Wednesday, November 27, 2019

matehatO[ماتحتوں]

matehatO[ماتحتوں]

ماتحتوں


اس دنیا کا رنگ ہے کہ کوئی حاکم ہے تو کوئی محکوم، کوئی آقا ہے تو کوئی غلام، کوئی بادشاہ ہے تو کوئی رعایا، کوئی غنی ہے تو کوئی فقیر۔ مقام و مرتبہ کا یہ فرق اس لئے ہرگز نہیں کہ ذی مرتبہ کم حیثیت شخص کو نیچ اور حقیر سمجھے بلکہ درجات و مقامات کی یہ اونچ نیچ کارخانۂ دنیا کو چلانے اور انسانی ضروریات کی تکمیل کی ضامن ہے۔ اسلام کا یہ حُسن ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ماتحتوں اور محکوموں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام ہی یہ تصور دیتا ہے کہ کسی کا ماتحت یا نگران ہونا ایک وقتی تعلق ہے ورنہ بحیثیتِ انسان سب برابر ہیں۔ وہ لوگ جنہیں گردشِ زمانہ ملازمت کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے اسلام انہیں اپنا بھائی سمجھ کر ان سے برابری کے سلوک کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام کا حُسن ماتحتوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کرنے کی مثالوں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے۔
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے خدمت گاروں سے کیسا سلوک فرماتے تھے اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے: حضرت سیّدُنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے (دس سال تک) سفر و حَضر میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت کی، لیکن جو کام میں نے کیا اس کے بارے میں آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور جو کام میں نے نہ کیا اس کے بارے میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟ (بخاری)۔

ماتحتوں کو وظیفہ وقت پر ادا کیا جانا ان کا پہلا اور بنیادی حق ہے۔ کام کی تکمیل کے بعد وظیفہ دینے میں ٹالم ٹول اور حیلے بہانوں سے اس میں کمی اور کٹوتی بددیانتی، ظلم اور معاشرے کے امن کو تباہ کرنے والا کام ہے۔ حدیثِ قدسی ہے اللہ پاک فرماتا ہے:تین شخص وہ ہیں جن کا قیامت کے دن میں خصم ہوں (یعنی اُن سے مطالبہ کروں گا)، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی مزدور کو اُجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے اور اسے اجرت نہ دے۔(مسند احمد)۔
ماتحتوں سے بتقاضائے بشریت کوئی غلطی یا نقصان ہوجائے تو درگزر کیا جائے۔ موقع محل کی مناسبت سے دُرست طریقے سے تنبیہ کرنا اور غلطی کی اصلاح کرنا مالک کا حق ہے لیکن ان کو ہدفِ تنقید بنالینا، کَھری کَھری سنانا، ذلیل کرنا اور معمولی غلطیوں پر بھی گرفت کرنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ منقول ہے کہ ایک شخص نے نبیِّ پاک علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام سے عرض کیا کہ اپنے خادم کی غلطیاں کس حد تک مُعاف کرنی چاہئیں، اس نے دوبار پوچھا، آپ خاموش رہے، تیسری بار اس کے پوچھنے پر ارشاد فرمایا:ہر روز ۷۰ بار۔(ابو داؤد)۔
ماتحتوں سے ہمیشہ نیکی اوربھلائی کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ صاحبِ منصب یا جس سے کام ہو اس سے تو اچھے انداز میں پیش آیا ہی جاتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ اپنے تنخواہ دار ملازم کے ساتھ بھی ہمیشہ حُسنِ سلوک کیا جائے۔ ان کی ضَروریات کا خیال رکھا جائے، اچھے طریقے سے خیر خیریت دریافت کی جائے اور مشکلات میں حسبِ استطاعت مدد کی جائے۔ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا خوش بختی اور بدخلقی سے پیش آنا بدبختی ہے۔(ابوداؤد)۔
اللہ پاک ہمیں ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2019,

Monday, November 25, 2019

ashab E kahf[اَصحَابِ کَہْف]

ashab E kahf[اَصحَابِ کَہْف]

اَصحَابِ کَہْف


آج سےتقریباً دو ہزارسال پہلے ملکِ رُوم کے شہر ”اُفسُوس“ میں ایک ظالم بادشاہ دَقیانُوس کی حکومت تھی۔ جو شخص بُتوں کی پُوجانہ کرتا اسے قتل کروادیتا۔ایک دن اِیمان والوں کے قتل کا مَنظر دیکھنے کے لئے چند نوجوان (اَصحَابِ کَہْف)آئے، اللہ عزّوجلّ نے اُن کی آنکھوں سے پَردے ہٹادئیے تواُنہوں نے دیکھا کہ جس مؤمن کوبھی قتل کیا جاتا فرشتے آسمان سے اُترتے اور اُس کی رُوح کو اپنےساتھ لے جاتے، یہ اِیمان اَفروزمَنظردیکھ کر وہ سب نوجوان ایمان لے آئے۔
بادشاہ دَقیانُوس کوسفر پر جاتے ہوئے اِس بات کا عِلْم ہوا،تو اُس نے اُنہیں تین دن کی مہلت دی کہ میرےواپس آنے تک ایمان سےپِھر جاؤ ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرے دن یہ صاحبِ ایمان نوجوان (اَصحَابِ کَہْف)کچھ مال لے کر رات کے وقت شہر سے رُخصت ہوگئے، راستے میں اُنہیں اپنے خاندان کی بکریاں چَرانے والا ایک چَرواہا ملا،جسے اُنہوں نے اپنا ماجرا بیان کیااور اسے بھی اِیمان کی دعوت دی، چَرواہے نے اِیمان قبول کیا اور اُن کے ساتھ شامل ہوگیا، چَرواہے کا رَکھوالی کرنے والا کُتّا بھی ساتھ ہی چل پڑا، یہ سب سفر کرتے کرتے صُبح کے وقت شہر سے تقریباً ٦ میل دُور ایک غار میں پہنچے اور کھانا کھا کر سوگئے، یہی وجہ ہے کہ اِنہیں اَصحَابِِ کَہْف یعنی غار والے کہا جاتا ہے۔

بادشاہ دَقیانُوس کو سفر سے واپسی پر اَصحَابِِ کَہْف کے غار میں پَناہ لینے کا پتہ چلا، تو اُس نے غار کے مُنہ پر دیوار بنوا دی ،تاکہ وہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے یہیں اِنتقال کرجائیں اور یہی غار اُن کی قَبر بن جائے۔جس حکومتی مُلازِم کویہ کام دیا گیا،اُس نے اَصحَابِِ کَہْف کے نام، تعداد اور اِن کا پورا واقعہ عُمدہ قسم کے سِیسہ (ایک سیاہی مائل نیلے رنگ کی دھات جس سے بندوق کی گولیاں اور چھرے وغیرہ بنائے جاتے ہیں)سے بَنی تختی پر لکھوایا اور اُسے تانبے کے ایک صَندوق میں بند کر کے دیوارکی بُنیادوں میں رکھوادیا۔
اَصحَابِ کَہْف(تقریباً)۳۰۹ سال تک مکمّل سوئے رہے، اِس دوران کسی بھی آواز کے سَبب ایک لمحے کیلئے بھی بیدار نہ ہوئے۔ اِس عرصے میں کئی بادشاہ آئے اور گئے،یہاں تک کہ ایک نیک دل بادشاہ بَیدَرُوس کی حکومت آگئی، اِس کے زمانے میں کئی فتنے اٹھے، جن میں سے ایک یہ بھی تھا، کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت آنے کا کچھ لوگ انکار کرنے لگے تھے، بَیدَرُوس نے یہ حالت دیکھ کر بارگاہِ الٰہی میں فریاد کی: یااللہ عزّوجلّ! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت آنے کا یقین ہو۔ چنانچہ اللہ عزّوجلّ نے بادشاہ کی دُعا یوں قبول فرمائی کہ ایک چَرواہے نے اپنی بکریوں کے آرام کے لئے اُس غار کو چُنا اور لوگوں کے ساتھ مل کر غار کے منہ پر بنی دیوار کو گرادیا، دیوار گرتے ہی لوگوں پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ سب وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

دیوار گِرنے کے بعد اَصحَابِ کَہْف بیدار ہوگئے، حالت ایسی تھی جیسے ایک رات سوئے ہوں، چہرے تروتازہ اور کپڑے بالکل صاف ستھرے تھے، نیز اُن کا کُتّا غار کے کنارے کلائیاں پھیلائے لیٹا تھا۔ اَصحَابِ کَہْف صبح کے وقت سوئے تھے اور جب اٹھے تو سورج ڈوبنے میں کچھ وقت باقی تھا۔انہوں نے نماز ادا کی اور اپنے ساتھی یَمْلِیْخا کو کھانا لانے کے لئے بھیجا۔ یَمْلِیْخا ایک تندوروالے کی دُکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے دَقْیانُوسی دور کا سِکّہ دیا، صدیوں پُرانا سِکّہ دیکھ کر بازار والے سمجھے کہ اِن کے ہاتھ کوئی پُرانا خزانہ آ گیا ہے، وہ یَمْلِیْخا کو حاکم کے پاس لے گئے، اُس نے پوچھا: خزانہ کہاں ہے؟ یَمْلِیْخا بولے: یہ خزانہ نہیں ہمارا اپنا پیسا ہے، حاکم کہنے لگا: یہ کیسے ممکن ہے! یہ سِکّہ ۳۰۰ سال پُرانا ہے، ہم نے تو کبھی یہ سِکّہ نہیں دیکھا، یَمْلِیْخا بولے: دَقیانُوس بادشاہ کا کیا حال ہے؟ حاکم بولا: آج کل اِس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے، سینکڑوں سال پہلے اِس نام کا ایک کافر بادشاہ گزرا ہے، یَمْلِیْخا نے کہا: کل ہی تو ہم دَقْیانُوس سے اپنی جان بچا کر غار میں چھپے تھے، آئیے! میں آپ کو اپنے ساتھیوں سے ملواتا ہوں۔
حاکم اور کئی لوگ غار کی طرف چل پڑے، غار میں موجود اصحاب نے جب لوگوں کی آواز سنی تو سمجھے کہ یَمْلِیْخا پکڑے گئے ہیں اور دقیانوسی فوج اِنہیں بھی پکڑنے آ رہی ہے، یَمْلِیْخا نے غار میں پہنچ کر ساتھیوں کو سارا ماجرا بتایا، حاکم نے غار کے کنارے صندوق دیکھا تو اُسے کھلوایا، اندر سے تختی ملی جس پر اَصحَابِ کَہْف کا حال لکھا تھا، حاکم نے یہ خبر بادشاہ بَیدَرُوس تک پہنچائی، وہ بھی آ گیا اور اُس نے اَصحَابِ کَہْف کا حال دیکھ کر سجدۂ شکر کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مرنے کے بعد زندہ ہونے اور قیامت کا یقین دلانے کے لئے نشانی عطا فرمائی۔ اِس کے بعد اَصحَابِ کَہْف غار میں آ کر سوگئے اور اُن کی روح قبض کر لی گئی، بَیدَرُوس نے لکڑی کے صندوقوں میں اُن کے مبارک جسم رکھے، غار کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور لوگوں کے لئے دن مقرر کر دیا کہ ہر سال عید کی طرح وہاں آیا کریں۔
ایک قول کے مطابق اَصحَابِ کَہْف کی تعداد ۷تھی جن کے نام یہ ہیں:(۱)مَکْسِلْمِیْنَا (۲)یَمْلِیْخَا (۳)مَرْطُوْنَسْ (۴)بَیْنُوْنُسْ (۵)سَارِیْنُوْنُسْ (٦)ذُوْ نَوَانِسْ (۷)کَشْفَیْطَطْنُوْ نَسْ اور کُتّے کا نام قِطْمِیْر تھا۔

islamic events © 2019,

Sunday, November 24, 2019

sukoon[ سُکون]

sukoon[ سُکون]

سُکون


سُکون کی تلاش کسے نہیں ہوتی؟ اس سکون کو انسان جگہ جگہ تلاش کرتا ہے کبھی اسے لگتا ہے کہ زیادہ دولت کمالوں تو سکون مل جائے گا، دولت سے سکون ملتا تو قَارُون کو مل جاتا مگر وہ تو اپنے خزانوں کے ساتھ ہی زندہ زمین میں دَفْن ہوگیا! بعض لوگ اپنا سکون حکومت اور طاقت میں تلاشتے ہیں، حکومت سے سکون ملتا تو فرعون و نَمرود کیوں برباد ہوتے! کچھ لوگ شہرت میں سکون کو ڈھونڈتے ہیں، شہرت تو ابوجہل کو بھی ملی مگر کیا اسے سکون بھی ملا؟ یقیناً نہیں۔
سکون کی تلاش میں لوگ اورکیا کچھ نہیں کرتے!مثلاًکسی نے رُومانی و جاسوسی ناولوں اور ڈائجسٹوں کو پڑھنا شروع کردیا ،کسی نے تفریحی مقامات پر جاکر سرسبز پہاڑوں، برف باری، آبشاروں اور باغات میں گھوم پھر کر سکون پانے کی کوشش کی ،کسی نے اُوٹ پٹانگ قسم کے کھیل کھیلنے یا دیکھنے کو سکون کا سبب سمجھا ،کسی نے موسیقی سُننے، ڈانس کرنے، فلمیں ڈرامے دیکھنے میں سکون کو ڈھونڈا ،کسی نے ہیروئین، چرس، گانجا وغیرہ کے نشے میں تو کسی نے جنسی افعال میں سکون پانا چاہا اور کسی کو غیبت، چغلی، تکبر وغیرہ میں سکون محسوس ہوا بعضوں کو اپنی ڈیوٹی اور ذِمّہ داری پوری کرنے پر سکون ملتا ہے تو کئی سُست و کاہل کچھ نہ کرنے میں سکون پاتے ہیں۔

انسان نے سُکون کی تلاش کے جتنے راستے اپنے طور پر اپنائے ان میں کہیں آخِرت برباد ہوئی، کہیں وقت ضائع ہوا تو کہیں رَقْم، کہیں صحت برباد ہوئی اور کہیں دوسرے لوگ بےسکون ہوئے لیکن حقیقی سکون پھر بھی نہیں ملا اور جسے انسان نے سکون سمجھا وہ وقتی کیفیت اور نظر کا دھوکا تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ حقیقی سکون کیسے ملے؟ اس کیلئے ہمیں چاہئے کہ سب سے پہلے ہم سکون کا معیار بدلیں، فضولیات اور گناہوں میں سکون کی تلاش نادانی ہے، ہمیں پیدا کرنے والا رب عَزَّوَجَلَّ یقیناً ہم سے زیادہ ہمارے دل و دماغ اور جسم و روح کو جانتا ہے، اس نے ہمارے دِلوں کا سکون اور چین اپنی یاد میں رکھا ہے، چنانچہ پارہ ۱۳سُوْرَۂ رَعْد کی آیت ۲۸ میں ارشاد ہوتا ہے:( اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸))ترجمۂ کنزُالایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
اس آیت کے تحت تفسیرِ خزائنُ العرفان میں ہے: اس کے رَحْمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دِلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے اگرچہ اس کے عَدْل و عِتاب کی یاد دلوں کو خائف کردیتی ہے۔

ذِکْرُ اللہ کی اقسام صدرُ الاَفاضل حضرت مولانا مفتی سیِّد محمد نعیم الدّین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی سُوْرَۂ بَقَرَہ کی آیت ۱۵۲: ( فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ) (ترجمۂ کنزُالایمان:تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا۔) کے تحت تفسیرِ خزائنُ العِرفان میں لکھتے ہیں: ذِکْر تین طرح کا ہوتا ہے: (۱)لِسانی (یعنی زبان سے) (۲)قَلْبی (یعنی دل سے) (۳)بِالجوَارِح (اعضائے جسم سے)۔ ذِکْرِ لِسانی تسبیح، تقدیس، ثنا وغیرہ بیان کرنا ہے، خطبہ، توبہ، اِستغفار، دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکرِ قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا، اس کی عظمت و کِبریائی اور اس کے دلائلِ قدرت میں غور کرنا عُلَماء کا استنباطِ مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔ ذکر بِالْجَوارِح یہ ہے کہ اعضا طاعتِ الٰہی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لئے سفر کرنا یہ ذِکْر بِالجوارح میں داخل ہے۔ نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے، تسبیح و تکبیر، ثناء و قراءت تو ”ذکرِ لسانی“ ہے اور خُشُوع و خُضوع، اخلاص ”ذکرِ قلبی“ اور قِیام، رُکوع و سُجود وغیرہ ”ذکر بِالجوارح“ہے۔
جب ہمارا سُکون یادِ الٰہی سے وابستہ ہوجائے گا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نماز میں بھی لطف آئے گا، روزہ رکھنے میں راحت ملے گی، زکوٰۃ ادا کرنے پر چین آئے گا، فرض حج کرنے پر قرار ملے گا۔اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچّی مَحَبّت کی بے قراری نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2019,

Saturday, November 23, 2019

Anjane Khauf[انجانے خوف]

 Anjane Khauf[انجانے خوف]

انجانے خوف


وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے،کالی بِلّی کے راستہ کاٹنے یا گھر کی چَھت پر اُلّو کے بولنے سے ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچے گا،کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے سے کالی بلی نہیں گزرتی پھر بھی انہیں کوئی نہ کوئی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے لہٰذا کالی بلی میں کوئی نُحوست نہیں ہے۔سُورۂ تَوبَہ میں اللہ پاک مسلمانوں سے اِرشادفرماتا ہے کہ یوں کہا کریں:( لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-هُوَ مَوْلٰىنَاۚ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱))تَرجَمۂ کنزُ الایمان:ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا چاہیے۔(پ۱۰، التوبہ: ۵۱)امام فخر الدّین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں : اس آیتِ مبارکہ کا معنیٰ یہ ہے کہ ہمیں کوئی خیر و شَر، خوف و اُمید، شدّت و سختی نہیں پہنچے گی مگر وہی کہ جو ہمارا مقدر ہے اور اللہ کریم کے پاس لوحِ محفوظ پر لکھی ہوئی ہے۔
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اللہ پاک نے ہر ایک جان کو پیدا فرمایا ہے اور اس کی زندگی، رِزْق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے۔(ترمذی)لہٰذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا اس بات پر یقینِ کامل ہونا چاہئے کہ رَنج ہو یا خُوشی! آرام ہو یا تکلیف! اللہ پاک کی طرف سے ہے اور جو مشکلات، مصیبتیں، تنگیاں اور بیماریاں ہمارے نصیب میں نہیں لکھی گئیں وہ ہمیں نہیں پہنچ سکتیں۔

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: یقین رکھو کہ اگر پوری اُمّت اس پر متفق ہوجائے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی مگر اس چیز کاجو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی اور اگر سب اس پر متفق ہوجائیں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچا دیں تو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اس چیز سے جو اللہ نے لکھی۔(ترمذی)حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ نے اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں یعنی ساری دنیا مِل کر تم کو نفع نہیں پہنچا سکتی اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچا سکتی ہے۔ طبیب کی دوا شِفا دے سکتی ہے، سانپ کا زہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا طے شُدہ اس کی طرف سے (ہے)، حضرت یوسف (علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام) کی قمیص نے دیدۂ یعقوبی (یعنی حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی آنکھوں) کو شِفا بخشی، حضرت عیسیٰ (علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام) مُردے زندہ، بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ کے اِذن (یعنی اِجازت) سے،لکھنے سے مراد لوحِ محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ اللہ کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ اللہ نے لکھا مطلب ظاہِر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے تو وہ بھی طے شدہ پروگرام کے تحت ہوگا کہ لوحِ محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں آچکی ہے لہٰذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اِعتماد نہ کرو نظر اللہ کی قدرت و رحمت پر رکھو۔

مصیبت آنے پر خود کو اللہ پاک سے ڈرانے، صَبْر پر استِقامت پانے اور غَلَط قدم اٹھانے سے خود کو بچانے کے لئے توبہ و اِستِغفار کرتے ہوئے یہ ذِہْن بھی بنایئے کہ ہم پر جو مُصیبت نازِل ہوئی ہے اُس کا سبب ہمارے اپنے ہی کرتُوت ہیں نہ کہ کسی کی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، پارہ ۲۵سورۃُ الشُّوریٰ کی۳۰ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربّانی ہے:( وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)) تَرجَمۂ کنزُالایمان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔
صدرُالاَفاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:یہ خطاب مُؤمنین مُکَلَّفِین سے ہے جن سے گناہ سَرزَد ہوتے ہیں، مُراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مؤمنین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مؤمن کی تکلیف اُس کے رَفعِ دَرَجات ( یعنی بلندیِ دَرَجات) کےلیے ہوتی ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم پر آنے والی مصیبت ہمارے گناہوں کی فوری سزا ہوتی ہے، چُنانچِہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِذَا اَرَادَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجَّلَ لَہٗ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا اِرادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے (دنیا ہی میں) دے دیتا ہے۔ (مسند امام احمد) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:تمام گناہوں میں سے جس گناہ کی سزا اللہ پاک چاہتا ہے قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے سِوائے والدین کی نافرمانی کے کہ اس کی سزا وہ موت سے پہلے زندگی میں ہی دے دیتا ہے۔(شعب الا یمان)نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:جس نے نماز چھوڑی اس نے اپنے اہل و عیال اور مال کوگھٹا ديا۔(کنزالعمال) حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سُود سے (بظاہر) مال زیادہ ہوجاتا ہے،مگر اس کا انجام یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔(مسند امام احمد) علّامہ عبدُ الرؤوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: سُود کے ذریعے مال میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے مگر سُود لینے والے شخص پر (مال کی) تباہی و بربادی کے جو دروازے کُھلتے ہیں ان کی وجہ سے وہ مال کم ہوتے ہوتے بِالآخر ختم ہوجاتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے، بدشُگونی سے بچنے اور گناہوں سے دُور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...