Saturday, January 18, 2020

Imam muhammad bin hasan shaybani R.A[امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Imam muhammad bin hasan shaybani R.A[امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


کوفہ شہر میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے حلقۂ درس سے تِشْنگانِ علم (علم کے پیاسے) اپنی پیاس بجھا رہے تھے۔ ایک دن ایک لڑکا حاضر ہوا۔ ذِہانت جس کے چہرے سے عِیاں (ظاہر) تھی۔ اس نے امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم سے پوچھا: اس نابالغ لڑکے کے بارے میں آپ کا فتویٰ کیا ہے جو رات کو عشا کی نماز پڑھ کر سوئے اور اسی رات فجر سے پہلے وہ بالغ ہوجائے، کیا اُسے نمازِ عشا دوبارہ پڑھنی چاہئے؟ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم نے فرمایا: ہاں! اسے نماز دُہرانی ہوگی۔ یہ سنتے ہی وہ لڑکا اُٹھا اور مسجد کے ایک کونے میں جاکر نماز پڑھنے کھڑا ہوگیا۔ اس امامِ ذِی شان نے اس نوجوان کو دیکھ کر ارشاد فرمایا:یہ لڑکا اِنْ شَآءَ اللہ تعالٰی ترقّی کرے گا۔ زمانے کی آنکھوں نے دیکھا کہ امامِ اعظم حضرتِ سیّدنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی نظرِ فیضِ اثر پانے والا یہ نَوعمر لڑکا اپنے وقت کا امام بنا اور دنیا میں آج تک امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کا فرمان پورا ہوا اور آپ مُجْتَہِد فِی الْمَذہَب کےمنصب پر فائز ہوئے۔
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش مبارَکہ ۱۳۲ھ کو مشرقی عراق کے شہر واسط میں ہوئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام محمد بن حسن اور کنیت ابو عبداللہ ہے۔اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کی بارگاہ میں علمِ فقہ سیکھنے کے لئے حاضر ہوئے۔ امام صاحب نے فرمایا کہ پہلے قراٰ نِ پاک یاد کرکے آؤ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک ہفتے میں قراٰنِ پاک حفظ کرکے دوبارہ حاضرِ خدمت ہوگئے اور امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم نے انہیں اپنی شاگردی میں قبول فرما لیا۔

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے امامِ اعظم اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما سمیت امام مالک، امام اوزاعی، امام سفیان ثَوری، مِسْعَر بن کِدام اور عمر بن ذر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین جیسی عظیم ہستیوں سے علم حاصل کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) میں سے ہر ایک نے آپ سے بِالواسطہ یا بِلاواسطہ اِستفادہ کیا ہے۔ امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے آپ سے براہِ راست علم سیکھا، فقہِ مالکی کی کتبِ اسدیہ کے مؤلّف اسد بن فُرَات رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ امام محمد کے شاگرد تھے۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ مشکل ترین مسائل کا علم آپ کو کہاں سے حاصل ہوا؟ تو انہوں نے کہا کہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتابوں سے۔ان چاروں مذاہب میں آپ کا فیضان پایا جاتا ہے۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رات کو بہت کم سوتے اور اکثر وقت مطالعہ میں گزارتے۔ جب کوئی مسئلہ حل ہوجاتا تو فرماتے: بھلا شہزادوں کو یہ لذّت کہاں نصیب ہوسکتی ہے۔ کسی نے پوچھا: آپ سوتے کیوں نہیں؟ تو فرمایا: میں کیسے سو جاؤں جب لوگوں کی آنکھیں (شرعی مسائل میں) ہم پر اعتماد کرکے سوئی ہوئی ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کثیرُ التّصانیف بزرگ تھے۔ علمِ حدیث میں آپ کی مشہور کتاب مؤطا امام محمد ہے جس کی اکثر روایات آپ نے امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے لی ہیں۔ اسی طرح کتابُ الآثار بھی علمِ حدیث میں آپ کی مشہور تالیف ہے۔ اس کے علاوہ فقہِ حنفی میں امام محمد کی چھ کتابوں کا مجموعہ مشہور ہے جنہیں ظاہرُالرّوایہ کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: اَلْجَامِعُ الْکَبِیْر، اَلْجَامِعُ الصَّغِیْر، اَلسِّیَرُ الْکَبِیْر، اَلسِّیَرُ الصَّغِیْر، مَبْسُوط، زِیَادات۔ اس کے ساتھ ساتھ فقہِ حنفی ہی میں اَلْجُرْجَانِیَّات، اَلْکَیْسَانِیَّات، اَلْھَارُوْنِیَّات، اَلرِّقِّیَّات بھی مشہور ہیں۔حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے وصال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عراق کے قاضیُ القضاہ مقرر ہوئے۔

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وصال ۱۴جُمادَی الاُخریٰ ۱۸۹ھ میں ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ”رَے“(عراق) کے مقام پر دفن کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

islamic events © 2019,

Tuesday, January 14, 2020

Sadr ul Afazil Mufti Syed Naeemuddin Muradabad R.A[صدرُ الاَفاضِل مفتی سیّد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ]

Sadr ul Afazil Mufti Syed Naeemuddin Muradabad R.A[صدرُ الاَفاضِل مفتی سیّد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ]

صدرُ الاَفاضِل مفتی سیّد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ


امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے خُلَفا میں ایک اہم شخصیت صدرُ الاَفاضِل، بدرُالاماثِل مفتی سیّد محمد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔آپ علیہ الرَّحمہ بَیَک وقت مفسّر، محدّث، مُناظر، خطیب، محرّر اورقومی راہنماتھے۔
صدرُ الاَفاضِل رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۲۱ صفر المظفر ۱۳۰۰ ھ کو مراد آباد(ہند) میں ہوئی۔ تاریخی نام غلام مصطفیٰ رکھا گیا مگر سیّد محمد نعیم الدّین کے نام سے مشہور ہوئے۔آٹھ سال کی عمر میں قراٰنِ پاک حفظ کر لیا۔ والد ِ مکرّم مولانا سیّد مُعین الدّین نُزْہَت سے اردو اور فارسی لکھنا پڑھنا سیکھی۔ درسِ نظامی کی تعلیم مولانا شاہ فضل احمد امروہی اور مولانا شاہ گل محمد قادری علیہما رحمۃ اللہ الہادِی سے حاصل کی۔ ۱۹سال کی عمر میں درسِ نظامی سے فراغت حاصل کی اور ایک سال فتویٰ نویسی کی مشق فرمائی۔

اعلیٰ حضرت سے تعلّق ۲۰سال کی عمر میں پہلی کتاب علم ِ غیب نَبَوی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پرتالیف فرمائی جس کا نام "اَلْکَلِمَۃُ الْعُلْیَا لِاِعْلَاءِ عِلْمِ الْمُصْطَفٰی"ہے۔ جب یہ کتاب امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کی بارگاہ میں پیش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: مَا شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بڑی عمدہ نفیس کتاب ہے۔ یہ نوعمری اور اوراتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند کتاب مُصنّف کے ہونہار ہونے پر دلالت کرتی ہے۔پھر اعلیٰ حضرت علیہ رحمہ کی بارگاہ میں پہلی بار حاضری کا شرف ملا۔ اس کے بعد صدرُ الاَفاضِل رحمۃ اللہ علیہ کی یہ حالت ہوگئی کہ ہرپیر اور جمعرات کولازمی اعلیٰ حضرت علیہ رحمہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمہ آپ پر بہت اعتماد فرماتے اور اہم امور میں آپ سے مشورہ فرماتے تھے۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کے ترجمۂ قراٰن بنام” کنزالایمان“ پر آپ نے تفسیری حاشیہ خزائن العرفان تحریر فرمایا۔ جو سابقہ معتَمد تفاسیر کا خلاصہ اور مشہورِ زمانہ ہے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استادِ مکرم مولانا شاہ گل محمد قادریعلیہ رحمۃ اللہ القَویسے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شرفِ بیعت حاصل کیا۔اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کے علاوہ آپ کو اپنے مرشِد گرامی اور شیخ المشائخ مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے بھی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔

صدرُ الاَفاضِل رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۱۰ء مراد آباد میں مدرسہ انجمن اہلِ سنّت وجماعت کی بنیاد رکھی جو بعد میں جامعہ نعیمیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ آپ کی تربیت سے ایسے شاگردتیار ہوئے جنہوں نے مزید مدارس قائم فرمائے۔ بانیِ دارالعلوم حزب الاحناف مولانا ابوالبرکات سیّد احمد قادری صاحب، بانیِ دار العلوم نعیمیہ کراچی مولانا محمد عمر نعیمی، بانی ِدارالعلوم حنفیہ بصیر پور اوکاڑہ مولانا ابوالخیر نور اللہ نعیمی، بانی دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور مفتی محمد حسین نعیمی علیھم الرحمۃ ان چند میں سے ایک ہیں۔
صدرُ الاَفاضِل رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں عقائد واعمال میں طرح طرح کے فتنے پیدا ہورہے تھے ۔ آپ نے ان تمام کے ردّ میں قائدانہ کردار اداکیا۔ تحریکِ پاکستا ن میں بھی آپ کا کردار مثالی رہا۔آپ کی کوششوں سے بنارس(ہند) میں آل انڈیا سنی کانفرنس ۱۹۴٦ء میں منعقد ہوئی جس میں مطالبۂ پاکستان کی زبردست حمایت کی گئی۔
صدرُ الاَفاضِل رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف میں تفسیرِ خزائنُ العرفان کے علاوہ :اَطْیَبُ الْبَیان فِی رَدِّ تَقْوِیَۃِ الْاِیمان،کتابُ العقائد، سوانحِ کربلا،کشفُ الحِجابِ عَنْ مَسَائلِِ اِیصالِِ الثَّواب، سیرتِ صحابہ ،آدابُ الاخیار اورنعتیہ دیوان بنام ریاض نعیم وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے پندرہ روزہ رسالہ”السواد الاعظم“ بھی جاری فرمایاجو بعد میں ماہنامہ بنا۔
Sadr ul Afazil Mufti Syed Naeemuddin Muradabad R.A[صدرُ الاَفاضِل مفتی سیّد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ]
صدرُ الاَفاضِل مفتی سیّد محمد نعیم الدّین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال مبارک ۱۹ ذوالحجۃ الحرام ۱۳٦۷ھ بروز جمعۃ المبارک کو ہوا۔ جامعہ نعیمیہ مرادآباد ہندکی مسجد کے گوشے میں آپ کا مزار مبارک رحمتِ الٰہی کے سائے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہواور آپ کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
islamic events © 2019,

Monday, January 13, 2020

Imam Abu Bakar Bin Hussain Baihaqi R.A[امام ابوبکراحمد بن حسین بَیْہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Imam Abu Bakar Bin Hussain Baihaqi R.A[امام ابوبکراحمد  بن حسین بَیْہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

امام ابوبکراحمد بن حسین بَیْہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


مُحدّثِینِ عِظام میں بلند پایَہ عِلمی مَقام رکھنےوالی ایک شخصیت شیخُ الاسلام ، فقیہِ جلیل،حافظِ کبیر امام ابوبکراحمد بن حسین بَیْہقی شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بھی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت شعبانُ المعظّم ۳۸۴ ھ کوخُراسان کے مشہورشہر بَیْھَق(نزدنیشاپور،ایران)میں ہوئی۔ بَیْھَق شہر کی نسبت سے آپ کوبَیْھَقِی کہا جاتا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے علومِ دینیہ اور علمِ حدیث کےحصول کے لئے حجاز، مکّۂ مکرّمہ، عراق، جبال،نیشاپور، طابران، دامغان، اِسْفَرَایین اوردیگر کئی علاقوں کا سفر فرمایا اور ۱۵ سال کی عُمْر سے ہی سَماعِ حدیث(استاذصاحب سے براہِ راست حدیثِ پاک کے الفاظ سننے) کی طرف مائل ہوئے۔ امام بیہقی کے اَساتِذہ میں صاحبِ مُسْتَدْرَک امام ابوعبداللہ حاکم نیشا پوری شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کا نام سَرِ فہرست ہے۔ان کے علاوہ امام ابوبکرمحمدبن فُورَک شافعی اورمحدث ابوسعیدمحمدبن موسیٰ صَیْرَفی رحمہما اللہ تعالیٰ سےبھی اکتسابِِ فیض کیا۔ امام تاجُ الدّین سُبُکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے نقل فرمایا ہے کہ آپ کے اساتِذہ وشُیوخ کی تعداد ۱۰۰سے زیادہ ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مشہور شاگردوں میں شیخُ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری ہروی، سیّدُنا ابوعبد الله محمد بن فضل فَراوی شافعی،حافظ زاهر بن طاهر شَحَّامی،سیدناابو الْمَعالی محمد بن اسماعيل فارسی رحمھم اللہ تعالیٰ اوران کے علاوہ دیگرکئی حضرات شامل ہیں۔

حافظ عبدُالغافربن اسماعیل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ”بیہقی“ فقیہ(مفتی)،حافظِ حدیث، قوّتِ حفظ میں یگانۂ روزگار(اپنے زمانے میں بے مثال) اورضَبْط و اِتّقان میں اپنے ہم عصروں سےمُمتاز تھے،امام حاکم کے بڑے شاگردوں میں سےہیں مگرکئی عُلوم ان سےزیادہ جانتے تھے، بچپن ہی میں احادیثِ مبارکہ کو لکھنا اوریاد کرنا شروع کر دیاتھا،امام بیہقی نے علمِ حدیث اورفِقْہ میں بےنظیر اور لا جواب کتابیں لکھیں۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے عقائد، احادیث، فقہ، مَناقب وغیرہ کئی اہم عُنوانات پر کُتُب تصنیف کی ہیں۔آپ کی مشہور کتابوں میں سے دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ ، شُعَبُ الْاِیْمَان، مَعْرِفَۃُالسُّنَنِ وَالْآثَار، اَلسُّنَنُ الْکَبِیْر، اَلسُّنَنُ الصَّغِیْر ، کِتَابُ الْاَسْمَاءِ وَالصِّفَات، اورحَیَاۃُ الْاَنْبِیاء کا نام سرِفہرست ہے۔ زُہدوتقویٰ آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے زُہْدوتَقْویٰ کو بیان کرتے ہوئے امام ابوالحسن حافظ عبدُالغافر بن اسماعیل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:امام بیہقی علیہ رحمۃ اللہ القوی علمائے سابِقین(پہلے کے علما) کی سیرتِ مبارَکہ کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے، دنیاوی مال میں سے بہت تھوڑے پر گزربسر کرنے والے اور زُہد و تقویٰ سے آراستہ تھے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ زندگی کے آخری ۳۰سال(ممنوع ایّام کے علاوہ) ہردن روزے سے رہے۔ امام ابوبکراحمد بن حسین بَیْہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی عمر ِمبارَکہ کا آخری حصّہ نیشاپور میں گزارا،وہیں بیمار پڑگئےاور وقتِ رِحْلَت آپہنچا۔ ۱۰ جمُادی الاُولیٰ ۴۵۸ھ کو نیشاپور میں ہی داعیِ اَجل کو لبّیک کہا اور آپ کی تدفین بیہق میں ہوئی۔اللہ پاک کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔

islamic events © 2019,

Saturday, January 11, 2020

Hazrat Khalid bin waleed R.A[حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ]

Hazrat Khalid bin waleed R.A[حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ]

حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ


مجاہدِ اسلام، قائدالمسلمین، سیف اﷲ حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت با سعادت مکۃ المکرمہ میں خاندانِ قریش کے قبیلہ بنی مخزوم میں ہوئی۔آپؓ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے ہیں ۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہاام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہن تھیں اور حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے بچپن کے دوست تھے۔
حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہادری اورفن سپہ گری وتدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے انکی اسلام دشمنی مشہورتھی ۔ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اوران سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہوگیا کہ ۷ھ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر درباررسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں حاضر ہوگئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کرلیا کہ اب زندگی بھرمیری تلوار کفار سے لڑنے کے لئے بے نیام رہے گی، چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیربکف رہے یہاں تک كه ۸ھ میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفربنابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کرلیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیااورانہوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہوگئی اوراسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار)کے خطاب سے سرفراز فرمایا ۔

امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سراٹھایاتو انہوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاًجنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اورہر محاذپر فتح مبین حاصل کی ۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انہوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اوربہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں۔
آپ ؓ کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے شدید محبت اور والہانہ عقیدت تھی، حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ عمرہ کیا،تو آپ ﷺنے حلق کروایا،لوگوں نے موئے مبارک کی طرف سبقت کی، میں بھی پیشانی کے موئے مبارک لینے میں کامیاب ہوگیا،میں نے ان کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصہ میں محفوظ رکھا،جس طرف متوجہ ہوا اس کی برکت سے میں نے فتح پائی،کامیابیوں سے ہم کنار ہوا،آپ جنگی مہارت وصلاحیت کے حوالے سے لاثانی تھے۔

حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشاعتِ اسلام کے لئے محیرالعقول کارنامے انجام دئیے، فرزندانِ توحید کے دلوں میں جوش وجذبہ اور عشق وعقیدت کا چراغ فروزاں کیا،آپ ؓ کی پوری زندگی میدانِ جنگ میں گزری، معرکوں اور جنگوں میں آپ پیش پیش تھے،آپ ؓ کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جس پر تلوار کی ضرب ، نیزے کا زخم اور تیر کا نشان نہ ہو، آپ ؓ کی قیادت میں لشکرِ اسلام فتح یاب ہوا، دشمنانِ اسلام کی سرکوبی ہوئی،سینکڑوں قبائل آپ ؓ کی بدولت مشرف باسلام ہوئے،دشمنانِ دین کے لئے شمشیرِ برہنہ تھے ،آپ ؓ کی ان عظیم الشان خدمات پر آپ کو سیف ﷲ کا لقب ملا،اپنا تمام تر جنگی سازوسامان راہِ خدا میں وقف کردیا، حضرت عبدﷲ بن عباس اور حضرتِ جابر بن عبدﷲ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جیسے اکابر صحابہ کو آپ سے شرفِ روایت حاصل ہے۔
Hazrat Khalid bin waleed R.A[حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ]
حضرت خالد بن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٦۰سال کی عمر میں ۲۸جمادی الاولی ۲۱ھ میں وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک شام(حِمْص) میں زیارت گاہِ خواص وعوام ہے۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...