان کیا:”اور بے شک اللہ نے تم سے کیا ہوا وعدہ سچا کر دیا‘ جب تم (ابتدامیں) اُس کے اِذن سے اُن کافروں کو قتل کررہے تھے ‘ حتی کہ جب تم نے بزدلی دکھائی اور( رسول اللہ کا) حکم ماننے میں اختلاف کیا اور اپنی پسندیدہ چیزوں (مالِ غنیمت) کو دیکھنے کے بعد تم نے (ظاہراً رسول اللہ کی) نافرمانی کی۔ تم میں سے بعض دنیا کا ارادہ کررہے تھے اور بعض آخرت کا ارادہ کررہے تھے ‘ پھر اللہ نے تم کو اُن سے پھیر لیا تاکہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور بے شک اس نے تم کو معاف کردیا اور اللہ ایمان والوں پر بہت فضل (کرنے) والا ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۵۲)۔

وہ مجاہدین جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تاکید کے باوجود عینَین کی پہاڑی کو چھوڑ دیاتھا ‘ اُن کی نیت صحیح تھی ‘ رسول اللہﷺ کی نافرمانی کا ارادہ ہرگز نہیں تھا‘لیکن ان سے اجتہادی خطا ہوئی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ کفار پر فتح پانے کے بعد اب مورچے میں ڈٹے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کواپنی اس اِجتہادی خطا کی بنا پر نظرانداز کردیا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو بے انتہا نقصان اٹھانا پڑا۔رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کو خودبھی تکلیف اٹھانی پڑی ۔آپ کے سامنے کے دندانِ مبارک شہید ہوئے ۔آپ کے رخسارِ مبارک پرزخم آئے۔آپ کے عزیز ترین چچا سیّدالشُّہداء حضرت امیرحمزہ ؓ نہ صرف شہیدہوئے‘ بلکہ اُن کے اعضاء مبارکہ کا مُثلہ کیاگیا‘یعنی اُن کی آنکھیں ‘ناک اور کان کاٹ دیے گئے اور کلیجہ نکال دیاگیا۔ ہندبنت عَتَبۃ زوجہ ابوسفیان نے آپ کا کلیجہ چبایا اوراُسے گلے کا ہار بنایا ۔اس غزوہ میں۷۰جلیل القدر صحابۂ کرام شہید ہوئے ۔اسی انتشار اور عارضی ہزیمت کے دوران آپ کی شہادت کی خبر پھیل گئی ‘ جس سے مسلمان مُضطَرِب ہوگئے۔مجاہدین کے قدم وقتی طورپر ڈگمگاگئے ‘ بالآخر کافی نقصان اٹھانے کے بعد وہ دوبارہ سنبھلے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی موقع پر فرمایا: ” اور محمد ﷺ (اللہ کے) رسول ہی تو ہیں ‘اُن سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ‘تو اگر وہ وفات پاجائیں یا (بفرضِ محال)شہید کردیے جائیں‘ توکیاتم اُلٹے پاؤں (کفرکی جانب ) پلٹ جاؤگے؟‘‘۔(آل عمران:۱۴۴) ۔
درحقیقت حضرت مصعب بن عمیرؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شکل و صورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بہت مشابہ تھی اس لیے کفار یکایک پکارنے لگے کہ محمدؐ (نعوذ باللہ) قتل کر دیئے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا :”اور نہ کمزوری دکھائو اور نہ غمگین ہوجائو اور اگر تم (درحقیقت ) مومن ہو تو (انجامِ کار) تم ہی سربلند رہوگے‘ اگرتمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے ‘تو تمہارے مخالفین بھی (بدرمیں) ایسی ہی تکلیف اٹھاچکے ہیں اور ہم لوگوں کے درمیان ایام کوگردش دیتے رہتے ہیں ‘‘۔(آل عمران:۱۳۸-۱۳۹) یعنی ان امور میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے ‘جس کے تحت عروج وزوال اور فتح وشکست کے ادوار بدلتے رہتے ہیں۔
اس غزوہ کے آغاز میں مسلمان اپنی تعداد پر نازاں تھے۔ ان کا توکل اللہ کی ذات کے علاوہ اپنے ساز و سامان اور تیاری پر تھا۔ اس لیے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اللہ پاک کی طرف سے یہ عارضی شکست ضروری تھی۔ لیکن جب مسلمانوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دوبارہ پکارنے پر اپنی ہمتوں کو جمع کیا اور واپس پلٹے تو اللہ تعالیٰ نے بھی مدد فرمائی اورمسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
جنگ کے بعد مسلمانوں نے اپنے شہداء کی تدفین کا اہتمام کیا آپﷺ نے اپنے زخموں اور ضعف کے باوجود ایک ایک شہید کو اپنی نگرانی میں کفن دلایا اور دفن کرایا۔

copywrites © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...