Friday, August 30, 2019

hashar wa nashar [حَشْر ونَشْر]

hashar wa nashar [حَشْر ونَشْر]

حَشْر ونَشْر


حَشْر ونَشْر کسے کہتے ہیں؟ ’’نَشْر‘‘ کا معنیٰ ہے موت کے بعد مخلوق کوزندہ کرنا جبکہ’’ حَشْر‘‘ کا معنیٰ ہے انہیں میدانِ حساب اور پھر جنّت و دوزخ کی طرف لے جانا۔ انکار کرنے والے کا حکم حشر ونشر کا عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ اس بات پر اُمّت کا اجماع ہے کہ حشر و نشر کا انکا رکرنے والا کافر ہے۔
حشر کس کا ہو گا؟ حشر صرف رُوح کا نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں کا ہے، جو کہے صرف رُوحیں اٹھیں گی جسم زندہ نہ ہوں گےوہ بھی کافر ہے۔دنیا میں جو رُوح جس جسم کے ساتھ متعلّق تھی اُس رُوح کا حشر اُسی جسم میں ہوگا، یہ نہیں کہ کوئی نیا جسم پیدا کرکے اس کے ساتھ روح متعلّق کر دی جائے۔ جنہیں جانوروں نے کھالیا مرنے کے بعد جسم کے اجزا اگرچہ بِکھر گئے ہوں یا مختلف جانوروں کی غذا بن گئے ہوں اﷲ پاک ان سب اَجزا کو جمع فرماکر قِیامت کے دن اُٹھائے گا۔
نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:قیامت کے دن لوگ اپنی قبروں سے ننگے بدن،ننگے پاؤں،ناختنہ شُدہ اُٹھیں گے۔ (مسلم) ضَروری وضاحت یاد رہے! یہ خطاب اُمّت کو ہے جس کا ظاہر یہ ہے کہ حضراتِ انبیاءِ کرام (علیہم السَّلام) سب مستثنیٰ (یعنی اس سے الگ) ہیں اور وہ سب بِفَضْلِہٖ تعالٰی لباس میں ہوں گے۔

حضرتِ سیّدُنا امام بیہقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے مختلف روایات میں یوں تَطْبِیق بیان فرمائی ہے کہ کچھ لوگ بے لباس ہوں گے جبکہ بعض لوگوں نے لباس پہنے ہوں گے۔ فقیہِ اعظم حضرت علّامہ مفتی محمد نوراللہ نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی فرماتے ہیں:سب صحابۂ کرام اور اولیاءِ عظام بھی لباس میں ہوں گے۔نیز شہید اور خَواصّ مَؤمنین لباس میں ہوں گے۔
حشر میں لوگوں کی حالتیں حضرت علّامہ ابراہیم بیجوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:حشر میں لوگوں کے مَرتبے جُدا جُدا ہوں گے: مُتقی سُوار ہوں گے، تھوڑے عمل والے لوگ پیدل ہوں گے جبکہ کافر منہ کے بَل چلتے ہوں گے۔نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا گیا کہ کافر مُنہ کے بل کیسے چلیں گے؟ تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جس ذات نے انہیں قدموں پر چلایا وہ منہ کے بَل چلانے پر بھی قادر ہے۔ (ترمذی) کسی کو ملائکہ گھسیٹ کر لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی(یعنی میدانِ محشر میں لے جائے گی)۔
سب سے پہلے! ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سب سے پہلے قبرِ انور سے یوں باہر تشریف لائیں گے کہ دَہنے ہاتھ میں حضرتِ سیّدنا صدیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں حضرتِ سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہاتھ ہوگا۔(ترمذی) پھر مکۂ مُعظمہ و مدینۂ طیبہ کے مَقابِر (قبرستانوں) میں جتنے مسلمان دَفْن ہیں، سب کو اپنے ساتھ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔( ترمذی ) پھر اہلِ شام اور باقی لوگ اپنی اپنی قَبْروں سے باہر آئیں گے۔

حشر کہاں ہو گا؟یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گِر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے۔زمین بدل دی جائے گی: قراٰنِ پاک میں ارشاد ہے:( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ) ترجمۂ کنزالایمان: جس دن بدل دی جائے گی زمین اِس زمین کے سوا اور آسمان۔(پ۱۳،ابرٰھیم:۴۸)۔
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں ذکر کئے جانے والے مختلف اقوال کے بارے میں امام جلالُ الدّین عبدالرحمن سُیوطی علیہ رحمۃ اللہ القَوی حافظ ابنِ حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی سے یوں نقل فرماتے ہیں: زمین کا روٹی ہونا ، غبار والا ہونا اور آگ بن جانا جو احادیث میں آیا ہے اس میں کوئی مُنافات (ٹکراؤ) نہیں، بلکہ ان کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ بعض زمین کے ٹکڑے روٹی، بعض غبار، اور بعض آگ ہوجائیں گےاور آگ ہونے والا قول سمندر کی زمین کے ساتھ خاص ہے(کہ سمُندر کی زمین آگ کی ہوجائے گی)۔تفسیرِ مظہری میں ہے: ہوسکتا ہے کہ مؤمنین کے قدموں کی جگہ روٹی ہوجائے اور کفّار کے قدموں کی جگہ غُبار والی اور آگ والی ہوجائے۔

islamic events © 2019,

Thursday, August 29, 2019

rooh[رُوح]

rooh[رُوح]

رُوح


رُوح کیا چیز ہے؟ اللہ پاک کا قراٰنِ پاک میں ارشاد ہے: (قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۵))ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(پ۱۵،بنی اسرآءیل:۸۵))۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو رُوح کے بارے میں علم نہ ہو حالانکہ اللّٰہ پاک نے یہ ارشاد فرما کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پراحسان فرمایا ہے:(وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)) ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ۵، النسآء: ۱۱۳)) نبیِّ کريم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پردہ فرمانے سے پہلے اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کورُوح اور اس کے علاوہ ہر مُبْہَم چیز کا علم عطا فرما دیا تھا۔
روح کو فنا نہیں یاد رہے! موت کے معنی روح کا جسم سے جدا ہو جانا ہیں،نہ یہ کہ روح مَر جاتی ہے، جو روح کو فنا مانے،بد مذہب ہے۔موت کے بعد روح کی جاننے ،سننے اور دیکھنے کی صلاحیت نہ صرف باقی رہتی ہے بلکہ پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔روح کا جسم سے تعلق مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدنِ انسان کے ساتھ باقی رہتا ہے، اگرچہ روح بدن سے جُدا ہو گئی مگر بدن پر جو گزرے گی رُوح ضرور اُس سے آگاہ و متأثر ہوگی جس طرح حیاتِ دنیا میں ہوتی ہے، بلکہ اُس سے زائد۔

روحوں کے بارے میں عمومی خیالات عام طور پر اس طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں مکان میں رُوح کا ڈیرا ہے ،وہ مار دیتی ہے،فلاں جگہ ایک آدمی قتل ہوا تھا وہاں اس کی روح بھٹک رہی ہے،قتل ہونے والوں کی روحیں دنیا میں بھٹکتی رہتی ہیں،اس حویلی میں کافر روحوں کا بسیرا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بے سَروپا تَوَہُّمات ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلّق نہیں، وفات کے بعد مؤمنین کی روحیں ”رِمیائیل“ نامی فرشتے کےحوالےکی جاتی ہیں، وہ مؤمنین کی روحوں کے خازِن ہیں۔ جبکہ کفّار کی روحوں پر مقرر فرشتے کا نام”دَومہ“ہے۔
روحوں کے مقامات کافروں کی روحیں مخصوص جگہوں پر قید ہوتی ہیں جبکہ مسلمانوں کی روحوں کے مختلف مقامات بھی مُقَرّر ہیں اور انہیں اورمقامات پرجانے کی اجازت بھی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُناامام مالک علیہ رحمۃ اللہ الخالِق فرماتے ہیں:مؤمنوں کی اَرواح آزاد ہوتی ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔
نبیّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مؤمنین کی اَرواح سبز پرندوں میں ہوتی ہیں، جنّت میں جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں۔ عرض کی گئی:اور کافروں کی روحیں؟ ارشاد فرمایا: سِجّین میں قید ہوتی ہیں۔

مرنے کے بعد مسلمان کی روح حسبِ مرتبہ مختلف مقاموں میں رہتی ہے، بعض کی قبر پر ، بعض کی چاہِ زمزم شریف(یعنی زم زم شریف کے کنویں ) میں، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان، بعض کی پہلے، دوسرے، ساتویں آسمان تک اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند اور بعض کی روحیں زیرِ عرش قِنْدیلوں میں اور بعض کی اعلیٰ عِلّیِّین میں مگر کہیں ہوں اپنے جسم سے اُن کو تعلّق بدستور رہتا ہے۔ جو کوئی قبر پر آئے اُسے دیکھتے، پہچانتے، اُس کی بات سنتے ہیں بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں، اِس کی مثال حدیث میں یہ فرمائی ہے کہ ایک طائر (پرندہ) پہلے قَفَس (پنجرے) میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا۔
خبیث روحیں کافروں کی خبیث روحوں کے بھی مقام مقرّر ہیں وہ آزاد نہیں گھومتیں بلکہ بعض کی اُن کے مَرگھٹ (مردے جلانے کی جگہ) یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہِ برہُوت میں کہ یمن میں ایک نالہ(یعنی وادی) ہے ، بعض کی پہلی، دوسری، ساتویں زمین تک، بعض کی اُس کے بھی نیچے سجّین میں اور وہ کہیں بھی ہو، جو اُس کی قبر یا مرگھٹ پر گزرے اُسے دیکھتے، پہچانتے، بات سُنتے ہیں، مگر کہیں جانے آنے کا اختِیار نہیں، کہ قید ہیں۔
یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسُخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔
جانوروں کی روحیں جانوروں کی اَرواح کے متعلّق علما کے کئی اقوال ہیں۔تفسیرِ روح المعانی میں ہے:جانوروں کی اَرواح ہوا میں مُعَلَّق رہتی ہیں یا جہاں اللہ پاک کو منظور ہوتا ہے وہاں رہتی ہیں اور ان کا اپنے جسموں سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا۔

islamic events © 2019,

Wednesday, August 28, 2019

hazrat sayyiduna umar farooq e azam R.A[حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ]

hazrat sayyiduna umar farooq e azam R.A[حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ]
hazrat sayyiduna umar farooq e azam R.A[حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ]

امامُ العادِلین،غیظُ المنافقین ،امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ


خلیفۂ دُوُم حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کُنْیَت’’ابوحَفْص‘‘ اور لقَب ’’فاروقِ اَعظم‘‘ہے۔آپ کی ولادت واقعہ فیل کے ۱۳/ سال بعد مکہ شریف میں ہوئی ۔ ایک روایت میں ہے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۳۹ مردوں کے بعد، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دُعا سے اِعلانِ نُبُوَّت کے چھٹے سال میں ایمان لائے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام قَبول کرنے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اوراُن کو بَہُت بڑا سہارا مل گیا یہاں تک کہ حُضُور رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر حَرَمِ محترم میں اِعْلانِیہ نَماز ادا فرمائی۔
حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خَطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِسلامی جنگوں میں مُجاہِدانہ شان کے ساتھ کُفّارِ نا ہبخار سے بر سرِپَیکار رہے اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام اسلامی تحریکات اورصُلْح وجنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں وزیر ومُشیر کی حیثیَّت سے وفادار ورفیقِ کار رہے۔حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خَطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد تمام صَحابۂ کِرام عَلَيْهِمُ الّرِّضْوَان سے اَفضل ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد ۵۳۷ ہے۔

خلیفۂ اوّل ، امیرُالْمُؤمِنِین ،حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بعدحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ مُنتخَب فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تختِ خِلافت پر رَونق اَفروز رہ کر جانَشینی ٔ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام تر ذِمّے داریوں کو بَطریقِ اَحْسن سر اَنجام دیا۔مسندِ خلافت پر دس سال چھ ماہ تک فائز رہے۔دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزاراورتیس مربع میل پر پھیل گیا۔
فضائل ومناقب:حضور رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔[تر مذی]۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے “حق” عمر کے زبان اور دل پر رکھ دیا ہے. [ترمذی]۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے۔تو میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرئیل اور میکا ئیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔۔[ترمذی]۔حضور نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ:ابو بکر اور عمر اگلے اور پچھلےتمام جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں ،سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔[ترمذی]۔

تاریخِ عالَم کے اس عظیم حکمران کی پوری زندگی عزّت و شرافت اور عظمت کے کارناموں کی اعلیٰ مثال تھی، ۲٦ذو الحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، جب لوگ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اٹھا کر آپ کے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی ہوش میں آتے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ حضرتِ صُہَیْب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور گوہرِ نایاب ، فیضانِ نُبُوَّت سے فَیضیاب خلیفۂ رسالت مآب حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روضۂ مُبارَکہ کے اندریکم مُحَرَّمُ الْحرام ۲۴ ہجری اتوار کے دن حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلوئے اَنور میں مَدفون ہوئے جو کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پہلوئے پاک میں آرام فرما ہیں۔ بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عُمْر مبارک ٦۳برس تھی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم۔۔۔

islamic events © 2019,

Tuesday, August 27, 2019

hisab o kitab[حساب و کتاب]

hisab o kitab[حساب و کتاب]

حساب و کتاب


عقیدہ حساب حق ہے،یعنی قراٰن و سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔ مومن ،کافر،انسان اور جنّات سب کا حساب ہو گا سوائے اُن کے جن کا اِسْتِثْناء کیا گیا ہے۔حساب کا منکر کافر ہے۔
حساب کیا ہے؟ حساب کا لغوی معنیٰ ہے ”شمار کرنا“ اور اصطلاحی معنیٰ ہے ”اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو محشر سے پلٹنے سے پہلے اُن کے اعمال پر آگاہ کرنا“ ۔
حساب کی کیفیت ہر ایک سے حساب کی کیفیت مختلف ہوگی،کسی کا آسانی سے، کسی کا سختی سے، کسی کا خُفیہ، کسی کا اعلانیہ، کسی کا ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ اور کسی کا فضل تو کسی کا عدل کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔
حساب کی سختی فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: ایک شخص کو حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا تو اسے اس قدر پسینہ آئے گا کہ اگر ۱۰۰۰پیاسے اونٹ اسے پئیں تو اچھی طرح سیراب ہو جائیں۔
اعمال میں سب سے پہلے کس چیز کا حساب ہو گا؟ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانےکےمتعلّق فیصلہ کیا جائے گا۔ جبکہ ایک فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہے: سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا۔
نعمتوں میں پہلے کس کا حساب؟ فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: قیامت میں نعمتوں کے متعلّق بندے سے پہلا سوال جو ہوگا وہ یہ کہ اس سے کہا جائے گا: کیا ہم نے تیرے جسم کو صحت نہیں بخشی اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سےسیرنہیں کیا؟ حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:یعنی دوسری نعمتوں کے مقابلہ میں ان نعمتوں کا حساب پہلے ہوگا۔
حساب سے جلد نجات پانے والا سرکار مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اے لوگو! بے شک بروز قیامت اس کی دہشتوں (یعنی گھبراہٹوں ) اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہو گا جس نے تم میں سے مجھ پر دُنیا کے اندر بکثرت درود شریف پڑھے ہوں گے۔
بلا حساب جنّت میں داخلہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میری اُمّت سے 70 ہزار بےحساب جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ ۷۰ ہزار اور اللہ کریم ان کے ساتھ تین جماعتیں اور کردے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...