Saturday, December 7, 2019

hazrat muhammad shah dulha sabzwari bukhari R.A[حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری بخاری رحمۃ اللہ علیہ]

hazrat muhammad shah dulha sabzwari bukhari R.A[حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری بخاری رحمۃ اللہ علیہ]

حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری بخاری رحمۃ اللہ علیہ


حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد شاہ تھا اور آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتاہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا آبائی وطن بخارا ہےمحمد شاہ دولہا سبزواری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم بخارا میں حاصل کی۔ صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پر آنے والے بزرگوں میں ایک شخصیت آپکی ہے۔دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اسلام کی تبلیغ کی خاطر وطن سے "سبزوار" علاقے کا قصد فرمایا اور یہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔
محمد شاہ دولہا سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کے دوست حق پرکئی ہزار کافر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے۔سبزوار سے آپ نے ہندکا قصد فرمایا اور کئی علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے سندھ میں تشریف لائے اور کراچی کے علاقے کھارا در میں مستقل قیام فرمایا اور کھارا در میں جہاں آپ کا مزار ہے وہیں ایک جھونپڑی میں مشغول عبادت رہے، درگاہ شریف کے برابر میں موجود ہ مسجد حیدری جو آج بھی قائم ہے ، اس کی بنیاد آپ نے اپنے دست مبار ک سے رکھی۔
اس زمانے میں آج کل کی طرح لمبی لمبی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں نہ تھیں بلکہ وہاں لیاری ندی بہتی تھی اور سندھی زبان میں کنارہ کو ‘‘کندی’’ کہتے ہیں ۔ اور آپ نے اس ندی کے کنارے اپنا قیام فرمایا اس لیے آپ کو کندی والا بخاری کے نام سے بھی یاد کرنے لگے اور آج بھی آپ کا مزار اس نام سے مشہور ہے۔

محمد شاہ دولہا سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار سے کوئی سائل خالی نہیں جاتا اگر نیت صاف تو اپنے دامن کو مرادوں سے بھر کر لے جاتا ہے۔دنیاوی کوئی پریشانی ہو چاہے کاروباری،گھریلو،ذہنی یہاں آکر ان کے وسیلہ سے دعا کرنے پر جلد قبولیت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔جسکے دل میں حج بیت اللہ کی خواہش ہو یہاں آکر دعا مانگنے پر اللہ کی رحمت سے اسے یہ سعادت عطا کر دی جاتی ہے۔
hazrat muhammad shah dulha sabzwari bukhari R.A[حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری بخاری رحمۃ اللہ علیہ]
دولہا شاہ سبزواری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۱۷ ربیع الثانی ۷۰۱ ھ بعد نماز ظہر کراچی میں ہوا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دور کے بزرگوں میں حضرت سید یوسف شاہ علیہ الرحمۃ (منوڑا) حضرت حاجی غائب شاہ (کیماڑی) حضرت عبداللہ شاہ غازی علیہ الرحمہ (کلفٹن) وغیرہ تھے۔ اور ان بزرگوں نے بھی کراچی میں سمندر کے کنارے پر قیام کرنا پسند فرمایا۔ اور اپنی آخری آرام گاہ بھی کراچی کو پسند فرمایا ۔ حضرت سید محمدشاہ دولہا سبزواری کندی وال بخاری علیہ الرحمہ کے قرب میں آپ کے خلیفہ اوراولاد کے مزارات بھی موجود ہیں ان کابھی انہی دنوں عرس منایا جاتا ہے۔ انہیں پنج مزار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

islamic events © 2019,

Friday, December 6, 2019

Hazrat Sayyiduna Khwaja Nizamuddin Auliya R.A[ حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Hazrat Sayyiduna Khwaja Nizamuddin Auliya R.A[ حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


سرزمینِ ہند پر اللّٰہ تعالٰی نے جن اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو پیدا فرمایا اُن میں سے ایک سِلسِلۂ چشتیہ کے عظیم پیشوا اور مشہور ولیُ اللہ حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بھی ہیں۔
حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام محمد اور اَلقابات شیخ المشائخ، سلطانُ المشائخ، نِظامُ الدّین اور محبوبِ اِلٰہی ہیں، آپ نَجیبُ الطَّرَفَیْن (یعنی والد اور والدہ دونوں کی طرف سے) سیّد ہیں، آپ کی ولادت ۲۷صفر المظفر ٦۳۴ھ بدھ کے روز یُوپی ہند کے شہر بدایوں میں ہوئی، والد حضرت سیّد احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مادَرزاد (پیدائشی) ولی تھے، والدہ بی بی زُلیخا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا بھی اللہ کی ولیہ تھیں۔
ناظرہ قراٰنِ پاک و ابتدائی تعلیم اپنے محلّے سے ہی حاصل کی، پھر بدایوں کے مشہور عالمِ دِین مولانا علاءُ الدِّین اُصُولی علیہ رحمۃ اللہ الوَ لی سے بعض عُلُوم کی تکمیل کی اور انہوں نے ہی آپ کو دستار باندھی، بعداَزاں بدایوں و دِہلی کے ماہرینِ فن عُلَما اور اَساتذہ کی درسگاہوں میں تمام مُرَوَّجَہ عُلوم و فنون کی تحصیل کی۔

مختلف مَقامات اور شُیوخ سے عُلوم و مَعرِفَت کی مَنازِل طے کرتے ہوئے آپ حضرت سیّدنا بابا فریدُالدِّین مسعود گنج شکر علیہ رحمۃُ اللہِ الاکبر کی بارگاہ میں پہنچے اور پھر اِسی دَر کے غلام و مُرید ہوگئے، جب رُوحانی تربیَت کی تکمیل ہوئی تو پیر و مُرشد نے خلافت سے نوازا۔
حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی پوری زندگی طلبِ علم، عبادت و رِیاضت، مُجاہَدہ اور لوگوں کی تربیت و اِصلاح میں گزار دی، آپ نہایت متقی، سخی، اِیثار کرنے والے، دِل جوئی کرنے والے، عَفْوودَر گزر سے کام لینے والے، حلیم و بُردبار، حُسنِ سُلوک کے پیکر اور تارِکِ دُنیا تھے۔ منقول ہے کہ چھجونامی ایک شخص کو خواہ مخواہ آپ سے عَداوت (یعنی دشمنی) تھی،وہ بلا وجہ آپ کی برائیاں کرتارہتا، اس کے اِنتقال کے بعد آپ اس کے جنازے میں تشریف لے گئے، بعدِ دفن یوں دعا کی:یااللہ!اس شخص نے جو کچھ بھی مجھے کہا یا میرے ساتھ کیا ہے میں نے اس کو معاف کیا، میرے سبب سے تُو اس کو عذاب نہ فرمانا۔

حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاءرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ایک مشہور کرامَت یہ ہے کہ ایک دن آپ کے کسی مُرید نے محفل مُنعقد کی، جس میں ہزاروں لوگ اُمنڈ آئے جبکہ کھانا پچاس ساٹھ افراد سے زائد کا نہ تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خادِمِ خاص سے فرمایا: لوگوں کے ہاتھ دُھلواؤ، دَس دَس کے حلقے بناکر بٹھاؤ، ہر روٹی کے چار ٹکڑے کرکے دَستر خوان پر رکھو، بِسْمِ اللہ پڑھ کر شروع کرو۔ ایسا ہی کیا گیا تو نہ صرف ہزاروں لوگ اُسی کھانے سے سَیر ہوگئے بلکہ کچھ کھانا بچ بھی گیا۔
چندملفوظات:کچھ مِلے تو جمع نہ کرو، نہ مِلے تو فکر نہ کرو کہ خدا ضرور دے گا۔ کسی کی بُرائی نہ کرو۔ (بلا ضرورت) قرض نہ لو۔ جَفا (ظلم)کے بدلے عطا کرو، ایسا کرو گے تو بادشاہ تمہارے دَر پر آئیں گے۔ فَقْر و فاقَہ رَحمتِ اِلٰہی ہے، جس شب فقیر بھوکا سویا وہ شب اُس کی شبِ مِعراج ہے۔ بلاضرورت مال جمع نہیں کرنا چاہئے۔ راہِ خدا میں جتنا بھی خرچ کرو اِسراف نہیں اورجو خدا کیلئے خرچ نہ کیا جائے اِسراف ہے خواہ کتنا ہی کم ہو۔
Hazrat Sayyiduna Khwaja Nizamuddin Auliya R.A[ حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت سیّدنا خواجہ نظامُ الدِین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وِصال ۱۸ربیع الآخر ۷۲۵ہجری بروز بدھ ہوا، سیّدنا ابوالفتح رُکنُ الدِّین شاہ رُکنِ عالَم سُہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے نمازِ جنازہ پڑھائی، دِہلی میں ہی آپ کا مزارشریف ہے۔

islamic events © 2019,

Thursday, December 5, 2019

jhoota ilzam[جھوٹا اِلزام]

jhoota ilzam[جھوٹا اِلزام]

جھوٹا اِلزام

مسلمان کا برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہونا بلاشُبہ بُرا ہے لیکن کسی پر گناہوں اور برائیوں کا جھوٹا اِلزام لگانااِس سے کہیں زیادہ بُرا ہے۔ ہمارے مُعاشرے میں جو برائیاں ناسُور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک تُہمت وبہتان یعنی جھوٹا اِلزام لگانا بھی ہے۔ چوری، رشوت، جادو ٹونے، بدکاری، خِیانت، قتل جیسے جھوٹے اِلزامات نے ہماری گھریلو، کاروباری، دفتری زندگی کا سُکون برباد کرکے رکھ دیا ہے۔
نبیِّ رَحمت،شفیعِ امّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو ۱للہ عَزَّوَجَلَّ اس وقت تک رَدْغَۃ ُ الخَبال(یعنی جہنم میں وہ جگہ جہاں دوزخیوں کی پِیپ اور خون جمع ہوگا) اس میں رکھے گا جب تک اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہو۔ (ابوداؤد) دشمنی، حسد، راستے سے ہٹانے، بدلہ لینے، سَستی شہرت حاصل کرنے کی کیفیات میں گُم ہوکر تُہمت و بہتان تراشی کرنے والے تو اِلزام لگانے کے بعد اپنی راہ لیتے ہیں لیکن جس پر جھوٹاالزام لگا وہ بقیہ زندگی رُسوائی اور بدنامی کا سامنا کرتا رہتاہے۔

اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن لکھتے ہیں: کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرامِ قطعی ہے خصوصاً مَعَاذَاﷲ اگرتہمتِ زنا ہو۔ کسی عورت پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگانا زیادہ خطرناک ہے لیکن بعض بے باک لوگ یہ بھی کر گزرتے ہیں اور اتنانہیں سوچتے کہ اس عورت اور اس کے گھر والوں پر کیا گزرے گی! جو کسی عورت پر زنا کا اِلزام لگائے اور چار گواہوں کی مدد سے اسے ثابت نہ کرسکے تواس کی شرعی سزا”حدِّ قَذْف“ ہے یعنی سلطانِ اسلام یا قاضیِ شرع کے حکم سے اسے ۸۰ کوڑے مارے جائیں گے۔
سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ یعنی کسی پاک دامن عورت پر زِناکی تُہمت لگانا سو سال کی نیکیوں کو بربادکرتاہے۔ (معجم کبیر) فیض القدیر میں ہے: یعنی اگر بالفرض وہ شخص سو سال تک زندہ رہ کر عبادت کرے تو بھی یہ بُہتان اس کے ان اعمال کو ضائع کردے گا۔
کسی پر جھوٹا اِلزام لگانا بہت آسان سمجھا جاتا ہے لیکن جس پر اِلزام لگابَسا اوقات اس کی نسلیں بھی متأثر ہوتی ہیں، ذرا سوچئے جس کی اولاد کو یہ طعنہ ملےکہ تمہارا باپ چور ہے اس کے دل پر کیا گزرے گی؟ جنابِ رسالت مآب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے جبرئیل علیہ السَّلام سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے والے ہیں۔

تمام نبیوں کےسردار،مدینےکے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے اِسْتِفْسَار فرمایا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے عرض کی: ہم میں مفلِس(یعنی غریب مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ دِرہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال۔ ارشاد فرمایا:میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فُلاں کوگالی دی ہو گی،فُلاں پر تہمت لگائی ہو گی،فُلاں کا مال کھایا ہو گا،فُلاں کا خون بہایا ہو گا اورفُلاں کو مارا ہو گا۔ پس اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کاحصّہ دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمّے آنے والے حُقُوق پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا(مسلم) ۔
اس سے پہلے کہ دنیا سے رخصت ہونا پڑے تہمت وبہتان سے توبہ کر لیجئے ، بُہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور مُعافی مانگنا ضَروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضَروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فُلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔ نفس کے لئے یقیناً یہ سخت گِراں ہے مگر دنیا کی تھوڑی سی ذِلّت اٹھانی آسان جبکہ آخِرت کا مُعامَلہ انتِہائی سنگین ہے، ۱للہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! دوزخ کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا۔

islamic events © 2019,

Wednesday, December 4, 2019

urs[عُرس]

urs[عُرس]

عُرس


یہ”عُرس“کیا ہوتا ہے؟ ویسے تو عُرس عربی زبان میں شادی کو کہا جاتا ہے،اور اسلام میں بزرگانِ دین کی سالانہ فاتحہ کی محفل جو ان کی تاریخِ وفات پر ہوا سے بھی عرس کہتے ہیں، کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ قبر میں جب سوالات کرنے والے فرشتے مَیِّت کا امتحان لیتے ہیں اور وہ کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعَرُوس لَا یُوقِظُہ اِلَّا اَحَبُّ اَھْلِہٖ اِلَیْہ یعنی اُس دُلہن کی طرح سوجا کہ جس کو اس کے گھر والوں کے سوا کوئی نہیں جگاتا۔ (ترمذی) تو چونکہ فرشتوں نے ان کو عَرُوس کہاہوتا ہے اس لئے وہ دن عُرس کہلاتا ہے۔
اسی وجہ سے جس تاریخ کوصحابَۂ کرام،تابعین،عُلَمائے دین اور اولیائےکرام میں سے کوئی اس دنیا سے رُخْصَت ہوئے ہوتے ہیں اس تاریخ کو عقیدت مندوں کی ایک تعداد ان کے مزارات پر حاضری دیتی ہے اور فیض یاب ہوتی ہے،ان سے محبّت رکھنے والے مسلمان ان کے ایصالِ ثواب کے لئے مزارات کے قریب اور دیگر مقامات پر دِینی محافل کااہتمام کرتے ہیں جن میں تلاوت و نعت اور ذِکْرواَذْکار کے علاوہ عُلَما بیانات کے ذریعے اللہ پاک کے اَحکامات، اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں،صاحبِ مزارکاتعارف،ان کی سِیرت کے بارے میں بتاتے اور بزرگوں کی تعلیمات لوگوں میں عام کرتےہیں۔ انہی محفلوں کو”بزرگوں کا عُرس“ کہا جاتا ہے۔

عُرس منانے سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ اللہ پاک کے نیک بندوں کاعرس منانے کے ہمیں بہت سارے فائدے حاصل ہوتے ہیں: سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے ہم پر اللہ پاک کی رحمت نازل ہوتی ہے،روایت میں ہے:اللہ کے نیک بندوں کے ذِکْرکے وقت اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ان کا ذکرِخیرکرنے اور سننے سے ہمارے دل میں نیک بندوں کی مَحبَّت پیدا ہوتی ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کَل قیامت میں ہم اللہ کے ان پیاروں کے ساتھ ہوں گے کیونکہ جو اللہ کی رضا کے لئے کسی سے مَحبَّت رکھے وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا۔عرس منانے کی برکت سے ہمیں بزرگوں اور نیک بندوں کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی زندگی گزاری اسی طرح ان کے تقویٰ و پرہیزگاری اور علم و عمل کے واقعات سُن کر ہمارے اندر بھی تقویٰ و پرہیزگاری اور علم و عمل کا جذبہ بیدار ہوتاہے۔ اللہ کریم ہمیں بھی بزرگوں سے مَحبَّت کااظہار اور ان کی برکتیں پانےکےلئےان کاعرس منانےکی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...