Friday, January 31, 2020

Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


اسلام کی بدولت دنیا کو کئی ایسی ہستیاں نصیب ہوئیں جن کے قراٰن و سنّت سے معمور زندہ جاوید اَفْکار، متأثرکُن کردار اور دل کی کیفیت بدل دینے والی تصانیف و تالیفات اور اَشعار نے ہر دور میں انسانیت کی راہنمائی کی، ان میں سے ایک ہستی حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھی ہے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام ”محمد“ لقب ”جلالُ الدّین“ ہے جبکہ شہرت ”مولانا رُوم“کے نام سے ہے۔ آپ کی ولادت ٦ربیعُ الاَوّل ٦۰۴ہجری کو بَلْخ میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔
مولانا جلالُ الدّین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی حضرت مولانا بَہاءُالدّین محمدصِدِّیقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے فرمائی، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے والد کے ساتھ بغداد آئے یہاں قیام کے دوران فِقہِ اَربَعَہ کی تَروِیج و اِشاعت کے لئے قائم مَدْرَسَۂ مُسْتَنْصِرِيَّة میں آپ کی علمی نشو و نما ہوئی۔
جب والدِ گرامی قُونِیَہ (ترکی) میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی یہیں مستقِل رہائش اختیار کرلی، والدِ ماجد کے وصال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قُونِیَہ کے مدارس میں تدریس فرماتے رہے۔

حضرت مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی علیہ رحمۃ اللہ القَوی حضرت سیّدنا شمسُ الدّین محمد تبریزی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے دستِ اقدس پر بیعت تھے۔
مولانا رومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے تدریس اور فتاویٰ کے ذریعے اُمّت کی راہنمائی فرمائی نیز کئی کُتُب بھی تصنیف فرمائیں جن میں ”مَثْنَوی شریف“ کو عالَم گیر شہرت حاصل ہے اس عظیمُ الشّان کتاب سے اِسْتِفادَہ انسان کو بااَخلاق بننے، نیکیاں کرنے اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنے میں بے حد معاوِن و مددگار ہے۔
مولانا جلالُ الدّین رومی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آخری وصیت یہ فرمائی : میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ پاک سےظاہرو باطن میں ڈرتے رہو،کھانا تھوڑا کھاؤ،کم سو، گفتگو کم کرو، گناہ چھوڑ دو، ہمیشہ روزے سے رہو،رات کا قیام کرو، خواہشات کو چھوڑ دو،لوگوں کا ظلم برداشت کرو ، کمینوں اور عام لوگوں کی مجلس ترک کردو،نیک بختوں اور بزرگوں کی صحبت میں رہو بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے ۔بہتر کلام وہ ہے کہ جو تھوڑا اور بامعنی ہو۔
Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وصال ۵جُمادَی الاُخریٰ ٦۷۲ھ کو ہوا۔ آپ کا مزار مبارک تُرکی کے شہر قُونِیَہ میں ہے۔
islamic events © 2020,

Friday, January 24, 2020

Masjid E Quba[مسجد قباء]

Masjid E Quba[مسجد قباء]

مسجد قباء


حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک زمین کو پسند فرمایا جہاں خاندان عمرو بن عوف کی کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اسی جگہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں سے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ یہی وہ مسجد ہے جو آج بھی مسجد قباء کے نام سے مشہور ہے اور جس کی شان میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْه ط فِيْه رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهرُوْا ط وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُطَّهرِيْنَ (توبه)۔
یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیزگاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس (مسجد) میں ایسے لوگ ہیں جن کو پاکی بہت پسند ہے اور اﷲ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

مسجد قباء کی تعمیر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ساتھ خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اپنے دست مبارک سے اتنے بڑے بڑے پتھر اُٹھاتے تھے کہ ان کے بوجھ سے جسم نازک خم ہو جاتا تھا اور اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جاں نثار اصحاب میں سے کوئی عرض کرتا یا رسول اﷲ ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر ہمارے ماں باپ قربان ہو جائیں آپ چھوڑ دیجیے ہم اٹھائیں گے، تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی دلجوئی کے لیے چھوڑ دیتے مگر پھر اسی وزن کا دوسرا پتھر اٹھا لیتے اور خود ہی اس کو لاکر عمارت میں لگاتے اور تعمیری کام میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ آواز ملا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ
اَفْلَحَ مَنْ يُّعَالِجُ الْمَسْجِدَا
وَيَقْرَئُ الْقُرْاٰنَ قَائِمًا وَّقَاعِدًا
وَلَا يَبِيْتُ اللَّيْلَ عَنْه رَاقِدًا

وہ کامیاب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور سوتے ہوئے رات نہیں گزارتا۔(وفاء الوفاء ج۱ ص۱۸۰)۔
مسجد قباء کی فضیلت:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنی قیام گاہ سے باطہارت مسجد قباء آئے اور دو رکعت ادا کرے اسے عمرہ کا ثواب ہے(سنن ابن ماجہ)-نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسجد قباء میں نماز ادا کرنا عمرہ ادا کرنے کی طرح ہے(سنن الترمذی)-

islamic events © 2020,

Thursday, January 23, 2020

Hadees ki zaroorat[حدیث کی ضرورت]

Hadees ki zaroorat[حدیث کی ضرورت]

حدیث کی ضرورت


قرآنِ کریم مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے مگر اسے سمجھنا آسان نہیں جب تک کہ احادیثِ معلِّمِ کائنات سے مدد حاصل نہ کی جائے مثال کے طور پر اسلام کے ایک اہم ترین رکن نمازہی کو لیجئے، قرآن کریم میں کم وبیش سات سو(۷۰۰)مقامات پر اس کا تذکرہ ہے اور کئی مقامات پر ا س کے قائم کرنے کا حکم دیاگیاہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ) (نماز قائم کرو)۔
چنانچہ اب یہ سمجھنا کہ صلاۃ ہے کیا، اسے کس طرح قائم کیا جائے یہ صرف عقل پرموقوف نہیں اور اگر اس کا معنی سمجھنے کیلئے لغت کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں صرف لغوی معنی ملیں گے اور اس کے لغوی و اصطلاحی معنی کے مابین بہت فرق ہے۔
الغرض اس کے اصطلاحی معنی ہمیں صرف احادیث یعنی سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال و احوال سے ہی سمجھ میں آسکتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کے دیگر احکامات کو سمجھنے کیلئے نیز زندگی کے ہرشعبے میں ہمیں ہادی برحق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رہنمائی کی ضرورت ہے

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں کو قرآن کریم سکھانے اور انہیں ستھرا کرنے کیلئے نبی ِآخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا، چنانچہ ربّ عزوجل فرماتاہے:ترجمہ کنزالایمان: جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتا ہےاور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے (آل عمران: ۱٦۴)۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔اگرقرآن کریم مطلقاً آسان ہوتااور اسے بغیر رہنمائی کے سمجھا جاسکتاتواللہ تعالی اس کے سمجھانے کیلئے خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبطورِ معلِّمِ کائنات مبعوث کیوں فرماتا؟ نیز قرآن کریم کے آسان ہونے کے باوجود کسی سکھانے والے کو بھیجنا عبث قرار پاتا حالانکہ اللہ تبارک وتعالی کی یہ شان نہیں کہ اس کی طرف کوئی عبث و فضول راہ پائے۔

islamic events © 2020,

Saturday, January 18, 2020

Imam muhammad bin hasan shaybani R.A[امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Imam muhammad bin hasan shaybani R.A[امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


کوفہ شہر میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے حلقۂ درس سے تِشْنگانِ علم (علم کے پیاسے) اپنی پیاس بجھا رہے تھے۔ ایک دن ایک لڑکا حاضر ہوا۔ ذِہانت جس کے چہرے سے عِیاں (ظاہر) تھی۔ اس نے امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم سے پوچھا: اس نابالغ لڑکے کے بارے میں آپ کا فتویٰ کیا ہے جو رات کو عشا کی نماز پڑھ کر سوئے اور اسی رات فجر سے پہلے وہ بالغ ہوجائے، کیا اُسے نمازِ عشا دوبارہ پڑھنی چاہئے؟ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم نے فرمایا: ہاں! اسے نماز دُہرانی ہوگی۔ یہ سنتے ہی وہ لڑکا اُٹھا اور مسجد کے ایک کونے میں جاکر نماز پڑھنے کھڑا ہوگیا۔ اس امامِ ذِی شان نے اس نوجوان کو دیکھ کر ارشاد فرمایا:یہ لڑکا اِنْ شَآءَ اللہ تعالٰی ترقّی کرے گا۔ زمانے کی آنکھوں نے دیکھا کہ امامِ اعظم حضرتِ سیّدنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی نظرِ فیضِ اثر پانے والا یہ نَوعمر لڑکا اپنے وقت کا امام بنا اور دنیا میں آج تک امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کا فرمان پورا ہوا اور آپ مُجْتَہِد فِی الْمَذہَب کےمنصب پر فائز ہوئے۔
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش مبارَکہ ۱۳۲ھ کو مشرقی عراق کے شہر واسط میں ہوئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام محمد بن حسن اور کنیت ابو عبداللہ ہے۔اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کی بارگاہ میں علمِ فقہ سیکھنے کے لئے حاضر ہوئے۔ امام صاحب نے فرمایا کہ پہلے قراٰ نِ پاک یاد کرکے آؤ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک ہفتے میں قراٰنِ پاک حفظ کرکے دوبارہ حاضرِ خدمت ہوگئے اور امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم نے انہیں اپنی شاگردی میں قبول فرما لیا۔

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے امامِ اعظم اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما سمیت امام مالک، امام اوزاعی، امام سفیان ثَوری، مِسْعَر بن کِدام اور عمر بن ذر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین جیسی عظیم ہستیوں سے علم حاصل کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) میں سے ہر ایک نے آپ سے بِالواسطہ یا بِلاواسطہ اِستفادہ کیا ہے۔ امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے آپ سے براہِ راست علم سیکھا، فقہِ مالکی کی کتبِ اسدیہ کے مؤلّف اسد بن فُرَات رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ امام محمد کے شاگرد تھے۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ مشکل ترین مسائل کا علم آپ کو کہاں سے حاصل ہوا؟ تو انہوں نے کہا کہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتابوں سے۔ان چاروں مذاہب میں آپ کا فیضان پایا جاتا ہے۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رات کو بہت کم سوتے اور اکثر وقت مطالعہ میں گزارتے۔ جب کوئی مسئلہ حل ہوجاتا تو فرماتے: بھلا شہزادوں کو یہ لذّت کہاں نصیب ہوسکتی ہے۔ کسی نے پوچھا: آپ سوتے کیوں نہیں؟ تو فرمایا: میں کیسے سو جاؤں جب لوگوں کی آنکھیں (شرعی مسائل میں) ہم پر اعتماد کرکے سوئی ہوئی ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کثیرُ التّصانیف بزرگ تھے۔ علمِ حدیث میں آپ کی مشہور کتاب مؤطا امام محمد ہے جس کی اکثر روایات آپ نے امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے لی ہیں۔ اسی طرح کتابُ الآثار بھی علمِ حدیث میں آپ کی مشہور تالیف ہے۔ اس کے علاوہ فقہِ حنفی میں امام محمد کی چھ کتابوں کا مجموعہ مشہور ہے جنہیں ظاہرُالرّوایہ کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: اَلْجَامِعُ الْکَبِیْر، اَلْجَامِعُ الصَّغِیْر، اَلسِّیَرُ الْکَبِیْر، اَلسِّیَرُ الصَّغِیْر، مَبْسُوط، زِیَادات۔ اس کے ساتھ ساتھ فقہِ حنفی ہی میں اَلْجُرْجَانِیَّات، اَلْکَیْسَانِیَّات، اَلْھَارُوْنِیَّات، اَلرِّقِّیَّات بھی مشہور ہیں۔حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے وصال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عراق کے قاضیُ القضاہ مقرر ہوئے۔

امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وصال ۱۴جُمادَی الاُخریٰ ۱۸۹ھ میں ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ”رَے“(عراق) کے مقام پر دفن کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...