Tuesday, November 5, 2019

If the Prophet (peace be upon him) came to see you one day[اگر محمّدٌ رسول ﷺ اک دن تم سے ملنے آجائیں]

If the Prophet (peace be upon him) came to see you one day[اگر محمّدٌ رسول ﷺ اک دن تم سے ملنے آجائیں]

اگر محمّدٌ رسول ﷺ اک دن تم سے ملنے آجائیں






۔۔۔اگر محمّد رسول ﷺ اک دن تم سے ملنے آجائیں
۔۔۔بالکل اچانک تشریف لائیں
۔۔۔میں حیران ہوں کہ تم کیا کرو گے
۔۔۔کیا کرو گے
۔۔۔ہاں میں جانتا ہوں
۔۔۔تم اپنا بہترین کمرہ
۔۔۔اپنے محترم مہمان کو پیش کرو گے
۔۔۔سب سے عمدہ ، سب سے اعلی
۔۔۔طعام کا اہتمام کرو گے
۔۔۔اپنی ہر بات سے انھیں احساس دلاؤ گے
۔۔۔کہ ان کی آمد سے تم بہت خوش،بہت دلشاد ہو
۔۔۔ان کی آمد تمہارے لیے اک اعزاز ہے
۔۔۔اک ناقابل بیان مسرت
۔۔۔اور مسلمان کا اک حسین خواب ہے
۔۔۔لیکن___جب تم انھیں آتا دیکھو گے
۔۔۔کیا دوڑ کر ان سے دروازے پر مل پاؤ گے ؟؟
۔۔۔ان کے استقبال میں اپنے بازو وا کر سکو گے
۔۔۔یا_ ان کی اندر آمد سے پہلے ہی تمہیں
۔۔۔اپنا لباس تبدیل کرنے ڈور جانا پڑے گا
۔۔۔ان کی نظروں سے چھپا کر ،تمام رسائل ہٹا کر
۔۔۔قرآن پاک سجانا پڑے گا
۔۔۔پھر کیا تم اپنے ٹی وی پر وہی لباس
۔۔۔وہی مناظر دیکھ سکو گے؟؟
۔۔۔یا ان کی نظر پڑنے سے پہلے ہی
۔۔۔دوڑ کر اپنا ٹی وی بھی بند کردو گے
۔۔۔کیا اس خواہش پر کہ ان کی سماعت سے
۔۔۔تمہارا ریڈیو ،تمہاری سی ڈیز ،ڈی وی ڈیز دور رہیں
۔۔۔ان سب کو بھی کہیں چھپا دو گے ؟؟
۔۔۔اور پچھتاؤ گے کاش
۔۔۔تم نے اس وقت اس اونچی آواز میں
۔۔۔کبھی بات نہ کی ہوتی
۔۔۔کیا نغمہ و موسیقی کے آلات چھپا کر
۔۔۔ان پر احادیث کی کتابیں ڈھانک دو گے
۔۔۔اور پھر کیا تم انہیں اپنے گھر کے ہر گوشے
۔۔۔ہر جگہ ،ہر حصہ میں بلا جھجک لے جاؤ گے
۔۔۔یا پھر انھیں اپنا گھر دکھانے سے پہلے ہی
۔۔۔یہ سب کچھ چھپانے دوڑ جاؤ گے
۔۔۔اور میں حیران ہوں ______اگر محمّد ﷺ
۔۔۔ایک یا دو دن تمہارے ساتھ گزارنا چاہیں
۔۔۔تمہاری ذات ، تمھارے خاندان کو
۔۔۔یہ اکرام دینا چاہیں
۔۔۔کیا تم اپنے معمول کے مطابق کام کر پاؤ گے؟؟
۔۔۔وہی الفاظ جو کہتے ہو ، کہہ پاؤ گے؟؟
۔۔۔کیا تمہاری زندگی کے روز و شب
۔۔۔برقرار رہ سکیں گے
۔۔۔کیا تمھاری روز مرہ کی گفتگو
۔۔۔ویسے ہی جاری رہ سکے گی
۔۔۔یا تمھارے لیے ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہوۓ
۔۔۔کھانے کی دعائیں پڑھنی بھی مشکل ہو جائیں گی
۔۔۔تمہیں نمازیں ٹال کر سونے کو جانا یاد رہے گا
۔۔۔تمہیں خوشی کے ساتھ رب کے دربار میں
۔۔۔بار بار جھکنا یاد رہے گا
۔۔۔جو گیت اور نغمے اکثر گنگناتے ہو
۔۔۔وہی گنگنا پاؤ گے
۔۔۔وہی کتابیں وہ رسالے جو پڑھتے ہو ، پڑھ پاؤ گے
۔۔۔انہیں بتا سکو گے کہ تمہاری سوچ
۔۔۔تمھارے خیالات اور تمہاری نگاہیں
۔۔۔کہاں کہاں بھٹکتی ہیں، کس کس کو کہاں ٹٹولتی رہتی ہیں
۔۔۔انھیں بتا پاؤ گے کہ یہ سب کچھ تمہاری روح
۔۔۔تمھارے وجود میں سمایا ہوا ہے
۔۔۔کیا ہر اس جگہ جہاں تم جاتے ہو
۔۔۔محمّد رسول اللهﷺ کو ،اپنے ہمراہ لے جا سکو گے ؟
۔۔۔اپنے ہر ساتھی ، ہر ملنے والے سے انھیں ملوا پاؤ گے
۔۔۔یا چاہو گے کہ ان کے قیام تک
۔۔۔یہ سب تم سے دور ہی رہیں ؟؟؟



۔۔۔اور اگر وہ
۔۔۔اگر وہ ساری عمر تمھارے ساتھ رہنا چاہیں
۔۔۔تو کیا تم تمام عمر کے لیے ، انھیں اپنا مہمان بنا پاؤ گے
۔۔۔یا پھر اک آزادی اور اطمینان کا سانس لو گے
۔۔۔جب آخر کار وہ اک دن
۔۔۔تمھارے گھر سے واپس لوٹ جائیں گے
۔۔۔کیا یہ تصور ، یہ خیال ، خوشگوار نہیں ہوگا
۔۔۔اگر میں جاننا چاہوں کہ تم اس وقت کیا کرو گے
۔۔۔جب محمّد رسول ﷺ کچھ دن ، کچھ وقت
۔۔۔تمارے ساتھ گزارنے کے لیے
۔۔۔اپنی امّت کے احوال سے آگاہی کے لیے
۔۔۔اپنی امّت کی خیر خواہی کے لیے
۔۔۔تمھارے گھر مہمان رہیں
۔۔۔زرا سوچو میں کیسے انہیں رکھوں گا ۔یہاں کیسے رھوں گا میں اور وہاں کیسے۔۔۔؟
جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی تنظیم "ینگ مسلم ایسوسی ایشن " کے ششماہی رسالے
AWAKE
کی انگریزی نظم سے ماخوذ
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Saturday, November 2, 2019

hazrat bibi amina R.A[حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا]

hazrat bibi amina R.A[حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا]

حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا


Best Web Hosting in Pakistan
طیّبہ طاہِرہ حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کس قدر خوش نصیب خاتون ہیں کہ آپ کو حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی والدۂ ماجدہ ہونے کا شرف حاصل ہے،آپ کے والد کا نام وَہْب بن عبدِمَنَاف اور والدہ کانام بَرَّہ تھا۔حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَانہایت پارسا، پرہیز گار،طہارتِ نفس،شرافتِ نسب اور عزت و وجاہت والی صاحبِ ایمان خاتون تھیں۔آپ قریش کی عورتوں میں حسب، نسب اور فضیلت میں سب سے ممتازتھیں۔
بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کے والد وَہْب بن عبدِمَنَاف نے جب حضرت سیّدُنا عبدُ اللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کےکمالات دیکھے تو انہیں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے بہت محبت و عقیدت ہو گئی اور گھر آ کر یہ عزم کرلیا کہ میں اپنی نورِ نظر حضرت سیّدتُناآمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کی شادی حضرت سیّدُنا عبدُاللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ ہی سے کروں گا۔ چنانچہ اپنی اس دِلی تمنّا کو اپنے چند دوستوں کے ذریعےانہوں نے حضرت سیّدُنا عبدُالمطَّلِب رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تک پہنچا دیا،آپ اپنے نورِنظرحضرت سیّدنا عبدُاللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے لئے جیسی دُلہن کی تلاش میں تھے، وہ ساری خوبیاں حضرت سیّدتُنا آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا میں موجود تھیں، اس لئے آپ نے اس رشتہ کو بخوشی منظور کر لیا، یوں ۲۴ سال کی عمر میں حضرت سیّدُنا عبدُاللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے نکاح ہو گیا اور نورِمحمدی حضرت سیّدُنا عبدُاللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے منتقل ہو کر حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کے شکمِ اَطہر میں جلوہ گَرہوا۔

محمدِ مصطفےٰ، احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اکلوتی اولاد تھے۔ جب آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا حضرت سیّدُنا عبدُالمطَّلِب اور حضرت سیّدتنا امِّ اَیْمَن کی رَفاقت میں حضرت سیّدنا عبداللہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی قبرِمبارک پر حاضر ہوئیں جیسا کہ آپ کا معمول تھا تو واپس آتے ہوئے
hazrat bibi amina R.A[حضرت سیّدتُنا بی بی آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا]
مقامِ اَبْواء پر وفات پاگئیں اور اسی جگہ پر آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔ کچھ کفّارکا گزر مقامِ اَبْواءسے ہوا تو انہوں نے چاہا کہ سیّدتناآمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کا جسدِ مبارک قبر سے نکال کر نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف پہنچائیں،لیکن اللہ عَزَّ وَ جَلَّ نے اپنے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی والدہ کےاِکرام کی خاطر انہیں اس ناپاک ارادے سے باز رکھا۔ ایک بار نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رونے لگے، حاضرین نے رونےکا سبب پوچھا تو فرمایا: مجھے اپنی والدہ کی شفقت ومہربانی یاد آگئی تَو میں روپڑا۔
مُفَسِّرینِ کرام نےمُصطفٰےکریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے والدین کریمین کےمؤمن ہونے کی دلیل قراٰنِ کریم سے بیان فرمائی ہے چنانچہ اللہ عَزّ َ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے (وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ(۲۱۹)) ترجمۂ کنز الایمان:اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو۔(پ۱۹،الشعراء :۲۱۹) بعض مفسِّرین کے نزدیک اس آیت میں ساجدین سے مؤمنین مراد ہیں اور معنیٰ یہ ہیں کہ حضرت آدم علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام اور حضرت حوا رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کے زمانے سے لے کر حضرت عبدُاللہ اور حضرت آمنہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُمَا تک مؤمنین کی پشتوں اور رحموں میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دورے کو ملاحَظہ فرماتاہے،اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام آباء واَجداد سب کے سب مومن ہیں۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Thursday, October 31, 2019

Hazrat Sayyeduna Abdullah R.A[حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ]

Hazrat Sayyeduna Abdullah R.A[حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ]

حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ


Best Web Hosting in Pakistan
حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عبد المطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے والدِ محترم ہیں۔ آپ کا اسمِ گرامی عبداللہ، کنیت ابوقُثَم (خیر و برکت سمیٹنے والے)، ابومحمد، ابواحمد اور لقب ذبیح ہے۔آپ کے والدِ گرامی عبد المطلب قریشِ مکّہ کے راہنما اور بنوہاشم کے سردار تھے ان کا اصل نام شَیبَہ ہے اور لوگ اچھے کاموں کی وجہ سے انہیں شَیْبَۃُ الْحَمْدْ کہتے تھے۔والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی فاطمہ بنتِ عمرو ہے۔
حضرت عبد المطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نےیہ منّت مانی تھی کہ اگر ان کے دس بیٹے ہوں اور وہ بڑے ہو کر قریش کی حفاظت کریں تو ان میں سے ایک کو رضائے الٰہی کے لئے بیتُ اللہ کے پاس ذَبْحْ کریں گے۔ جب ان کی منت پوری ہوگئی تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور اپنی منّت کی خبر دے کر یہ منت پوری کرنے کوکہا، سب نے والد کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔
ان دس بیٹوں کے نام کا قرعہ ڈالا گیا تو حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کانام قرعہ میں نکلا۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ انہیں ذَبح کرنے کیلئے حرمِ محترم لے آئے اس موقع پر قریش نے ان سے درخواست کی کہ ان کو ذَبح نہ کیجئے جب تک آپ مجبور نہ ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ہر شخص اپنے بچّے کو لایا کرے گا کہ اس کو ذبح کرے۔ قریش نے ایک تجویز پیش کی کہ ان کو ذبح نہ کیجئے بلکہ انہیں حجازلے چلئے وہاں ایک کاہنہ عورت ہے آپ اس سے مسئلہ بیان کریں، اگر اس نے بھی ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو پھر آپ کو اپنے صاحبزادے کے ذبح کرنےکا مکمل اختیِار ہو گا اور اگر اس نے کوئی ایسا حل پیش کیا جس سے آپ کی منت بھی پوری ہو جائے اور عبداللہ ذَبح ہونے سے بھی بچ جائیں تو آپ اس تجویز کو قبول فرما لیجئے۔

سب اس عورت کے پاس پہنچ گئے اور سارا ماجرا سنایا۔اس عورت نے کہا کہ تمہارے ہاں جو دِیت کی مقدار مقرّر ہے یعنی دس اونٹ،تم اونٹوں اور ان کے درمیان قُرعہ اندازی کرو اور اگر لڑکے کے نام کا قرعہ نکلے تو اونٹوں کی مقدار بڑھا دو اور اس طرح کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارا پَرْوَرْدَگار راضی ہو جائے اور اونٹوں پر قُرعہ نکل آئے۔ پھر اس لڑکے کی بجائے وہ اونٹ ذبح کر دینا اس طرح تمہارا رب بھی تم سے راضی ہوجائے گا اور تمہارا لڑکا بھی بچ جائے گا۔ یہ سُن کر سب مکّۂ مکرّمہ پہنچے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت عبداللہ کا نام آیا۔ دس اونٹ زیادہ کئے اور جب بڑھاتے بڑھاتے اونٹوں کی تعداد سو ہو گئی تو تب اونٹوں کےنام قُرعہ نکلا۔ وہاں موجود قریش اور دوسرے لوگوں نے حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مبارَک دی۔ حضرت عبدالمطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک تین بار اونٹوں کا نام نہیں نکلے گا تب تک میں اس قرعہ کو تسلیم نہیں کروں گا چنانچِہ یہ عمل تین بار دہرایا گیا اور ہر بار اونٹوں پر ہی قرعہ نکلا۔ تب حضرت عبدالمطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تکبیر کہی اور صفا و مروہ کے درمیان اونٹوں کو لے جا کر قربان کر دیا۔
حضرت ِسیِّدُنا عِکْرِمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرتِ سیّدنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان دنوں یہ اصول تھا کہ ایک جان کے بدلے دس اونٹ دیئے جائیں۔ حضرت عبدالمطلب پہلے شخص ہیں جنھوں نے ایک جان کا بدلہ ۱۰۰ اونٹ دیا۔جس کے بعد قریش اور عرب میں بھی یہی دستور ہو گیا اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اس کو برقرار رکھا۔

ذبح کے واقعہ کے بعد حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ مکّۂ مکرّمہ کی بہت سی حسین وجمیل لڑکیوں اور عورتوں نے آپ کے حسن و جمال سے متأثر ہو کر آپ سے نکاح کی بھر پور کوشش کی حتّٰی کہ بعض نے بڑی دولت کی بھی پیشکش کی۔
اہلِ کتاب بعض نشانیوں سے پہچان گئے تھے کہ نبیِّ آخرُالزّماں سرورِ کون و مکاں صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وجودِ گرامی حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صُلْب (پیٹھ) میں ودیعت(امانت) ہے، اس لئے یہود کی ایک جماعت نے یہ عہد کیا کہ جب تک حضرت عبداللہ کو قتل نہ کر دیں واپس نہیں لوٹیں گے۔ ایک دن آپ شکار کے لئے تنہا مکّہ سے باہر تشریف لائے، ان بد بختوں نے موقع غنیمت جان کر حملہ کے لئے تلواریں نیاموں سے کھینچ لیں۔ لیکن حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حفاظت کےلئے آسمان سے کچھ سوار نمودار ہوئے اوران بدکردار یہودیوں کو قتل کر دیا۔ اتفاق سے حضرتِ سیّدَتُنا آمِنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے والد ماجد حضرتِ وہْب بن عبد مناف نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ان کے دل میں حضرت عبداللہ کی عظمت بیٹھ گئی اور آپ نے حضرت عبد المطلب سے اپنی نورِ نظر حضرت آمِنہ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی جو قبول کر لی گئی یوں حضرت عبداللہ کا حضرت آمنہ سے نکاح ہوگیا۔
حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قریش کے ایک قافلِے کے ساتھ بغرضِ تجارت ملک شام گئے۔ دوران سفر بیمار ہو گئے۔ واپسی پر یہ قافلہ مدینۂ منوّرہ کے پاس سے گزرا تو حضرتِ سیّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمار ہونے کی وجہ سے مدینہ ہی میں اپنے والد عبدالمطلب کے ننھیال بنو عدی بن نجار کے ہاں ٹھہر گئے اور وہیں۲۵ سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Wednesday, October 30, 2019

Peer Syed Mehr Ali Shah R.A[حضرت پیر مہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ]

Peer Syed Mehr Ali Shah R.A[حضرت پیر مہر علی شاہ  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ]

حضرت سیِّدُناپیر مہرعلی شاہ گولڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ


Best Web Hosting in Pakistan
حضرت سیِّدُناپیر مہرعلی شاہ گولڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یکم رمضان المبارک۱۲۷۵ ھ مطابق۱۸۵۹ء بروز پیر گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی (پنجاب،پاکستان)میں پیدا ہوئے. آپ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید نذر دین شاہ اور دادا کا اسم مبارک سید غلام شاہ تھا.آپ کے نسب پاک کا سلسلہ۲۵واسطوں سے حضرت سید نا غوث اعظم محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضي الله ﺗﻌﺎﻟﯽٰ عنه اور ۳٦ واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن رضي الله ﺗﻌﺎﻟﯽٰ عنه سے جا ملتا ہے.آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی حضرت معصومہ بنت سید بہادر شاہابن سید شیر شاہ تھا.آپ نجیب الطرفین سید تھے.آپ کے پردادا پیر سید روشن دین اور ان کے چھوٹے بھائی پیر سید رسول شاہ کو علاقہ پوٹھوہار کی ولایت باطنی پر مامور کیا گیا تھا.آپ کے جد اعلا بارھویں صدی ہجری کے آخر میں ساڈھو ضلع انبالہ ہندوستان سے ہجرت کر کے اس قصبے میں سکونت پذیر ہوئے.
قرآن پاک کی تعلیم خانقاہ اور عربی فارسی اور صرف و نحو کی تعلیم کے لیے آپ کے والد بزرگوار کے ماموں پیر فضل دین شاہ گیلانی نے ہزارہ کے مولوی غلام محی الدین کو مقرر فرمایاجنھوں نے آپ کو کافیہ تک تعلیم دی.اس کے بعد موضع بھوئی (تحصیل حسن ابدال) میں مولانا محمد شفیع قریشی کے مدرسے میں دو اڑھائی سال تک تعلیم حاصل کی۱۵سال کی عمر میں علی گڑھ جا کر حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی کے درس میں اڑھائی سال تک رہے.

سہارن پور میں فن حدیث کے امام مولانا احمد علی سہارنپوری سے بخاری شریف،مسلم شریف اور کتب الحدیث کی سند حاصل کی ۲۰سال کی عمر میں ہندوستان سے تمام علوم رسمیہ کی تکمیل کر کے وطن لوٹے اور اپنی آبائی مسجد میں درس تدریس کا سلسلہ شروع کیا.آپ کی شادی اپنے ننھیال میں سید چراغ علی شاہ کی دختر نیک اختر سے حسن ابدال میں ہوئی۱۸۸۹ء کو بیت اللہ شریف اور روضۂ رسولﷺ پر حاضر ہوئے.
سیِّدُناپیر مہرعلی شاہ نے تمام عمر تدریس علوم دینیہ اور تزکیہ نفوس بشریہ میں فرمائی۱۸ اگست۱۹۳۳ء کو علامہ اقبال نے آپ کو عریضہ ارسال کر کے ’’زمان و مکاں‘‘پر حضرت شیخ اکبر کی تعلیمات اور ان کی کتب کے حوالہ جات کے بارے میں استفسار کیا اور لکھا’’اس وقت ہندوستان میں کوئی اور دروازہ نہیں جو پیش نظر مقصد کے لیے کھٹکھٹایا جائے.‘‘قادیانت کی بروقت تردید اور سدباب میں آپ نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ۱۹۰۰ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کو شکست فاش دی.
سیِّدُناپیر مہرعلی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی کتب بھی تصنیف فرمائی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:سیف چشتیائی،شَمْسُ الْھِدَایَة،تَحْقِیْقُ الْحق،اَلْفُتُوْحَاتُ الصَّمَدِیَّة ،اِعْلاءُ کَلِمَة ِ اللّٰهِ فِی بِیانِ مَااُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰه اورفتاویٰ مِہریہ۔
حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ بروز منگل ۲۹ صفرالمظفر ۱۳۵٦ھ مطابق ۱۱مئى ۱۹۳۷ء کو وصال فرمایا،مزار پُرانوار گولڑہ شریف ضلع اسلام آباد میں مَرجَعِ خَلائِق ہے۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...