Thursday, June 20, 2019

**** کلام:مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے ****

کلام سنیے




مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے 
مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے 

مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے 
بنے دل تیرا ٹھکانہ مدنی مدینے والے  

تری جب کہ دید ہو گی جبھی میری عید ہو گی 
مرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے  

مجھے سب ستا رہے ہیں مرا دل دکھا رہے ہیں 
تمہی حوصلہ بڑھانا مدنی مدینے والے  

مرے سب عزیز چھوٹے سبھی یار بھی تو روٹھے 
کہیں تم نہ روٹھ جانا مدنی مدینے والے  

میں اگرچہ ہوں کمینہ ترا ہوں شہ مدینہ 
مجھے سینے سے لگانا مدنی مدینے والے  

ترے در سے شاہ بہتر ترے آستاں سے بڑھ کر 
ہے بھلا کوئی ٹھکانہ مدنی مدینے والے  

ترا تجھ سے ہوں سوالی شہا پھیرنا نہ خالی 
مجھے اپنا تم بنانا مدنی مدینے والے  

یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفاء ہے 
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے  

تُو ہی انبیاء کا سرور تُو ہی جہاں کا یاور 
تُو ہی رہبرِ زمانہ مدنی مدینے والے  

تُو ہے بیکسوں کا یاور اے مرے غریب پرور 
ہے سخی تیرا گھرانا مدنی مدینے والے  

تُو خدا کے بعد بہتر ہے سبھی سے میرے سرور 
ترا ہاشمی گھرانہ مدنی مدینے والے  

تیری فرش پر حکومت تری عرش پر حکومت 
تُو شہنشہ زمانہ مدنی مدینے والے  

ترا خلق سب سے اعلیٰ ترا حسن سب سے پیارا 
فدا تجھ پہ سب زمانہ مدنی مدینے والے  

کہوں کس سے آہ! جاکر سنے کون میرے دلبر 
مرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے  

بعطائے رب دائم تُو ہی رزق کا ہے قاسم 
ہے ترا سب آب و دانہ مدنی مدینے والے  

میں غریب بے سہارا کہاں اور ہے گزارا 
مجھے آپ ہی نبھانا مدنی مدینے والے  

یہ کرم بڑا کرم ہے تیرے ہاتھ میں بھرم ہے 
سر حشر بخشوانا مدنی مدینے والے  

کبھی جو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی 
ترا ایسا سادہ کھانا مدنی مدینے والے  

ہے چٹائی کا بچھوانا کبھی خاک ہی پہ سونا 
کبھی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے  

تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں 
ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے  

ملے نزع میں بھی راحت، رہوں قبر میں سلامت 
تُو عذاب سے بچانا مدنی مدینے والے  

اے شفیع روزِ محشر! ہے گنہ کا بوجھ سر پہ 
میں پھنسا مجھے بچانا مدنی مدینے والے  

گھپ اندھیری قبر میں جب مجھے چھوڑ کر چلیں سب 
مری قبر جگمگانا مدنی مدینے والے  

مرے شاہ! وقتِ رخصت مجھے میٹھا میٹھا شربت 
تیری دید کا پلانا مدنی مدینے والے  

پس مرگ سبز گنبد کی حضور ٹھنڈی ٹھنڈی 
مجھے چھاؤں میں سُلانا مدنی مدینے والے  

مرے والدین محشر میں گو بھول جائیں سرور 
مجھے تم نہ بھول جانا مدنی مدینے والے  

شہا! تشنگی بڑی ہے یہاں دھوپ بھی کڑی ہے 
شہ حوض کوثر آنا مدنی مدینے والے  

مجھے آفتوں نے گھیرا، ہے مصیبتوں کا ڈیرہ 
یانبی مدد کو آنا مدنی مدینے والے  

ترے در کی حاضری کو جو تڑپ رہے ہیں اُن کو
شہا! جلد تم بلانا مدنی مدینے والے

کوئی اِس طرف بھی پھیرا ہو غموں کا دور اندھیرا 
اے سراپا نور! آنا مدنی مدینے والے  

کوئی پائے بخت ورگر ہے شرف شہی سے بڑھ کر 
تری نعل پاک اٹھانا مدنی مدینے والے  

مرا سینہ ہو مدینہ مرے دل کا آبگینہ 
بھی مدینہ ہی بنانا مدنی مدینے والے  

اے حبیب رب باری، ہے گنہ کا بوجھ بھاری 
تمہیں حشر میں چھڑانا مدنی مدینے والے  

مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سنتوں کا پیکر 
مجھے متقی بنانا مدنی مدینے والے  

شہا! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں 
تیری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے  

ترے نام پر ہو قرباں مری جان، جانِ جاناں  
ہو نصیب سر کٹانا مدنی مدینے والے 

تیری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر 
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے  

ہیں مبلغ آقا جتنے، کرو دور اُن سے فتنے 
بری موت سے بچانا مدنی مدینے والے  

مرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ 
اُنھیں خلد میں بسانا مدنی مدینے والے  

مرے جس قدر ہیں احباب اُنھیں کر دیں شاہ بیتاب 
ملے عشق کا خزانہ مدنی مدینے والے  

مری آنے والی نسلیں ترے عشق میں ہی مچلیں 
اُنھیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے  

ملے سنتوں کا جذبہ مرے بھائی چھوڑیں مولا
سبھی داڑھیاں منڈانا مدنی مدینے والے  

مری جس قدر ہیں بہنیں سبھی کاش برقع پہنیں 
ہو کرم شہ زمانہ مدنی مدینے والے  

دو جہان کے خزانے دئیے ہاتھ میں خدا نے 
تیرا کام ہے لٹانا مدنی مدینے والے  

ترے غم میں کاش عطار، رہے ہر گھڑی گرفتار 
غمِ مال سے بچانا مدنی مدینے والے

کلام:حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری

Wednesday, June 19, 2019

**** نماز تحیۃ الو ضو اور تحیۃ المسجد ****

نماز تحیۃ الو ضو


نبی کریم، رء وف رَحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارشادفرمایا: “جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت پڑھے، اس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔” (صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوئ، الحدیث:۲۳۴،۱۴۴)۔
وضو کے بعد اعضا خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے، غسل کے بعد بھی دو رکعت نماز مستحب ہے۔ وضو کے بعد فرض وغیرہ پڑھے تو قائم مقام تحية الوضوکے ہوجائیں گے۔ (ردالمحتار،کتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل، مطلب سنة الوضوء، ج۲، ص۵٦۳)۔
بہتر تو یہ ہے کہ جب بھی وضو کرے تو وضو کے بعد یہ دو رکعت نماز پڑ ھ لے۔کیو نکہ اس کے بڑے فائدے حدیث شر یف میں آئے ہیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:ایک صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا اور فر مایا کہ:اےبلال !کس عمل کی وجہ سے تم گذشتہ رات جنت میں میرے آگے آگے چل رہے تھے میں نے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہوں۔اور جب بھی میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں اسی وقت وضو کر لیتا ہوں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اسی وجہ سے۔[ المستد رک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،ذکر بلال بن رباح،موذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث:۵۲۴۵ ]۔
جس طرح سے دو رکعت نفل نماز پڑ ھی جاتی ہے ٹھیک اُسی طرح سے دو رکعت نماز تحیۃ الوضو بھی ادا کی جاتی ہے۔فر ق صرف نیت کا ہے۔

نمازتحیۃ المسجد


حضرت سیدنا ابو قـت ادہ رضی اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: “جو شخص مسجد میں داخل ہو، بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے۔” (صحيح البخاري، کتاب الصلاة، باب اذا دخل المسجد ۔الخ، الحديث:۴۴۴، ج۱، ۱۷۰)۔
جو شخص مسجد میں آئے اسے دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ چار پڑھے، اگر ایسے وقت مسجد میں آیا جس میں نفل نماز مکروہ ہے مثلاً بعد طلوع فجر یا بعد نماز عصر تو وہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے بلکہ تسبیح و تہلیل و درود شریف میں مشغول ہو، حق مسجد ادا ہو جائے گا۔ (ردالمحتار،کتاب الصلاة، باب الوتروالنوافل، مطلب في تحية المسجد،ج۲، ص۵۵۵)۔
ہر دن ایک بار تحیۃ المسجد کی نماز پڑھ لینا کافی ہے ہر بارضرورت نہیں۔

copywrites © 2019,

Tuesday, June 18, 2019

**** سورج گرہن اور چاند گرہن ****

سورج اور چاند گرہن


سورج اور چاند گرہن کے بارے میں لوگ اِفراط و تفریط کاشکار نظر آتے ہیں ۔ کہیں تو سورج گرہن کا (مخصوص شیشوں کے ذریعے)نظارہ کرنے کے لئے پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں اور کہیں گرہن کے بارے میں مختلف تصورات وتوہُّمات پائے جاتے ہیں ،مثلاً: گرہن کے وَقْت حاملہ خواتین کو کمرے کے اندر رہنے اور سبزی وغیرہ نہ کاٹنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ ان کے بچے کسی پیدائشی نَقْص کے بغیر پیدا ہوں، گرہن کے وَقْت حاملہ خواتین کو سلائی کڑھائی سے بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے بچے کے جسم پر غَلَط اثر پڑسکتا ہے۔
لوگوں کا ایک غَلَط خیال یہ بھی ہے کہ جب سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے تو حاملہ گائے، بھینس، بکری اور دیگر جانوروں کے گلے سے رسی یا زنجیر کھول دینی چاہئے تاکہ ان پر بُرا اثر نہ پڑے ، بعض علاقوں میں گرہن کے وَقْت ضعیفُ الْاِعتقاد اَفراد خودکو کمروں میں بند کرلیتے ہیں تاکہ بقول ان کے وہ گرہن کے وَقْت خارِج ہونے والی نقصان دہ لہروں سے بچ سکیں ، بعض معاشروں میں جس دن گرہن لگتا ہے اکثر لوگ کھانا پکانے سے گُریز کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ گرہن کے وَقْت خطرناک جراثیم پیدا ہوتے ہیں ، کئی مشرقی ملکوں میں عِلْم نجوم کے ماہرین سورج گرہن سے منسلک پیشن گوئیاں کرتے ہیں جن میں کسی تباہی یا نقصان کی نشان دہی کی جاتی ہے،مثلاً چوری، اغوا، قتل وغارت، خودکشیاں اور تشدد کے واقعات بالخصوص خواتین کی اموات میں اضافہ، لاقانونیت اور بے انصافی کے واقعات کثرت سے ہونے کی پیشن گوئی کی جاتی ہے ۔ الغرض مشرق و مغرب،ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا میں ہر جگہ سورج اور چاند گرہن کے انسان پر مضر اثرات کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔
عرب معاشرے میں بھی سورج اورچاند گرہن کے متعلق عام خیال تھا کہ یہ کسی بڑے واقعہ مثلاً کسی کی وفات یا پیدائش پر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جب دنیا کے نقشے پر اسلام کی اِنقلابی دعوت اُبھری تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان توہمات کو خَتْم کیا۔جس دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ انتقال کر گئے اسی دن سورج میں گہن لگا۔

بعض لوگوں نے خیال کیا کہ یہ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غم میں واقع ہوا ہے،چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کوسورج گہن کی نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے اِرشادفرمایا: سورج اور چانداللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پکارو، اس کی بڑائی بیان کرو ، نمازپڑھو اور صدقہ دو۔(بخاری،کتاب الکسوف،باب الصدقۃ فی الکسوف ۱/۳۵۷،۳٦۳ ،حدیث :۰۴۴،۱۰٦۰،ملخصاً)۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز


سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور چاند گہن کی مستحب۔ سورج گہن کی نماز جماعت سے پڑھنی مُسْتَحَب ہے اور تنہا تنہا بھی ہو سکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائط جمعہ اس کے لیے شرط ہیں ، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جمعہ کی کر سکتا ہے، وہ نہ ہو تو تنہا تنہا پڑھیں ، گھر میں یا مسجد میں۔ (بہار شریعت،۱/۷۸۷)۔
جب سورج یا چاند کو گہن لگے تومسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس نظارے سے محظوظ ہونے اور توہمات کا شکار ہونے کے بجائے بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طَلَب کریں ،اس یومِ قیامت کو یاد کریں جب سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے اور ستارے توڑدئیے جائیں گے اور پہاڑ لپیٹ دئیے جائیں گے ۔
یہ نماز اور نفلی نمازوں کی طرح دو رکعت پڑ ھیں۔اِس میں نہیں اذان ہے اور نہیں اقامت،نہیں بلند آواز سے قرأت۔نماز کے بعد دعا کرتے رہیں یہاں تک گہن ختم ہو جائے۔اگر کوئی چاہے تو دو رکعت سے زیادہ بھی پڑ ھ سکتا ہے چاہے تو دودو رکعت پر سلام پھیرے اور چاہے تو چار پر،تیز آندھی آئے یا دن میں اند ھیرا چھا جائے یا رات میں خوفناک روشنی ہو یا لگاتار بہت زیادہ بارش ہو یا آسمان لال ہو جائے یا بجلیاں گریں یا کثرت سے تارے ٹوٹیں یا کوئی وبا وغیرہ پھیل جائے یا زلزلہ آئے یا دشمن کا خوف ہو یا اور کوئی دہشت ناک بات پائی جائے تو اِن سب صورتوں میں دو رکعت نماز پڑ ھنا مستحب ہے۔

copywrites © 2019,

Monday, June 17, 2019

**** نمازِ چاشت اور نمازِ اشراق ****

نمازِ چاشت


حدیث پاک میں ہے:” جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔” (سنن مذي،کتاب الوتر، باب ماجاء في صلاة الضحيٰ، الحديث:۴۷۲، ج۲، ص۱۷)۔
حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہِ الصلاۃ والتسلیم ارشاد فرماتے ہیں : آدمی پر اسکے ہر جوڑ کے بدلے صدقہ ہے (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں) ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور لَآ اِلٰـهَ اِلَّا اللّٰهُ کہنا صدقہ ہے اور اَللهُ اَکْبَرْ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایت کرتی ہیں۔(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسا فرین، باب استحباب صلاۃ الضحٰی۔۔۔الخ، الحدیث:۷۲۰،ص۳٦۳)۔
نماز چاشت کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں، اس کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النہار شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔
حدیث شریف میں ہے کہ جو چاشت کی دو رکعتوں پر محافظت کرے اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دئیے جائیں گے اگر چہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔(ترمذی)۔


نمازِ اشراق


طلوعِ آفتاب یعنی آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے کے بعد جب اس پر نگاہ خیر ہونے لگے (اور اس کی مقدار بیس منٹ ہے) اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے اس وقت دو یا چار رکعت پڑھنا ثواب عظیم کا موجب ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ:جو شخص فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے تو وہ دو رکعت [نماز اشراق]پڑھے تو اُسے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔[ترمذی،ابواب السفر،باب ماذکر مما یستحب من الجلوس فی المسجد۔۔۔الخ،حدیث:۵۸٦]۔

copywrites © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...