Wednesday, July 31, 2019

Waseela[وسیلہ]

Waseela[وسیلہ]

وسیلہ


بارگاہِ الٰہی میں نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرنا دعاؤں کی قبولیت، مشکلات کے حل، مصائب و آلام سے چھٹکارے اور دینی و دُنیوی بھلائیوں کے حُصول کا آسان ذریعہ ہے۔مقدس ہستیوں کے بارے میں ہمیں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگا ہ میں مقبول اور محبوب ہیں جیسے کہ انبیائے کرام،صحابہ کرام اور اولیائے کرام وغیرہ ۔اس لئے ان کے وسیلے سے دعا کرنے میں قبولیت کی امید زیادہ ہے۔ قراٰن و حدیث اور اَقوال و اَفعالِ بُزُرگانِ دین سے وسیلہ اِختیار کرنے کا ثُبوت ملتا ہے چنانچہ اللہ ربّ العزّت کا فرمان ہے: ( وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔(پ٦ ، المآئدۃ:۳۵)۔اس آیت کر یمہ میں اللہ تعالی نے خود ہی اپنے بندوں کو اپنی بارگا ہ تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کر نے کا حکم دیا ہے ۔تو معلوم ہوا کہ وسیلہ بلا شبہ جا ئز ہے۔
ہمارے پیارے مدنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے دعا فرمایا کرتے تھے چنانچہ طَبرانی شریف میں ہے: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ وَيَسْتَنْصِرُ بِصَعَالِيکِ الْمُسْلِمِينَ ترجمہ:نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے فتح و نصرت طلب فرماتے تھے۔
امام تقِیُّ الدّین سُبْکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں:”نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کرنا جائز و مستحسن ہے، چاہے ولادتِ باسعادت سے قبل ہو، حیاتِ ظاہری میں ہو یا وِصال مبارک کے بعد ہو۔ اسی طرح آپ علیہ السَّلام سے خاص نسبت رکھنے والے بُزُرگوں کو وسیلہ بنانا بھی جائز و مستحسن ہے۔

حضرت سیّدنا آدم علیہ الصلاۃ وَ السَّلام نے حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کی تو ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:بے شک! محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے حق کے واسطے سے سوال کیا ہے تو میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں: اَنْتَ الَّذِیْ لَمَّا تَوَسَّلَ اٰدَمُ مِنْ زَلَّۃٍ بِکَ فَازَوَھُوَ اَبَاکَ آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ جب جَدِّاعلیٰ آدم علیہ السَّلام نے لَغْزِش کے سبب آپ کا وسیلہ پکڑا تو وہ کامیاب ہوئے۔
دعائے مصطفٰے: نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی والدہ کے لئے یوں دعا کی: اغْفِرْ لِاُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مَدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي۔ ترجمہ: (اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!) میری ماں فاطمہ بنتِ اسد کی مغفرت فرما اور انہیں ان کی حجت سکھااور میرے اور مجھ سے پہلےنبیوں کے حق کے وسیلے سے اس کی قبرکو وسیع فرما۔

بزرگانِ دین اور وسیلہ: بُزُرگانِ دین بھی اپنی دعاؤں میں وسیلہ اِختیار کیا کرتے تھے، مثلاً، امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ قحط کے وقت یوں دعا کیا کرتے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! پہلے ہم تیرے نبی کے وسیلے سے دعا کرتے تھے، اب اپنے نبی کے چچا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں، ہمیں بارش عطا فرما!اس حدیث شریف سے معلوم ہو کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صحابہء کرام کی جماعت کے ساتھ سر کار علیہ السلام کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے ۔مگر کسی صحا بی رسول ﷺ نے اعتراض نہ کیا ۔گو یا وسیلہ کے جواز پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم کا اجماع ہو گیا۔اس لئے اس کے جواز میں کسی مسلمان کو ذرّہ برابر بھی شبہ نہیں ہو نی چاہئے۔
حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت سیّدنا ابنِ اَسْوَد جُرَشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگا کرتے تھے۔علّامہ ابنِ عابِدِین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نبیِّ کریم، رَءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، امام اعظم اور دیگر صالحین علیہ رحمۃ اللہ المُبِین کے وسیلے سے دعا کرتے تھے۔
فرمانِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم: مَنْ تَوَسَّلَ بِیْ اِلَی اللہِ فِیْ حَاجَۃٍ قُضِیَتْ حَاجَتُہ جو مجھے وسیلہ بنا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی حاجت طَلَب کرے اس کی حاجت پوری کی جاتی ہے۔

copywrites © 2019,

Tuesday, July 30, 2019

Jannat[جنّت]

Jannat[جنّت]

جنّت


جنّت کیا ہے؟:جنّت ایک ایسی شاندار و بے مثال جگہ ہے جو اللہ عَزّ َ وَجَلَّ نے ایمان والوں کے لئے بنائی ہےاور اِس میں ایسی نعمتیں رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سُنیں اور نہ ہی کسی دل میں اُن کا خیال آیا۔ جنّت کے بارے میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ صِرْف سمجھانے کےلئے ہوتا ہے، ورنہ دنیا کی اعلیٰ ترین چیز کا بھی جنّت کی کسی نعمت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ جنّت کہاں ہے؟:صحیح ترین قول یہ ہے کہ جنّت ساتویں آسمان کےاوپر ہے۔
جنّتیں کتنی ہیں؟:جنّتیں آٹھ ہیں، جن کے نام یہ ہیں: (۱)دارُالْجَلال (۲)دارُالْقَرار (۳)دارُالسَّلام (۴)جَنّۃُعَدْن (۵)جَنّۃُالْمَاوٰی (٦)جَنّۃُالْخُلْد (۷)جَنّۃُ الْفِرْدَوس (۸)جَنّۃُالنِّعیم۔
جنّت کے بارے میں عقائد: جنّت پیدا ہوچکی ہے، ایسا نہیں ہے کہ بعد میں پیدا ہوگی۔جنّت کا انکار کرنے والا کافِر ہے۔جنّت ہمیشہ رہے گی،کبھی فنا نہ ہوگی۔جنّتی جنّت میں ہمیشہ رہیں گے۔

جنّتی کھانے: جنّت میں جاتے ہی سب سے پہلے جس کھانے کی دعوت ہوگی وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہوگا جو بہت ہی لذیذہوتاہے۔جنّت میں ہر قسم کا لذیذ کھانا موجود ہوگا جو کھانا چاہیں گے فوراً سامنے پیش ہوجائے گا کسی پرندے کو دیکھ کر کھانے کا دل کرے گا تو فوراً بُھنا ہوا حاضِر ہوجائے گا ۔جتنا کھائیں گے لذّت میں اِضافہ ہوتا جائے گا ہر نوالے میں ۷۰ قسم کے الگ الگ ذائقے ہوں گےجو ایک ہی ساتھ محسوس ہوں گے ہر جنّتی کو ۱۰۰آدمیوں کے برابر کھانے کی طاقت دی جائے گی کھانا کھانے کے بعد ایک مُشکبار ڈکار آئے گی، مُشکبار ہی پسینہ نکلے گا اور سب ہَضْم ہوجائے گا۔
جنّتی مشروبات: جنّت میں چار نہریں ہیں: (۱)پانی کی (۲)دودھ کی (۳)شہد کی (۴)پاکیزہ شراب کی ہر نَہْر کا ایک کنارہ موتی کاجبکہ دوسرا یاقوت کاہوگا نَہْروں کی زمین خالص مُشک کی ہوگی۔ جب جنّتی پانی کی نَہْر سے پی لیں گے تو اُنہیں کبھی موت نہ آئے گی، جب دودھ کی نَہْر سے پی لیں گے تو ایسے فربہ ہوجائیں گے کہ کبھی لاغَر نہ ہوں گے، جب شہد کی نَہْر سے پی لیں گے تو کبھی بیمار نہ ہوں گے، جب پاکیزہ شراب کی نَہْر سے پی لیں گے توایسے خوش ہوجائیں گے کہ کبھی غمگین نہ ہوں گے۔ جنّت میں چند چشمے بھی ہیں جن کے نام یہ ہیں: (۱)کافُور (۲)زَنْجَبِیْل (۳)سَلْسَبِیْل (۴)رَحِیْق (۵)تَسْنِیْم۔جب بھی کوئی مشروب پینا چاہیں گے فوراً کوزے ہاتھ میں آجائیں گےجن میں اُن کی خواہش کے مطابق دودھ، شراب یا شہد موجود ہوگا پینے کی طاقت بھی ۱۰۰ آدمیوں کے برابر دی جائے گی۔

copywrites © 2019,

Sunday, July 28, 2019

Taqdeer[تقدیر]

Taqdeer[تقدیر]

تقدیر


تقدیر کیا ہے؟: دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بَدی وہ سب اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔
یہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے ۔لیکن کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری تقدیر میں جیسا لکھ دیا ہے ہمیں مجبورا ویسا ہی کر نا پڑ تا ہے ۔بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم جیسا کر نے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے ویسا لکھ دیا ۔اگر کسی کی تقدیر میں برائی لکھی تو اس لئے کہ وہ اپنے اختیار سے برائی کر نے والا تھا اگر وہ بھلائی کر نے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی تقدیر میں بھلائی لکھتا ۔ تقدیرکا ثبوت قراٰن وحدیث میں موجود ہے جیساکہ اس آیتِ مبارکہ میں ہے: (اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(۴۹) ترجمۂ کنزالایمان:بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔(پ۲۷،القمر:۴۹)۔
تقدیر کا انکار کفرہے۔حضوراکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےتقدیرکاانکار کرنے والوں کواس”اُمّت کا مجوس“قرار دیاہے۔حضورِ اکرم، سیّدِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِیمان کےمتعلق پوچھنے والےکےجواب میں چھ چیزیں اِرشاد فرمائیں:(۱)اللہ عَزَّوَجَلَّ(۲)فرشتوں(۳)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نازل کردہ کتابوں (۴)رسولوں (۵)قیامت کے دن اور (٦)اچھی یا بُری تقدیر کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہونے پر ایمان لانا۔

یاد رہے کہ عقیدۂ تقدیر، اسلامی عقائد میں نہایت نازُک اورپیچیدہ ہے۔ اس کے بارے میں بحث کرنے، کیوں؟ اور کیسے؟ کی طرح کے سوالات کرنے سے منع کیا گیاہے جیساکہ ترمذی شریف میں ہے: حضرت سیّدناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نےفرمایا کہ حضورِاکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔
تقدیر پرایمان کے فوائد: مصائب وبیماریوں میں صبر کرنا اور خود کشی جیسےحرام کام سے محفوظ رہنا، کیونکہ ان کاآنا تقدیر کے مطابق اورآزمائش ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تقسیم اور مشیئت پر راضی رہنا۔انسان ماضی کی محرومیوں پَر پُرملال، حال کے حالات میں پریشان اورمستقبل سے خوف زدہ نہیں رہتا۔ تقدیر پر ایمان لانے والا مخلوق کے بجائے خالق سے لَو لگاتاہے۔ تقدیر پر ایمان”حسد“ کا بہترین علاج ہے۔
ہمیں یہ سوچ کر نہیں بیٹھ جانا چا ہئے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا پھر ہم کیوں محنت و مشقت کر یں ؟بلکہ تقدیر پر یقین رکھنے کے ساتھ ہمیں عمل کرنا چاہئے کیونکہ ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے ۔

copywrites © 2019,

Asmani Kitabain[آسمانی کتابیں]

Asmani Kitabain[آسمانی کتابیں]

آسمانی کتابیں


جس طرح قراٰنِ پاک پر ایمان لانا ہرمُکَلَّف (عاقِل،بالِغ، مسلمان)پر فَرْض ہے اسی طرح اُن کُتُب پر اِیمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے قَبْل انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام پر نازِل فرمائیں، اَلْبَتَّہ اُن کے جو اَحکام ہماری شریعت میں مَنْسُوخ ہو گئے اُن پرعمل دُرُست نہیں مگر اِیمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قِبْلَہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیتُ الْمقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، (یہ حکم)مَنْسُوخ ہو چکا۔ قراٰنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سےاُس کے اَنْبِیَاپر نازل ہوا اُن سب پر مختصراً ایمان لانا فرضِ عین ہے۔اِس طرح کہ جو کتابیں اللہ تعالٰی نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس بطریقِ وحی بھیجیں بے شک و شبہہ سب حق و صدق اور اللہ کی طرف سے ہیں۔قراٰن شریف پرمختصراًیوں ایمان رکھنا فرض ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بَرْحَق ہے۔جبکہ قراٰن کا تفصیلاً علم حاصل کرنافرضِ کفایہ ہے۔ اللہ تعالٰی نے بعض نبیوں پر صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں، جن کی تعدادتقریباً۱۰۴ہے۔ اُن میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں: ’’تَوْرَات‘‘حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر، ’’زَبُوْر‘‘حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام پر، ”اِنجیل“ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر، ’’قرآنِ عظیم‘‘ کہ سب سے افضل کتاب ہے، سب سے افضل رسول حضور پُر نور احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر۔

قراٰنِ پاک تبدیلی سے محفوظ ہے، چونکہ یہ دین ہمیشہ رہنے والا ہےلہٰذا قراٰنِ عظیم کی حفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ذِمّہ رکھی اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ[سورۃالحجر:۹](ترجمہ:بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور بے شک ہم ضرور اس کی حفاظت کر نے والے ہیں)۔ جبکہ’’اگلی کتابوں کی حِفاظت اللہ تعالٰی نے اُمّت کے سِپُرد کی تھی، اُن سے اُس کا حِفظ(تحفُّظ)نہ ہو سکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں وَیسا ہی باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تبدیلیاں کر دیں، یعنی اپنی خواہش کے مطابِق ردو بدل اورگھٹا بڑھا دیا۔ لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ہماری کِتاب (قراٰنِ مجید)کے مطابِق ہے، ہم اُس کی تَصدیق کریں گے اور اگر مخالِف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تبدیلیوں سے ہے اور اگرمُوافَقَت مخالَفَت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تَصْدِیق کریں نہ جُھٹلائیں بلکہ یوں کہیں کہ:اٰمَنْتُ بِاللہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۔ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) اور اُس کے فِرِشْتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ہمارا اِیمان ہے“۔
قراٰن میں کسی حرف یا نقطہ کی کمی بَیشی ناممکن ہے، اگرچہ تمام دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے تو جو یہ کہے کہ اس میں کے کچھ پارے یا سورتیں یا آیَتیں بلکہ ایک حرف بھی کسی نے کم کر دیا، یا بڑھا دیا، یا بدل دیا، قطعاً کافر ہے۔
اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ قرآن میں کوئی تضاد و اختلاف نہیں ہے اور اگر کہیں ہمیں ایسا لگتا ہے تو یقینا یہ ہماری سمجھ ہی کی غلطی ہے ۔ایسی صورت میں ہمیں علماء کی طرف رجوع کر نا چاہیئے۔

copywrites © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...