Saturday, February 1, 2020

Allama Qari Muhammad Muslihuddin Siddiqui Alaihi Rehma[علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ]

Allama Qari Muhammad Muslihuddin Siddiqui Alaihi Rehma[علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی  علیہ الرحمہ]

حضرت علامہ حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ


مصلح اہل سنت پیر طریقت حضرت علامہ حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ ۱۱؍ربیع الاول ۱۳۳٦ھ کو قندھار شریف ضلع ناندھیڑ حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے، آپ کے آباؤ اجداد شرفائے دکن میں سے تھے اور صدیوں سے دینِ متین کی خدمت کافریضہ سرانجام دیتے آرہے تھے۔
آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے والد ماجد مولانا غلام جیلانی علیہ الرحمہ نے حیدرآباد دکن میں ۵۵سال تک امامت و خطابت کے فرائض انجام دیئے ۔ کراچی میں ۱۹۵۵میں آپ کا وصال ہوا اور میوہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، اپنے والدماجد حضرت مولانا غلام جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ سے قرآن حکیم حفظ کیا تقریباً سترہ برس کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر مدرسہ مصباح العلوم مباکپور اعظم گڑھ میں علوم اسلامیہ کی تحصیل کا آغاز کیااور حضرت حافظ ملت ، حافظ عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کی زیر نگرانی آٹھ برس میں تکمیل کی اس کے بعد حافظ ملت آپ کو صدرالشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا حکیم محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں لے گئے ۔وہاں آپ حضرت صدرالشریعہ سے بیعت ہوئے اور پھرکچھ عرصہ بعد حضرت صدرالشریعہ نے آپ کو تمام سلاسل طریقت میں اجازت و خلافت بھی عطا فرمائی۔

تحصیل علم کے بعدآپ رحمۃ اﷲ علیہ نے ناگپور کی جامع مسجد میں امامت و خطابت فرمائی نیز جامعہ عربیہ ناگپور میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں، کچھ عرصہ سکندرآباد حیدرآباد دکن کی جامع مسجد میں بھی خطابت فرمائی، ۱۹۴۹ء میں آپ رحمۃ اﷲ علیہ پاکستان تشریف لائے اور اخوند مسجد کھارادر میں خطیب و امام رہے پھر لوگوں کے بے حد اصرار پر آپ جامع میمن مسجد کھوڑی گارڈن تشریف لائے۔ یہاں آپ کے پاس سینکڑوں عقیدتمندوں اورحاجتمندوں کا ہجوم رہنے لگا اور آپ نے اسے رضائے الہٰی سمجھ کر اسی جگہ مستقل قیام فرمایا ۔ مصلح اہل سنت نے ڈیڑھ سال جامع مسجد واہ کینٹ راولپنڈی میں امامت و خطابت کی۔نیز دارالعلوم مظہر یہ آرام باغ اور اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں وصال سے پہلے تک تدریسی اور علمی خدمات انجام دیتے رہے ۔
حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اﷲ علیہ پاکستان میں سلسلۂ قادریہ کے ممتاز و معروف روحانی پیشواء تھے۔ آپ کو سلسلہ قادریہ، رضویہ، سنوسیہ، شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور اشرفیہ میں حضرت صدرالشریعہ کے علاوہ شہزاۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند مولانا الشاہ مصطفی رضا خان بریلوی اور قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی علیہما الرحمہ سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔

علامہ مصلح الدین صدیقی رحمۃ اﷲ علیہ زہد و تقویٰ اور پرہیز گاری ،حلم اور برد باری کا کامل نمونہ تھے شفقت و محبت کا منبع آپ کی ذات گرامی تھی۔ قاری صاحب علماء کرام میں اپنا منفرد اور بے مثال مقام رکھتے تھے آپ سچے عاشق رسول ﷺاور صاحب کمال دینی و روحانی بزرگ تھے دین اسلام کی ترویج و اشاعت اور عقائد اہلسنّت کی سر بلندی کیلئے آپ نے جو خدمات انجام دیں انہیں مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
حضرت علامہ حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی علیہ الرحمہ کا وصال ۷؍جمادی الثانی ۱۴۰۳ھ، کو کراچی میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختررضاخاں بریلوی دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی۔
Allama Qari Muhammad Muslihuddin Siddiqui Alaihi Rehma[علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی  علیہ الرحمہ]
جوڑیا بازار سے متصل کھوڑی گارڈن ( موجودہ مصلح الدین گارڈن)میں آپ کا مزارِ مقدس واقع ہے اﷲ تبارک وتعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے مزار پر انوار پر رحمتوں کی بارش فرمائے۔آمین
islamic events © 2020,

Friday, January 31, 2020

Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


اسلام کی بدولت دنیا کو کئی ایسی ہستیاں نصیب ہوئیں جن کے قراٰن و سنّت سے معمور زندہ جاوید اَفْکار، متأثرکُن کردار اور دل کی کیفیت بدل دینے والی تصانیف و تالیفات اور اَشعار نے ہر دور میں انسانیت کی راہنمائی کی، ان میں سے ایک ہستی حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھی ہے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام ”محمد“ لقب ”جلالُ الدّین“ ہے جبکہ شہرت ”مولانا رُوم“کے نام سے ہے۔ آپ کی ولادت ٦ربیعُ الاَوّل ٦۰۴ہجری کو بَلْخ میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔
مولانا جلالُ الدّین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی حضرت مولانا بَہاءُالدّین محمدصِدِّیقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے فرمائی، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے والد کے ساتھ بغداد آئے یہاں قیام کے دوران فِقہِ اَربَعَہ کی تَروِیج و اِشاعت کے لئے قائم مَدْرَسَۂ مُسْتَنْصِرِيَّة میں آپ کی علمی نشو و نما ہوئی۔
جب والدِ گرامی قُونِیَہ (ترکی) میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی یہیں مستقِل رہائش اختیار کرلی، والدِ ماجد کے وصال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قُونِیَہ کے مدارس میں تدریس فرماتے رہے۔

حضرت مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی علیہ رحمۃ اللہ القَوی حضرت سیّدنا شمسُ الدّین محمد تبریزی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے دستِ اقدس پر بیعت تھے۔
مولانا رومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے تدریس اور فتاویٰ کے ذریعے اُمّت کی راہنمائی فرمائی نیز کئی کُتُب بھی تصنیف فرمائیں جن میں ”مَثْنَوی شریف“ کو عالَم گیر شہرت حاصل ہے اس عظیمُ الشّان کتاب سے اِسْتِفادَہ انسان کو بااَخلاق بننے، نیکیاں کرنے اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنے میں بے حد معاوِن و مددگار ہے۔
مولانا جلالُ الدّین رومی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آخری وصیت یہ فرمائی : میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ پاک سےظاہرو باطن میں ڈرتے رہو،کھانا تھوڑا کھاؤ،کم سو، گفتگو کم کرو، گناہ چھوڑ دو، ہمیشہ روزے سے رہو،رات کا قیام کرو، خواہشات کو چھوڑ دو،لوگوں کا ظلم برداشت کرو ، کمینوں اور عام لوگوں کی مجلس ترک کردو،نیک بختوں اور بزرگوں کی صحبت میں رہو بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے ۔بہتر کلام وہ ہے کہ جو تھوڑا اور بامعنی ہو۔
Hazrat Sayyiduna Maulana Jalaluddin Mohammad Romi R.A[حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت سیّدنا مولانا جلالُ الدّین محمد رُومی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وصال ۵جُمادَی الاُخریٰ ٦۷۲ھ کو ہوا۔ آپ کا مزار مبارک تُرکی کے شہر قُونِیَہ میں ہے۔
islamic events © 2020,

Friday, January 24, 2020

Masjid E Quba[مسجد قباء]

Masjid E Quba[مسجد قباء]

مسجد قباء


حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک زمین کو پسند فرمایا جہاں خاندان عمرو بن عوف کی کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اسی جگہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں سے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ یہی وہ مسجد ہے جو آج بھی مسجد قباء کے نام سے مشہور ہے اور جس کی شان میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْه ط فِيْه رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهرُوْا ط وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُطَّهرِيْنَ (توبه)۔
یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیزگاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس (مسجد) میں ایسے لوگ ہیں جن کو پاکی بہت پسند ہے اور اﷲ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

مسجد قباء کی تعمیر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ساتھ خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اپنے دست مبارک سے اتنے بڑے بڑے پتھر اُٹھاتے تھے کہ ان کے بوجھ سے جسم نازک خم ہو جاتا تھا اور اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جاں نثار اصحاب میں سے کوئی عرض کرتا یا رسول اﷲ ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر ہمارے ماں باپ قربان ہو جائیں آپ چھوڑ دیجیے ہم اٹھائیں گے، تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی دلجوئی کے لیے چھوڑ دیتے مگر پھر اسی وزن کا دوسرا پتھر اٹھا لیتے اور خود ہی اس کو لاکر عمارت میں لگاتے اور تعمیری کام میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ آواز ملا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ
اَفْلَحَ مَنْ يُّعَالِجُ الْمَسْجِدَا
وَيَقْرَئُ الْقُرْاٰنَ قَائِمًا وَّقَاعِدًا
وَلَا يَبِيْتُ اللَّيْلَ عَنْه رَاقِدًا

وہ کامیاب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور سوتے ہوئے رات نہیں گزارتا۔(وفاء الوفاء ج۱ ص۱۸۰)۔
مسجد قباء کی فضیلت:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنی قیام گاہ سے باطہارت مسجد قباء آئے اور دو رکعت ادا کرے اسے عمرہ کا ثواب ہے(سنن ابن ماجہ)-نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسجد قباء میں نماز ادا کرنا عمرہ ادا کرنے کی طرح ہے(سنن الترمذی)-

islamic events © 2020,

Thursday, January 23, 2020

Hadees ki zaroorat[حدیث کی ضرورت]

Hadees ki zaroorat[حدیث کی ضرورت]

حدیث کی ضرورت


قرآنِ کریم مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے مگر اسے سمجھنا آسان نہیں جب تک کہ احادیثِ معلِّمِ کائنات سے مدد حاصل نہ کی جائے مثال کے طور پر اسلام کے ایک اہم ترین رکن نمازہی کو لیجئے، قرآن کریم میں کم وبیش سات سو(۷۰۰)مقامات پر اس کا تذکرہ ہے اور کئی مقامات پر ا س کے قائم کرنے کا حکم دیاگیاہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ) (نماز قائم کرو)۔
چنانچہ اب یہ سمجھنا کہ صلاۃ ہے کیا، اسے کس طرح قائم کیا جائے یہ صرف عقل پرموقوف نہیں اور اگر اس کا معنی سمجھنے کیلئے لغت کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں صرف لغوی معنی ملیں گے اور اس کے لغوی و اصطلاحی معنی کے مابین بہت فرق ہے۔
الغرض اس کے اصطلاحی معنی ہمیں صرف احادیث یعنی سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال و احوال سے ہی سمجھ میں آسکتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کے دیگر احکامات کو سمجھنے کیلئے نیز زندگی کے ہرشعبے میں ہمیں ہادی برحق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رہنمائی کی ضرورت ہے

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں کو قرآن کریم سکھانے اور انہیں ستھرا کرنے کیلئے نبی ِآخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا، چنانچہ ربّ عزوجل فرماتاہے:ترجمہ کنزالایمان: جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتا ہےاور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے (آل عمران: ۱٦۴)۔
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔اگرقرآن کریم مطلقاً آسان ہوتااور اسے بغیر رہنمائی کے سمجھا جاسکتاتواللہ تعالی اس کے سمجھانے کیلئے خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبطورِ معلِّمِ کائنات مبعوث کیوں فرماتا؟ نیز قرآن کریم کے آسان ہونے کے باوجود کسی سکھانے والے کو بھیجنا عبث قرار پاتا حالانکہ اللہ تبارک وتعالی کی یہ شان نہیں کہ اس کی طرف کوئی عبث و فضول راہ پائے۔

islamic events © 2020,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...