Thursday, August 22, 2019

sahaba kiram[صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم]

sahaba kiram[صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم]

صحابۂ کرام


ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ:تم میں فتح سے پہلے خرچ کرنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، وہ بعد میں خرچ کرنے والوں اور لڑنے والوں سے مرتبے میں بڑے ہیں اور ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز کا وعدہ فرمالیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(پ۲۷، الحدید:۱۰)۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کی کئی اقسام ہیں جیسے خلفائے اربعہ، عشرۂ مبشرہ، اصحابِ بدر، اصحابِ اُحد، اصحابِ بیعتِ رضوان، اہلِ بیت وغیرھم۔ ان میں کئی اقسام ایک دوسرے میں داخل بھی ہیں۔صحابۂ کرام کی افراد کی تعداد کے اعتبار سے ایک بڑی تقسیم تو مہاجرین و انصار ہے اور دوسری تقسیم وہ ہے جو اوپر ذکر کردہ آیت میں بیان کی گئی یعنی فتحِ مکّہ سے پہلے والے اور بعد والے۔
اس آخری تقسیم کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اِن صحابہ میں درجہ بندی فرما دی کہ فتحِ مکّہ سے پہلے والے، بعد والوں سے افضل ہیں۔ یہ معاملہ افضلیت کا ہے لیکن جہاں تک بارگاہِ خداوندی میں ان کے مقبول اور جنّتی ہونے کا معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ”ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز (جنّت) کا وعدہ فرمالیا ہے“ اس سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ جنّتی اور خدا کے مقبول بندے ہیں۔ ہر صحابی، نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحابیت کی نسبت سے ہمارے لئے واجبِ تعظیم ہے اور کسی بھی صحابی کی گستاخی حرام اور گمراہی ہے۔ قرآن و حدیث عظمتِ صحابہ کے بیان سے معمور ہیں اور کوئی صحابی بھی اس عظمت و شان سے خارج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

صحابہ کی عظمت و شان قرآن سے:صحابہ رضی اللہ عنھم کی ایک بڑی جماعت کے بارے میں ارشاد فرمایا:”بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقینِ اوّلین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں اور اس نے ان کیلئے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔“(پ۱۱، التوبۃ:۱۰۰) اسی پاک گروہ کی ایمانی قوّت، قلبی کیفیت اور عملی حالت قرآن میں یوں بیان فرمائی گئی: ”محمداللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت، آپس میں نرم دل ہیں۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا، اللہ کا فضل و رِضا چاہتے ہیں، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے۔ یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔“(پ۲٦، الفتح:۲۹) یہی متّقین، صالحین، خاشعین، صدیقین کے سردار ہیں جن کے دلوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سب سے پہلے کیا اور بذاتِ خود کیا جیسا کہ قرآن میں ہے: ”بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا، جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا جو انہی میں سے ہے۔ وہ ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔“(پ۴، آل عمران:۱٦۴) اور یہی وہ ہستیاں ہیں جن کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا:”اگر وہ (غیرمسلم) بھی یونہی ایمان لے آئیں جیسا (اے صحابہ) تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پا گئے۔“(پ۱، البقرۃ:۱۳۷) اسی مبارک گروہ کی سب سے بڑی تعداد کا نام مہاجرین و انصار ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بالکل صراحت سے جنّت و مغفرت و رزقِ کریم یعنی عزّت والی روزی کا مُژدہ سناتے ہوئے فرمایا:”اور وہ جو ایمان لائے اور مہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچّے ایمان والے ہیں، ان کے لئے بخشش اور عزّت کی روزی ہے۔“(پ۱۰،الانفال:۷۴)۔

صحابہ کی عظمت و شان احادیث سے:اِنہی صحابہ کا امّت میں سب سے افضل اور فائق ہونا، نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوں واضح کیا:”میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو، اس لئے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے ایک مُد (ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس مُد کے آدھے کو۔“ (بخاری)اِنہی صحابہ سے مَحبّت رکھنے، ان کی محبّت کو نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مَحبت اور ان سے بغض کو نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بغض قرار دیا اور ان کے متعلّق دل و زبان سنبھالنے کا حکم دیا:”میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنا لینا۔ پس جس شخص نے ان سے مَحبت کی تو اس نے میری مَحبت کی وجہ سے ان سے مَحبت کی اور جس نے ان سے بُغْض رکھا تو اس نے میرے بُغْض کے سبب ان سے بُغْض رکھا اور جس نے انہیں اِیذا پہنچائی تو اس نے ضرور مجھے اِیذا پہنچائی اور جس نے مجھے اِیذا پہنچائی تو ضرور اس نے اللہ پاک کو اِیذا پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو اِیذا پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرمائے۔“( ترمذی)۔
اوپر ذکر کردہ آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام صحابہ جنّتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہے اور یہ خدا سے راضی ہیں ۔ان کے لئے جنّت کے باغات ہیں یہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھی ہیں ۔کُفّار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں نرم دل عبادت و رکوع و سجدہ کے شوقین رِضائے الٰہی کے طلب گار نورانی چہروں والے، پاک دل، پاک سیرت، اصحابِِ حکمت، معیاری ایمان والے۔ راہِ خدا میں جان، مال، گھربار قربان کرنے والے مومنوں کے مددگار سچّے ایمان والے ۔خدا کی طرف سے مغفرت و رزقِ کریم کے مستحق اُمت میں سب سے افضل ۔ان کی مَحبت، نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحبت ان سے بغض، نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بُغْض انہیں تکلیف دینا، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف دینا ہے ان کی تعظیم فرض، توہین حرام اور ان کے گستاخ، خدا کی گرفت کا شکار ہوں گے۔
اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

islamic events © 2019,

Tuesday, August 20, 2019

abdullah shah ghazi R.A[حضرت عبد اللہ شاہ غازیؒ]

abdullah shah ghazi R.A[حضرت عبد اللہ شاہ غازیؒ]

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ


حضرت عبد اﷲ شاہ غازی ۹۸ھ میں حضرت محمد نفس ذکیہ کے گھر مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کاسلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم سے جاملتا ہے ۔آپ حسنی وحسینی سادات میں سے ہے آپ کا شجرہ نسب حسنی میں ابو محمد عبد اﷲالاشتربن سید محمد نفس ذکیہ بن سید محمد عبد اﷲبن سیدنا امام حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سید ناعلی مرتضیٰ کرم اﷲوجہہ الکریم اورماں کی جانب حسینی ہے حضرت سیدہ فاطمہ صغریٰ بنت حضرت امام حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہ کانکاح حضرت امام حسن مثنیٰ سے ہواتھا ۔آپ حضرت امام موسیٰ کاظم سے عمر میں تین سال بڑے اور اما م جعفر صادق سے عمر میں پندرہ سال چھوٹے تھے ،تلوار چلانے اور اونٹ سواری میں آپ کاثانی نہیں تھا اس لئے آپ کو الاشتر یعنی اچھا اونٹ چلانے والا جو کہ آپ کے نام کاجز بن گیا ۔عبد اللہ شاہ غازی کی کنیت ابو محمد اور لقب العشتر ہے۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد کے زیر سایہ ہوئی آپ علم حدیث میں مہا رت رکھتے تھے اس لیے آپ کا محدثین میں بھی شمار کیا گیا۔آپ ’’میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ‘‘کے خانوادے کے روشن چراغ تھے آپ میں علم کے جو ہر موجو د تھے آپ علم کی تابانیوں سے عرش تافرش بقعہ نو ر تھے۔آپ کا تابعی ہونا بھی ممکنات میں سے ہے آپ کے زمانے میں کئی صحابہ کرام روئے زمین پر موجود اپنے علم کے نور بکھیر رہے تھے ۔

سندھ آمد: بنو امیہ کی حکومت زوال پذیر ہو چکی تھی جب ۱۳۸ھ میں آپ کے والد صاحب نے مدینہ منورہ سے علوی خلافت کی تحریک شروع کی اور اپنے بھائی حضرت ابراہیم بن عبداللہ کو اس ضمن میں بصرہ روانہ کیا اس زمانے میں سادات کے ساتھ انتہائی ظلم کا رویہ روا رکھا گیا تھا۔ اس ظلم کے کئی ایک واقعات معروف ہیں جن میں حضرت بن ابراہیم کا واقعہ خاص طور پر مشہور ہے۔ جب آپ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ دیوار میں زندہ چن دیا گیا۔ یہ دیوار آج بھی بغداد میں مشہور ہے۔ حضرت بن ابراہیم انتہائی وجیہ اور حسین و جمیل تھے جس کی وجہ سے آپ کا لقب دیباج مشہور ہوا۔ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب نے آپ کو اپنے بھائی حضرت ابراہیم کے پاس بصرہ بھیجا اور آپ وہاں سے ہوتے ہوئے سندھ کی جانب روانہ ہوئے۔ ابن کثیر نے تاریخ الکامل’ جلد پنجم میں لکھا ہے کہ آپ خلیفہ منصور کے دور میں سندھ تشریف لائے۔
آپ کی سندھ آمد کے ضمن میں دو قسم کے بیان تاریخ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ آپ تبلیغ اسلام کیلئے تشریف لائے تھے اور دوسرے یہ کہ آپ علوم خلافت کے نقیب کی حیثیت سے تاجر کے روپ میں آئے تھے۔ تاجر اس لئے کہا گیا کہ آپ جب سندھ آئے تو اپنے ساتھ بہت سے گھوڑے بھی لائے تھے۔ آپ نے یہ گھوڑے اپنے کم و بیش بیس مریدوں کے ہمراہ کوفہ سے خریدے تھے۔ آپ کی آمد پر یہاں کے مقامی لوگوں نے آپ کو خوش آمدید کہا اور سادات کی ایک شخصیت کو اپنے درمیان پا کر بہت عزت اور احترام کا اظہار کیا۔ آپ بارہ برس تک اسلام کی تبلیغ میں سرگرداں رہے اور مقامی آبادی کے سینکڑوں لوگوں کو مشرف با اسلام کیا۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے سندھ قیام کے دوران گورنر سندھ کو خبر آئی کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب نے مدینہ منورہ میں اور ان کے بھائی حضرت ابراہیم نے بصرہ میں عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ ۱۴۵ھ میں یہ اطلاع آئی کہ آپ کے والد حصرت سید محمد نفس ذکیہ مدینہ منورہ میں ۱۵ رمضان المبارک کو اور اسی سال آپ کے چچا حضرت ابراہیم بن عبداللہ ۲۵ ذیقعد (۱۴فروری ۷۶۳ء) کو بصرہ میں شہید کردیئے گئے۔
حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب اور چچا کی شہادت کے بعد عباسی خلافت کے مرکز (خلیفہ منصور) سے آپ کی گرفتاری کے احکامات بھی صادر ہوئے۔ مگر چونکہ آپ کے حصے میں میدان جنگ میں شہادت لکھی گئی تھی لہذا آپ کی گرفتاری تو عمل میں نہیں آسکی۔ حضرت حفص بن عمر گورنر سندھ آپ کی گرفتاری کے معاملے کو مسلسل ٹالتے رہے۔
گورنر سندھ حضرت حفص نے اپنی محبت’ عقیدت اور سادات سے لگاؤ اور بیعت کرلینے کے بعد آپ کو بحفاظت ایک ساحلی ریاست میں بھیج کر وہاں کے راجہ کا مہمان بنایا۔ یہ راجہ اسلامی حکومت کا اطاعت گزار تھا۔ اس نے آپ کی آمد پر آپ کو خوش آمدید کہا اور انتہائی عزت اور قدر و منزلت سے دیکھا۔ آپ چار سال یہاں ان کے مہمان رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے پہلے کی طرح اسلام کی تبلیغ جاری رکھی اور سینکڑوں لوگوں کو اسلام سے روشناس کرایا۔ لاتعداد لوگ آپ کے مریدین بن کر آپ کے ساتھ ہوگئے۔

سندھیوں کے بنجر دل کی زمین میں سب سے پہلے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ نے ہی اسلامی بیج بویا پھر اس کی آبیاری کی اور محبت’ اخوت اور بردباری سے دلوں کو گرمایا اور ایمان کی زرخیزی سے روشناس کروایا۔
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ شاہ غازی شکار کی غرض سے جنگلوں میں جارہے تھے تو فوجوں نے اُن سے اچانک لڑائی شروع کردی۔ اچانک کسی ظالم کی تلوار آپ کے سرِمبارک پر لگی جس سے زخمی ہوکر گر پڑے ، اسی اثنا میں آپ کے ساتھیوں کے حملے سے مخالف افواج بھاگنے پر مجبور ہوگئیں۔ جب آپ کے ساتھی آپ کے قریب پہنچے تو آپ جام شہادت نو ش کرچکے ۔یہ ۲۰ ذوالحج ۱۵۱ ھ کا دن تھا ۔
حضرت عبدللہ شاہ غازی کی سب سے بڑی کرامت سمندر کے قریب مزار کے نیچے میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو آپ کی چلہ گاہ میں بھی موجود ہے۔ لوگ دور دور سے آتے ہیں اور یہ پانی پی کر شفا یاب ہوتے ہیں۔ آپ کے مزار پر آنے والے زائرین میں ہر مذہب کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ زائرین کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں آکر دل کو تقویت ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔آپ کا عرس مبارک ہر سال ماہ ذوالحجہ کی ۲۰,۲۱,۲۲تاریخ کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔

islamic events © 2019,

Monday, August 19, 2019

karamaat e usman e ghani[کراماتِ عثمان غنی]

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت و کرامات و سخاوت پر مشتمل رسالہ.


karamaat e usman e ghani[کراماتِ عثمان غنی]

islamic events ©

Sunday, August 18, 2019

امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ

امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ

امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ


امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنوامیہ سے تھا۔ والد عفان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے جا ملتا ہے ۔ پیکر عفت و حیا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ امیرالمومنین، خلیفة المسلمین، بارگاہ خداوندی میں انتہائی مقرب، رہنمائے اہل صفا و غنا، استاذ الصابرین، پیشوائے سالکین، منبع جودوسخا، متصف بالحیا، ابوعبداللہ آپ رضى الله عنه کا نام عثمان کنیت: ابو عبد اللہ اور لقب ”غنی“” ذوالنورین “ یہ وہ فضیلت ہے جو آپ کے سواکسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں، اسی لیے آپ رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کہتے ہیں۔
آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ عامُ الفِیل(اَبْرَہَہ بادشاہ کے مکّۂ مکرّمہ پر ہاتھیوں کے ساتھ حملے) کےچھ سال بعدمکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتداہی میں داعیِ اسلام صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی پکار پر لَبَّیْک کہا۔ اسلام لانےکے بعد چچا حَکَم بن ابو العاص نے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو رسیوں سے باندھ دیا اور دینِ اسلام چھوڑنے کا کہا تو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اسے صاف صاف کہہ دیا: میں دینِ اسلام کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی کبھی اس سے جد ا ہوں گا۔

حضرت سیّدنا لُوط علیہِ السَّلام کے بعد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سب سے پہلی ہستی ہیں جنہوں نے رِضائے الٰہی کی خاطر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت فرمائی اور ہجرت بھی ایک نہیں بلکہ دو دفعہ کی، ایک مرتبہ حَبْشہ کی طرف تو دوسری بار مدینے کی جانب۔ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے دنیا میں قراٰنِ کریم کی نَشْر و اِشاعت فرما کر اُمّتِ مُسْلِمہ پر احسانِ عظیم کیا اور جامعُ القراٰن ہونے کااِعزازپایا ۔آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں بھی نہ کبھی شراب پی، نہ بدکاری کے قریب گئے،نہ کبھی چوری کی نہ گانا گایا اور نہ ہی کبھی جھوٹ بولا۔
خلافت: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری وقت میں ایک کمیٹی بنائی جس میں حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو شامل کیا ۔اور ارشاد فر مایا کہ :یہ وہ لوگ ہیں کہ جب حضور ﷺدنیا سے تشریف لے گئے تو ان سے راضی اور خوش تھےاس لئے یہ لوگ جن کو خلیفہ بنادے وہی مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اس کمیٹی کے اتفاق سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۱/محرم الحرام ،سن ۲۴/ہجری میں حضور ﷺ کے تیسرے خلیفہ کے طور پر نامزد کئے گئے اور لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کیا۔آپ نے کل بارہ سال تک خلافت کی ذمہ داری نبھائی جس میں چھ سال تو نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ گزرااور مسلمانوں کی بڑی ترقی ہوئی مگر آخر کا چھ سال حضور ﷺ کی خبر کے مطابق کہ”اے عثمان اللہ تعالیٰ تمہیں {خلافت} کی قمیص پہنائے گا جسے منافقین اتارنا چاہیں گے مگر تم نہ اتارنا۔
منافقین کی ایک جماعت نے آپ کو خلافت سے ہٹانے کا منصوبہ بنا یا اور پھر آپ کے خلاف فتنہ وفساد کی آگ بھڑ کاناشروع کیامگر آخر وقت تک آپ حضور کی نصیحت پر جمے رہے اور صبر کرتے رہے یہاں تک ظالموں نے آپ کو شہید کردیا۔

شہادت: حضور اکرم ﷺ نے آپ کی شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺ اُحد پہاڑ پر چڑھے اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم تھے ،اُحد پہاڑ کانپنے لگا تو حضور نے فر مایا:اےاُحد! ٹھہر جا،تجھ پر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دوشہید ہیں۔اور آپ ﷺ نے اپنے آخری وقت میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آنے والی مصیبت پر صبر کرنے کی وصیت بھی فر مائی تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:حضور اکرم ﷺ نے اپنے مرضِ وصال میں فر مایا کہ:میری خواہش ہے کہ میرے پاس میرا کوئی صحابی ہو۔تو ہم نے عر ض کیا کہ :یارسول اللہ!کیا ابوبکر کو بلائیں؟ تو حضور خاموش رہے پھر ہم نے عر ض کیا کہ:کیا عمر کو بلائیں ؟پھر بھی حضور خاموش رہے۔پھر میں نے عر ض کیا:عثمان کو بلائیں ؟تو حضور نے کہا کہ:ہاں۔پھر حضرت عثمان آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے گفتگو فر مائی تو حضرت عثمان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔حضرت ابو سہلہ کہتے ہیں کہ:فتنہ کے دنوں میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فر مایا کہ: حضور نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا تو میں اس عہد پر صابر ہوں۔نیز حضور نے خود فتنہ کے دنوں میں آپ کے حق اور ہدایت پر ہونے کی خبر پہلے ہی صحابہ کو دے دی تھی۔حضرت مرہ بن کعب کا بیان ہے کہ:نبی کریم ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ قریب ہی ہے اتنے میں ایک شخص کپڑا ،اوڑھے ہوئے گزرا تو حضور نے اس کی طرف اشارہ کر کے فر مایا کہ:یہ شخص اُس دِن حق پر ہوگا۔راوی کہتے ہیں کہ میں اس شخص کی طرف گیا تو وہ حضرت عثمان تھے۔میں نے حضور سے عر ض کیا کہ:یارسول اللہ !یہ{حق پر ہوں گے؟}تو حضور نے فر مایا کہ:ہاں،یہ۔
امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ ۔۱۸ذی الحجہ ،سن ۳۵/ہجری کو جمعہ کادن تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نےرات کو خواب میں رسول اکرم ﷺ کودیکھا کہ آپ ﷺ فر مارہے ہیں کہ:اےعثمان! ہمارے پاس آکر افطار کرو۔صبح کو حضرت عثمان نے روزہ رکھا اور اُسی دن عصر کے بعد جب آپ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے ظالموں نے آپ کو شہید کردیا ۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...