Saturday, May 4, 2019

Fateh Makkah[فتح مکہ]

Fateh Makkah[فتح مکہ]

فتح مکہ

حدیبیہ میں عرب کے دیگر قبائل کو اجازت دی گئی تھی کہ جو قبیلہ جس بھی فریق کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرنا چاہے تو وہ اس فیصلہ میں آزاد ہے۔چنانچہ بنو بکر نے قریش کے ساتھ اور بنو خزاعہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہو گئے لیکن ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہو گئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمہ پر خیمہ زن تھے ۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ قریش نے نہ صرف ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی بلکہ ان کے کچھ آدمی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑائی میں شریک بھی ہوئے۔ظاہر ہے کہ قریش نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو عملی طور پر توڑ ڈالا کیونکہ بنو خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معاہدہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حلیف بن چکے تھے اس لیے بنو خزاعہ پر حملہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حملہ کرنے کے برابر تھا۔ اس حادثہ کے بعد قبیلہ ٔ بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا وفد لے کر فریاد کرنے اور امداد طلب کرنے کے لیے مدینہ منورہ بارگاہِ رسالت میں پہنچے اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بتاریخ ۱۰ رمضان المبارک ۸ھ دس ہزار آراستہ فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں حصہ بالائی کی طرف سے داخل ہوئے۔ اعلان کر دیاگیا کہ جو شخص ہتھیارڈال دے گا ابو سفیان کے گھر پناہ لے گا یامسجد میں داخل ہوگا یا دروازہ بند کرلے گا۔ اس کو امن دیا جائے گا۔

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ قبائل عرب کے ساتھ مقام اسفل (کدٰی) کی طرف سے داخل ہو اور صفا میں ہم سے آملیں۔ اور کسی سے جنگ نہ کریں۔ مگر صفوان بن امیہ ، عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو قریش کی ایک جماعت ساتھ لے کر جندمہ میں سدراہ ہوئے۔ اور حضرت خالد کی فوج پر تیر برسانے لگے۔ چنانچہ حضرت حبیش بن اشعر اور کرزبن جابر فہری رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے شہادت پائی۔ حضرت خالد نے مجبور ہو کر ان پر حملہ کیا۔ وہ تیرہ یا زیادہ لاشیں چھوڑ کر گھروں کو بھاگ گئے اور بعضے پہاڑی پر چڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو تلواروں کی چمک دیکھی تو پوچھاکہ یہ جنگ کیسی ہے؟ عرض کیا گیا کہ شاید مشرکین نے پیش قدمی کی ہے۔ جس کی وجہ سے خالد کو لڑنا پڑا۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خالد سے باز پرس کی۔ تو انہوں نے عرض کیاکہ ابتداء مشرکین کی طرف سے تھی۔ فرمایا: ’’قضائے الٰہی بہتر ہے۔‘‘(تاریخ طبری ،۱:۳۹۷)۔
ّآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیمہ میں ذرا آرام فرمایا، پھر غسل کیا اور ہتھیاروں سے سج کر ناقۂ قصواء پر سوار ہوئے اور اپنے غلام کے لڑکے اسامہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا کوکبہ نبوی بڑی شان و شوکت سے کعبہ کی طرف روانہ ہوا۔ آپ کے دائیں بائیں آ گے پیچھے مہاجرین و انصار تھے جو اس طرح سراپا آہن پوش تھے کہ بجز سیاہہ چشم ان کے بدن کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا۔ بیت اللہ شریف میں داخل ہو کر آپ ا نے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھر اپنی ناقہ پر طواف کیا۔ بیت اللہ کے گرد اور اوپر تین سوساٹھ بت تھے۔جن کے سبب سے وہ خانہ خدا بت خانہ بنا ہوا تھا۔ آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی۔اس سے آپ ایک ایک بت کو ٹہوکے دیتے جاتے تھے اور یہ پڑھتے جاتے تھے:(ترجمہ) حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، بیشک باطل مٹنے والا ہے۔ حق آگیا اور باطل نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتاہے۔

اور وہ منہ کے بل گرتے جاتے تھے۔ جب اس طرح بیت اللہ شریف بتوں سے پاک ہوگیا تو آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ سے کنجی لیکر دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوئے تو حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کے مجسمے نظر پڑے۔ جن کے ہاتھوں میں جواء کھیلنے کے تیر دیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ خدا غارت کرے۔ اللہ کی قسم ان دونوں نے کبھی تیروں سے جواء نہیں کھیلا۔‘‘ کعبہ کے اندر ہی لکڑیوں کی ایک کبوتری بنی ہوئی تھی جسے آپ نے اپنے دست اقدس سے توڑڈالا۔ اور تصویریں جو تھیں وہ مٹا دی گئیں۔ پھر دروازہ بند کردیا گیا۔ اور حضرت اسامہ و بلال و عثمان بن طلحہ آپ ا کے ساتھ اندر رہے آپ نے نماز پڑھی اور ہرطرف تکبیر کہی پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ مسجد حرام قریش کی صفوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ نے دروازے کے بازوؤں کو پکڑ کر یہ خطبہ پڑھا:’’ ایک خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔خدا نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کافروں کے گروہوں کی تنہا شکست دی۔آگاہ رہو کہ تمام مفاخریا خون یا مال ہر قسم کا سوائے کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کی سقایت کے میرے ان دو قدموں کے نیچے ہیں۔ آگاہ رہو کہ قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو، تازیانہ سے ہو یا عصا سے اس کا خون بہا ایک سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ اے گروہ قریش! خدا نے تم سے جاہلیت کا غرور اور نسب کاافتخار دور کر دیا۔ تمام لوگ آدم کی اولاد سے ہیں اور آدم مٹی سے ہیں۔‘‘(طبقات ابن سعد، ۱:۴۳۱، طبری،۱:۴۰۱)۔
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جوتم میں زیادہ پرہیز گار ہے بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔‘‘ (کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن، پارہ ۲٦، الحجرات :۱۳)۔

خطبہ کے بعد آپ قریش کی طرف متوجہ ہوئے جن سے مسجد بھری ہوئی تھی۔ اعلانِ دعوت سے اب تک ساڑھے سترہ سال میں قریش نے آپ سے اور آپ کے اصحاب سے جو جو سلوک کیے تھے وہ سب ان کے پیش نظر تھے۔ اور خوف زدہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ آپ اب اس شہرمیں ہیں جہاں سے نکلے تھے تو اندھیری رات اور فقط صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ساتھ تھے۔ آج آپ داخل ہوتے ہیں تو یوں خطاب فرمایا: ’’اے گروہ قریش! تم اپنے گمان میں مجھ سے کیسے سلوک کی توقع رکھتے ہو؟‘‘ وہ بولے : ’’نیکی کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ شریف بھائی اور شریف برادر زادہ ہیں‘‘ یہ سن کر حضور رحمۃ اللعالمین نے فرمایا: ’’آج تم پر کوئی الزام نہیں۔ جائو، تم آزاد ہو۔‘‘(طبری، ۱:۴۰۱)۔
اس روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دیر تک مسجد میں رونق افروز رہے نماز کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے کعبہ کی چھت پر اذان کہی۔
مسجد سے آپ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے۔ وہاں مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کرکے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی ۔ مردوں میں حضرت معاویہ اور مستورات میں ان کی والدہ ہند بھی تھیں۔جو حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا کلیجہ چبا گئی تھی۔(رواہ البخاری، مدارج النبوت، ۲:۵۰۵)۔

فتح مکہ کے دوسرے روز خزاعہ نے ہذیل کے ایک شخص کو جومشرک تھا قتل کر ڈالا اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد یوں خطاب فرمایا: (ترجمہ) تحقیق مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا اور لوگوں نے حرام نہیں کیا۔جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کیلئے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور نہ اس کا درخت کاٹے اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جنگ کے سبب قتال کو رخصت کہے تو اس سے کہہ دو کہ خدا نے اپنے رسول کو اجازت دی تم کو اجازت نہیں دی مجھے بھی دن کی ایک ساعت اجازت دی گئی۔ اور آج پھر اس کی حرمت ایسی ہوگئی جیسا کہ کل (فتح سے پہلے) تھی۔ چاہئے کہ جو یہاں حاضر ہے غائب کو یہ پیغام پہنچا دے۔‘‘(بخاری و مدارج النبوت،۲:۴۹۳)۔
فتح مکہ کے اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ آزمائشیں اور مشکلات جتنی بھی طویل ہوں ثابت قدم رہنے والے اور اللہ کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنے والے ہی فتح یاب ہوتے ہیں۔

copywrites © 2019,

Friday, May 3, 2019

**** نعت:آنکھوں کا تارا نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ****

آنکھوں کا تارا نام محمد
دل کا اجالا نام محمد

اللہ اکبر رب العلا نے
ہر شے پہ لکھا نام محمد

ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکن
سب سے ہے پیارا نام محمد

دولت جو چاہو دونوں جہاں کی
کرلو وظیفہ نام محمد

شیدا نہ کیوں ہوں اُس پر مسلماں
رب کو ہے پیارا نام محمد

اللہ والا دم میں بنا دے
اللہ والا نام محمد

صل علیٰ کا سہرہ سِجا کر
دولھا بنا یا نام محمد

نوح و خلیل و موسیٰ و عیسی
ٰ سب کا ہے آقا نام محمد

سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں
گل ہے ہزارا نام محمد

پائیں مرادیں دونوں جہاں میں
جس نے پکارا نام محمد

مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر
دل پر ہے کندہ نام محمد

رکھو لحد میں جس دم عزیزو
مجھ کو سنا نا نامِ محمد

پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریں
لاشہ جو لےگا نام محمد

روز قیامت میزان و پل پر
دے گا سہارا نام محمد

پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیا
میں یہ کہوں گا نام محمد

غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر
کردے اشارہ نام محمد

رنج و الم میں ہیں نام لیوا
کردے اشارہ نام محمد

بیڑا تباہی میں آگیا ہے
دے دے سہارا نام محمد

زخمی جگرپر مجروح دل پر
مرہم لگا جا نام محمد

دل میں عداوت خر کی بھر ی ہے
نجدی نہ لے گا نام محمد

اپنے رضا کے قربان جاؤں
جس نے سکھایا نامِ محمد

آنکھوں میں آکر دل میں سما کر
رنگت رچا جا نام محمد

اپنے جمیل رضوی کے دل میں
آجا سما جا نام محمد

شاعر:مولانا جمیل الرحمن قادری

copywrites © 2019,

Wednesday, May 1, 2019

**** سچی توبہ اللہ کو پسند ہے ****

حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،رسول اللہﷺ نے فرمایا:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔(سننں ابن ماجہ،حدیث۴۲۵۰،ص۲۷۳۵)۔

اللہ تعالیٰ کے توبہ قبول کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس گناہ سے بندہ توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزانہیں دیتا اوراس پر مواخذہ نہیں کرتا اوربندے کی توبہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے جوگناہ ہوگیا ہے اس پر نادم ہو اوردوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا عزم صمیم کرے ۔اگر اس سے فرائض اورواجبات رہ گئے ہیں تو ان کو قضا کرے‘ اگرکسی کا مال غصب کرلیاتھا یا چوری کرلیا تھا تو اس کا مال اس کو واپس کردے اورجس طرح پہلے اس نے گناہ میں کوشش کی تھی اسی طرح اب اطاعت اور عبادت میں کوشش کرے اورجس طرح اس کو پہلے گناہ میں لذت حاصل ہوئی تھی اب عبادت میں لذت حاصل کرے اورہنسنا کم کردے اورروئے زیادہ۔
توبہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عظیم الشان مبارک فعل ہے کہ بندہ اپنے جملہ گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں سے شرمندہ اور تائب ہو کر اس کی بندگی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ عرفاء نے اپنے اپنے طریق پر توبہ کی مختلف شرائط بیان کی ہیں، یہ شرائط ایسی ہیں کہ جن پر پورا اترنے کے بعد توبہ کی قبولیت بفضل تعالیٰ یقینی ہو جاتی ہے۔ حقیقت میں توبہ وہی ہے جو زبان سے ادا ہو کرقلب و روح کی گہرائیوں میں اتر جائے اور بندے کی باقی ماندہ زندگی کے ماہ و سال کی کایا پلٹ کر رکھ دے۔ حقیقی توبہ کے باعث تائب کی تمام لغزشیں، کوتاہیاں اور تمام گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ یوں مٹ جاتے ہیں جیسے وہ ابھی ماں کے بطن سے نومولود بچے کی طرح معصوم پیدا ہوا ہو۔
عمومی طور پر توبہ کی شرائط درج ذیل ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان سچی توبہ کی برکات سے دائمی طور پر مستفیض ہو سکتا ہے:ندامت وشرمندگی،ترکِ گناہ و معصیت،توبہ پر پختہ رہنے کا عزم،اصلاحِ احوال اور اخلاص۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان بن جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے اور (گناہ سے) ہٹ جائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے (لیکن) اگر وہ زیادہ (گناہ) کرے تو یہ نشان بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے (پورے) دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور یہی وہ ’’رَانَ‘‘ (زنگ) ہے جس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں فرمایا ہے : (كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ) ’’ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے عملوں کی وجہ سے سیاہی چھا گئی ہے۔،ابن ماجه ، کتاب : الزهد،۲/ ،۱۴۱۸،، الرقم : ۴۲۴۴۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک روح اس کے حلق میں پہنچ کر غر غر نہیں کرتی (یعنی جب تک وہ حالت نزع میں مبتلا نہیں ہوتا):: ترمذی ، کتاب : الدعوات عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ،۵ / ۵۴۷، االرقم : ۳۵۳۷۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مغرب سے سورج طلوع ہونے تک (یعنی قیامت بپا ہونے) سے پہلے پہلے توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔:: مسلم شریف، کتاب : الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، ۴/ ۲۰۷٦، الرقم : ۲۷۰۳۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شیطان نے (بارگاہِ الٰہی میں) کہا (اے اﷲ!) مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں باقی رہیں گی گمراہ کرتا رہوں گا۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں انہیں بخشتا رہوں گا۔:: مستدرک، ۴/ ۲۹۰، الرقم : ۷٦۷۲۔
صلاۃ توبہ:ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کسی سے گناہ سرزد ہوجائے تو وہ وضو کر کے نماز پڑھے، اور پھر استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُواْ أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُواْ اللّهَ فَاسْتَغْفَرُواْ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللّهُ وَلَمْ يُصِرُّواْ عَلَى مَا فَعَلُواْ وَهُمْ يَعْلَمُونَ(آل عمران، ۳ : ۱۳۵ )۔
اور (یہ) ایسے لوگ ہیں کہ جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہوں کی بخشش کون کرتا ہے، اور پھر جو گناہ وہ کر بیٹھے تھے ان پر جان بوجھ کر اصرار بھی نہیں کرتے

پھر اپنی نافرمانیوں اور رب تعالٰی کے احسانات ، اپنی ناتوانی اور جہنم کے عذابات کو یاد کر کے آنسو بہائے ۔ اس کے بعدتوبہ کی شرائط کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے ربّ تعالٰی کی بارگاہ میں معافی طلب کرے : ’’اے میرے مالک عَزَّ وَجَلَّ! تیرا یہ نافرمان بندہ جس کا رُواں رُواں گناہوں کے سمندر میں ڈوباہواہے ، تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہے ، یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے دن کے اجالے میں رات کے اندھیرے میں ، پوشیدہ اوراعلانیہ ، دانستہ اور نادانستہ طور پر تیری نافرمانیاں کی ہیں ، یقیناً میں نے تجھے ناراض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اے مولا عَزَّ وَجَلَّ! تُو غفور ورحیم ہے، تو بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اگر تُو نے میرے گناہوں پر پکڑ فرمائی تو مجھے نارِ جہنم میں جلنا پڑے گا جس کا عذاب لمحہ بھرکے لئے بھی سہنے کی مجھ میں طاقت نہیں، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں صدقِ دل سے تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں، اے میرے پرورد گار عَزَّ وَجَلَّ!میرے گناہوں کو معاف فرمادے، اے میرے مولا عَزَّ وَجَلَّ! مجھے سچی توبہ کی توفیق دے ، جو عبادات ادا ہونے سے رہ گئیں انہیں ادا کرنےکی ہمت دے دے ، جن بندوں کے حقوق میں نے تلف کئے ان سے بھی معافی مانگنے کا حوصلہ عطا فرما ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تُو ہرشے پر قادر ہے ، تُو انہیں مجھ سے راضی فرمادے ، یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے پر استقامت عطا فرما ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما!آمین۔اس کے بعد اس جگہ سے اس یقین سے اٹھے کہ رحیم وکریم پروردگار عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی توبہ قبول فرما لی ہے ۔پھر ایک نئے عزم کے ساتھ نئی اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کرے اور سابقہ گناہوں کی تلافی میں مصروف ہوجائے ۔اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

copywrites © 2019,

Ghazwa e Badr Youm ul Furqan[غزوۂ بدر یوم الفرقان]

Ghazwa e Badar Youm ul Furqan[غزوۂ بدر  یوم الفرقان]

غزوۂ بدر یوم الفرقان

ماہِ رمضان کے شروع میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہلِ قریش کا تجارتی مال و اسباب سے بھرا ہوا قافلہ شام سے مکہ آرہا ہے اس کے ساتھ تیس یا چالیس آدمی خاص اہلِ قریش کے ہیں جن کا سردار ابو سفیان ہے اور اس کے ہمراہیوں میں عمرو بن العاصی و محزمۃ بن نوفل ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مسلمانانِ مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع کرکے اس قافلے کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔(ابن خلدون /اول/۷۱)۔
آقائے دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مہاجرین و انصار کوجمع کرکے مشورہ کیا ۔ پہلے مہاجرین نے نہایت خوبصورتی اور بسرو چشم ہر حکم بجالانے کا اقرار کیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے انصار کی طرف رخ کیا ان میں سے حضرت سعد بن معاذ نے نکل کر عرض کیا ’’اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم دریا میں کودنے کوفرمائیں گے تو ہم اس میں بھی غوطہ لگا دیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اللہ کے نام پر ہمارے ساتھ چلئے، ہم ساتھ چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ سن کر خوش ہوگئے اور یہ ارشاد فرمایا: ’’ کہ تم لوگوں کو بشارت ہو ،کہ اللہ جل شانہٗ نے مجھ سے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘(طبقات ابن سعد، ۱:۳۱۵)۔

اکثر اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا گمان یہی تھا کہ حضور قافلہ پر حملہ آور ہونے کو جارہے ہیں وہ دل ہی میں خوش تھے کہ قافلہ ہی سے مڈبھیڑ ہو کیونکہ مسلمان بلحاظ جنگی سازو سامان کے مکمل نہ تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو مدینہ ہی میں مطلع فرما دیا تھا کہ حملہ آور دشمن سے جنگ کیلئے جانا ہے۔ جنگ ناگزیر تھی کہ امر الٰہی تھا: قافلۂ قریش تو چلا گیا تھا ، مسلمان چاہتے تو جنگ نہ ہوتی لیکن امر الٰہی مقدر تھا ۔ قرآن مجید میں ہے کہ:اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لئے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے۔ کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے۔ اور بے شک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے۔ (کنز الایمان:پارہ ۱۰، سورۃ الانفال، آیت ۴۲)۔
غزوۂ بدر کو اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان بھی قرار دیا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: یَوْ مَ الْفُرْقَانِ یَوْ مَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ(پارہ : ۱۰، الانفال : ۴۱ )۔ ( ترجمہ)۔ فیصلے کے دن جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں۔
۔۲ہجری، ۱۷رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا،اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳تھی جن کے پاس صرف ۲گھوڑے،۷۰ اونٹ، ٦زرہیں(لوہے کا جنگی لباس) اور ۸تلواریں تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار۱۰۰۰ افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس ۱۰۰گھوڑے، ۷۰۰ اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔
رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دشمن کے حالات معلوم کرنے کیلئے اپنے جاسوس بھیجے۔ان میں سے ایک حضرت بسبس بن عمرو جہنی اور دوسرے حضرت عدی بن ابی الزّغباء تھے یہ دونوں پہلے اشخاص ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے بدر کی جانب ابو سفیان کے حالات معلوم کرنے کیلئے بھیجا ۔ اور وہ بدر سے یہ خبر سن کر آئے کہ قافلہ کل یا پرسوں بدر میں پہنچے گا ۔

اتفاق سے مسلمانوں کی یہ خبر رفتہ رفتہ ابو سفیان تک پہنچ گئی اس نے مسلمانوں سے ڈر کر ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا اور یہ کہلا بھیجا کہ تمہارا قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور انکے تابعین کی وجہ سے معرض زوال میں ہے، دوڑو اوراپنے قافلے کو بچاؤ۔ چنانچہ اہلِ مکہ یہ سنتے ہی سب کے سب نکل کھڑے ہوئے سوائے چند افراد کے جن میں ابو لہب بھی تھا۔ ابو سفیان اپنے قافلے کو ساحل کے ساتھ ساتھ لے کر مکہ کی جانب چلا تو راستے میں اہلِ مکہ بھی مل گئے اس نے خوش ہو کر کہا چلو واپس چلو ہمارا قافلہ صحیح و سالم بچ آیا مگر ابو جہل نے ابو سفیان کے مشورے کو رد کر دیا اور فوج کو بدر تک جانے پر اصرار کیا۔ اس نے بڑے تکبر اور غضب سے کہا ، خدا کی قسم! ہم واپس نہیں جائیں گے ہم بدر تک جائیں گے اور تین دن وہاں ٹھہریں گے اور اونٹ ذبح کریں گے اور کھائیں گے کھلائیں گے اور شراب نوشی کریں گے اور گلوکارائیں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور عرب ہمارے متعلق اور ہماری پیش قدمی سے متعلق سنیں گے تو ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ (سبل الہدی و الرشاد، ۴:۲۹)۔
آغازِ جنگ:۱۷ رمضان المبارک جمعہ کا دن نمازِ فجر حضور سالارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے لشکر اسلام کو پڑھائی اور فرمانِ الٰہی کے مطابق ایک مختصر مگر بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ ’’جب تک کفار کی جانب سے پیشقدمی نہ ہو مسلمان ہر گز حملہ نہ کریں ، اگر کفار مسلمانوں کی جانب بڑھنے لگیں تو ان کو روکنے کیلئے پہلے تیر برسائیں، اگر وہ نہ رکیں اور آگے بڑھتے رہیں تو مسلمان جم کر لڑیں ، خبردار کوئی گھبرائے نہ، کوئی پیٹھ نہ پھیرے، اللہ سبحانہٗ تعالیٰ تمہیں ہدایت فرماتا ہے:اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (بڑے لشکر)سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو اور جو اُس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(کنز الایمان:پارہ :۱۰،الانفال: ۱۵۔۱٦)۔ اور رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دوسرا حکم الٰہی بھی سنایا:اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔ (کنز الایمان:پارہ ۱۰،الانفال: ۴۵)۔

اشراق کے بعد کفار کی فوج اپنے دلدلی حصہ زمین سے اسلامی فوج کی طرف بڑھی اور بدر کی بے شجر وادی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں، ایک جانب لوہے میں ڈھکے ہوئے سرتا پا مسلح فنِ جنگ کے خوب ماہر قہر مجسم ایک ہزار قریشی سرداروں، پہلوانوں اور نامور بہادروں کی پیش قدمی ہے تو دوسری جانب ۳۱۳ اسلامی لشکر کے افراد کہ جن کے پاس مکمل جنگی سازو سامان بھی نہیں ہے اکثر کے لباس بھی پھٹے پرانے ہیں۔ تمام ظاہری آثار بتاتے ہیں کہ قریشی لشکر اسلامی لشکر کا صفایا چند لمحوں میں بڑی آسانی سے کردے گا۔ سب سے پہلے مغرور سردارعتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولیدکے ساتھ آگے بڑھا اور بڑے زعم سے مبارزت طلب کی ، انصار اصحاب میں سے حضرات عوف ، معاذ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مقابلہ کیلئے آگے بڑھے تو عتبہ نے کہا کہ ہم انصار مدینہ سے مقابلہ نہیں چاہتے تم ہمارے جوڑ کے نہیں مہاجرین میں سے کسی کو جرأت ہو تو آ گے آئے، تب چیلنج دینے والے اس مغرور کے سردار کے ایک فرزند (جو مسلمان ہو چکے تھے) حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے چاہا کہ اپنے کافر باپ کا مقابلہ کریں مگر حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کو روک دیااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے محترم چچا اسد اللہ و اسد الرسول حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو آگے بھیجا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے شیبہ بن ربیعہ کو ایک ہی وار میں واصل جہنم کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اسی آنِ واحد میں ولید بن عتبہ کا خاتمہ کیا اور عتبہ بن ربیعہ اور حضرت عبیدہ کے باہم مقابلے میں حضرت عبیدہ کے پاؤں کٹ گئے تو حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عتبہ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (تاریخ طبری ، ۱:۱۷۹) تین ممتاز و معزز و نامور سردارانِ قریش کے اس طرح مارے جانے پر کفار کی فوج میں صف ماتم بچھ گئی اور عجیب ہیبت کی دھاک بیٹھ گئی۔ اسلامی لشکر میں فرطِ فرحت و تشکر سے احد…احد …اور اللہ اکبر…اللہ اکبر … اللہ اکبر.... کے فلک بوس نعرے گونجنے لگے جو کفار کے حق میں جگر شگاف تھے ۔ بعد ازاں کفار نے اپنے مقام سے تیر برسائے جن سے حضرت مہجع بن صالح اور حضرت حارثہ بن سراقہ شہید ہو گئے۔ اور پھر گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔لشکر اسلام کے علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی بھائی جو مشرک تھا عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت سیدنا فارقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ تین تین چار چار سوارو پیادہ آہن پوشوں کا اکیلے مہاجرین یا تن تنہا انصار پر ٹوٹ پڑنا، تیغ و تبر کی چقاچق، برچھیوں اور نیزوں کی جھنجھناہٹ، تیروں کی فشافش، کفار کے گھوڑوں کے ٹاپوئوں کی ٹھپا ٹھپ، ہوا کی سنسناہٹ کفارکے جنگی نقاروں کی ہیبت ناک گرج، لات و منات ، ہبل و عزّیٰ کی امداد کیلئے کفار کی شورو پکار ، مجاہدین اسلام کی اَحد…اَحد کی صدائیں اور ہر ضرب پر اللہ اکبر …اللہ اکبر کے پُرجوش و فلک بوس نعروں سے میدانِ کارزار ایسا ہولناک منظر ہوا کہ گویا زمین پر زلزلہ تھا، پہاڑ لرز رہے تھے، اور آسمان پھٹ رہا تھا، حضور انور و اقدس ا سپہ سالارِ لشکر اسلام علیہ افضل التحیاۃ والصلوٰۃ والسلام متاثر ہو کر داخل عریش ہوئے اور دونوں مبارک ہاتھوں کو پھیلا کر حق تعالیٰ جلِ جلالہٗ عم نوالہٗ سے نہایت خلوص و عجز سے عرض کرنے لگے ’’یا الٰہ العالمین، یا ذوالجلال والاکرام اگر آج اس میدان میں یہ نہتے مسلمان کٹ جائیں اور مٹ جائیں توپھر تیری عبادت کرنے والے بندے دنیا میں کوئی باقی نہ رہیں گے، یا الٰہی تیری عبادت کرنے والے ان نہتے مسلمانوں کو آج فتح سے نواز، اے مولیٰ تیرا وہ وعدہ کہ مسلمانوں کو فتح سے سرخرو فرمائے گا اب پورا فرما…الخ۔ (سیرت ابن ہشام، ۲:٦۲۷ و مسلم ۲:۹۳) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عریش میں کوئی نہ تھا۔ سوا ئے قدیم یارِ غار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے جو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی حفاطت کیلئے تلوار لیے ہوئے آپ کی پشت پر داخل ہوئے تھے، عاجزانہ دعا کی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے مقدس ہاتھ جو ہلتے تھے تو آپ کی مبارک چادر آپ کے پاک کندھوں سے باربار گر جاتی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کو پھر آپ کے کندھوں پر ڈالتے رہتے۔ اس دعا کی طوالت نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو متاثر کیاتو آپ نے عرض کیا …’’یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، دعا بس فرمایئے…بس فرمایئے، اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا فرمانے والا ہے۔‘‘(مسلم ،۲:۹۳) یہ گذارش گویا الہام غیبی تھی کہ اسی وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے بشارت کا پیغام لے آئے اور سنایا: (ترجمہ)جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے۔ (پارہ ۱۰،الانفال: ۹) اس پیاری وحی سے آپ کی تسلی میں مزید اضافہ ہوا اور آپ نے یہ نوید پہنچا کر لشکرِ اسلام کی مزیدخوب ہمت افزائی فرمائی۔ امدادِ ملائکہ: معاً سفید عمامہ پوش ابلق گھوڑوں پر سوار فرشتوں کی فوج کا نزول ہوا، فرشتوں کو بارگاہِ الٰہی سے حکم ملا : (ترجمہ) اے (فرشتو)! میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم مسلمانوں کی کو ثابت قدم رکھو، عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا، پس کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک پور پر ضرب لگاؤ (پارہ ۱۰،الانفال :۱۳) ابلیس لعین جو سراقہ سردار بنو کنانہ کی شکل میں مع ایک لشکر وارد تھا نزول ملائکہ دیکھتے ہی ہیبت زدہ ہو کر میدان سے یہ کہتے ہوئے فرار ہوا ’’میں تم سے الگ ہوں، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (پارہ ۱۰،الانفال ۴۸) پہلے ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار ہو گئے ۔ بعد ازاں بصورت صبر و تقویٰ پانچ ہزار ہوگئے۔ حضور اقد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک کنکریوں کی مٹھی لے کر شاہت الوجوہ (یعنی ذلیل ہوں چہرے) فرماتے ہوئے لشکر کفار کی جانب پھینکی۔ دفعتاً ایک ایسی تیز آندھی چلی کہ کفار میں ہر ایک کے منہ اور ناک ریت سے بھر گئے، سانس لینا دشوار ہوگیا، دم گھٹنے لگے وہ مبہوت ہو کر حیران و پریشان بھاگنے ، مرنے اور اپنے ہتھیار پھینک کر قید ہونے لگے۔ اس معجزہ کا ذکر ذوالجلال والاکرام نے بڑے لطف و پیارے الفاظ میں یوں فرمایا ہے۔ (ترجمہ) تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب (ا ) وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ (پارہ :۹، الانفال :۱۷) حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی قیادت کرتے ہوئے حضرات مہاجرین و انصار کی اس طرح مدد کر رہے تھے کہ حضرت ربیع بن انس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنا مشاہدہ روایت کرتے ہیں کہ ہم جنگ بدر میں کشتگانِ ملائکہ کو پہچانتے تھے۔ کسی کا سر گردن سے اڑا دیا ہے ، کسی کے پوروں پر ضرب پہنچائی ہے ، گویا کہ وہ آ گ سے جلا ہوا ہے اور داغ ہو گیا ہے۔ (رواہ بیہقی ، سبل الھدیٰ ۴:۴) حضرت سہیل بن حنیف انصاری اور حضرت ابو داؤد عمیر بن عامر انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معرکہ بدر میں ہم سے کوئی تلوار اٹھاتا تو اس کی تلوار مشرک تک پہنچنے سے قبل ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا ۔ (رواہ البیہقی دلائل النبوۃ) رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ایک چچا عباس بن عبدالمطلب ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور مشرکوں کے ساتھ فوج میں تھے طویل قامت اور قوی جسم والے تھے انہیں ایک دبلے پتلے پستہ قد انصاری صحابی حضرت ابو الیسر خزرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے گرفتار کر کے حضور سید الانبیا والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اے ابوالیسر! تم نے عباس کو کیسے گرفتار کیا، ایسے مرد نے میری مدد کی جسے میں نے پہلے یا بعد نہیں دیکھا وہ ایسا ایسا تھا، حضور علیہ الصلوٰۃ السلام نے فرمایا کہ تمہاری مدد (ملک کریم) یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمائی۔ (سبل الہدیٰ، ۴:۴۱)۔

ظہورِ معجزات: معرکہ بدر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کئی معجزات ظاہر ہوئے ، میدانِ جنگ میں اپنی صفوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میدان کے وسط میں تشریف لائے اور جنگ سے ایک روز قبل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے عصائے مبارکہ سے مختلف لکیریں میدان میں کھینچتے ہوئے فرمایا: ’’ کل یہاں عتبہ بن ربیعہ کی موت ہوگی، اور یہاں اس دور کے فرعون ابو جہل کی موت واقع ہوگی، الغرض مشرکین کی موت اور ان کے مقتل کی جیسی نشاندہی فرمائی گئی تھی اس سے ہٹ کر وقوع نہ ہوا ۔ ‘‘ (مسلم شریف ، ۲:۱۰۲) حضرت عکاشہ کے پاس ایک زنگ آلود پُرانی تلوار تھی جو ٹوٹ گئی تو رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے میدان سے ایک سوکھی جنگلی جلانے والی لکڑی اپنے دست مبارک سے اٹھا کر انہیں دے دی اور ارشاد فرمایا : ’’جاؤ اس سے لڑو‘‘ وہ لکڑی حضرت عکاشہ کے ہاتھ میں ایک سفید چمکدار فولادی تیز تلوار بن گئی اور عرصۂ دراز تک (۱۱ہجری) ان کے پاس رہی ۔ اسی طرح حضرت سلمہ بن اسلم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بھی حضور ا نے کھجور کی سوکھی شاخ دی جو کہ فوراً ایک تیز دھار تلوار بن گئی ۔ حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک خزرجی انصاری و حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زخمی آنکھوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے لعابِ دہن سے تندرست کر دیا ۔ (ابن کثیر،۲:۴۴٦۔۴۴۷)۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن سہیل مہاجر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مکہ مکرمہ میں اپنا اسلام ظاہر کیے بغیر قیام فرما تھے مگر پیکر استقامت تھے۔لشکر کفار میں داخل ہو کر میدانِ بدر میں وارد ہوئے اور مشرکین کے لشکر کو چھوڑ کر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر کافروں سے خوب مقابلہ کیا۔(کوکبۂ غزوۂ بدر:۱۵)۔

جب میدان کا رزار سر دہو گیا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ایسا کون ہے جو ابوجہل کی خبر لائے؟ یہ سن کر حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ گئے اور ا سے اس حال میں پایا کہ عَفْراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ نے اسے ضرب شمشیر سے گر ایاہوا تھا اور اس میں ابھی رمق حیات باقی تھا۔ حضرت ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس لعین کے سینے پر بیٹھ گئے اور اس کی ناپاک ڈاڑھی کوپکڑکر کہا: کیا تو ابوجہل ہے؟ بتا آج تجھے اللّٰہ نے رسواکیا؟ اس لعین نے جواب دیا: ’’رسواکیا کیا! تمہارا مجھے قتل کر نا اس سے زیادہ نہیں کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کرڈالا۔ کاش! مجھے کسان کے سوا کوئی اور قتل کر تا۔‘‘ اس جواب میں اس لعین کا تکبر اورانصار کی تحقیر پائی جاتی ہے کیونکہ حضرت معاذ اور معوذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا انصار میں سے تھے اور انصا رکھیتی باڑی کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس لعین کا کام تمام کر دیا اور یہ خبر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں لائے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن کر تین بار’’ اَللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو’‘پڑھا۔ چوتھی باریوں فرمایا: ‘’اَللّٰہُ اَکْبَر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَّقَ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ساتھ لے کر اس لعین کی لاش کے پاس تشریف لے گئے اور دیکھ کر یہ فرمایا: ’’یہ اس امت کا فر عون ہے۔
جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی، ۷۰ کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر(یعنی۷۰)گرفتار ہوئے (مسلم ، ص۷۵۰، حدیث:۴۵۸۸ملخصاً)۔ جبکہ ۱۴مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔(عمدۃ القاری،ج۱۰،ص۱۲۲)۔
شہداء و شرکائے بدر کی فضیلت: رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے ، ’’جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا آپ اہلِ بدر کو مسلمانوں میں کیسا سمجھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ! سب مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہوں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ فرشتوں میں سے جو فرشتے بدر میں حاضر تھے ان کا درجہ بھی ملائکہ میں ایسا ہی سمجھاجاتا ہے۔ ‘‘ (بخاری: کتاب المغازی، باب شھود الملٓئکۃ بدرا، فتح الباری، ۷:۳٦۲)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روایت کیا کہ، ’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اہلِ بدر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ہے اب تم جو چاہو سو کرو۔‘‘(ابو داؤدشریف، ۲:۲۹۱۔۲۹۲، مطبوعہ امدادیہ ملتان) ۔

غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :۔(۱) حضرت عبید ہ بن حارِث(۲) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (۳) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(۴) حضرت عاقل بن ابی بکیر (۵) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (٦) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ ٦مہاجرین ہیں)۔(۷)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (۸)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (۹)حضرت حارِثہ بن سُراقہ(۱۰)حضرت عوف بن عفراء (۱۱) حضرت معوذ بن عفراء (۱۲)حضرت عمیر بن حُمام (۱۳)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (۱۴)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ۸انصار ہیں)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ (سیرت ابنِ ہشام، ص295)۔
شہدائِ بدر کے ناموں کا وردحصولِ برکت اور دفع مصائب کا ذریعہ ہے: اکثر علماء ، صلحاء، اصفیاء، عرفاء، نقباء، نجباء، اتقیاء اور اولیاء فرماتے ہیں کہ شہداءِ بدر کے ناموں کو پڑھ کر ان کے وسیلے سے دعا کریں تو حاجت روائی ہوتی ہے اور یہ نام لکھ کر گھر میں لگائیں تو اس کی برکت سے گھر کے مکینوں کے ایمان، جان اور مال و آبرو کی حفاظت ہوگی۔ (کوکبۂ غزوئہ بدر:۲۵۸، مؤلف مولانا بخشی مصطفی علی خان میسوری مدنی علیہ الرحمہ)۔
غزوۂ بدرمیں مسلمان بظاہر بے سروسامان اور تعداد میں کم تھے مگر ایمان و اخلاص کی دولت سے مالامال تھے ، ان کے دل پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے عشق و محبت اور جذبہ ٔاطاعت سے لبریز تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد اور پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی دعائیں ان کے شاملِ حال تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے اس معرکے کو یاد گار اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ بنادیا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی محبت اوراطاعت کا جذبہ عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔۔۔۔

copywrites © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...