Thursday, November 14, 2019

hazrat sayyidina imam ahmad bin hambal R.A[حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

hazrat sayyidina imam ahmad bin hambal R.A[حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


Best Web Hosting in Pakistan
حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا نام احمد،کنیت ابو عبد اللہ ہے۔آپ کی پیدائش ربیع الاول شریف ۱٦۴ہجری میں بغداد شریف میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ امام اعظم کے شاگرد حضرت امام ابو یوسف کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے،لیکن بعد میں آپ نے علم حدیث کی طرف توجہ دی اور ۱۵سال کی عمر میں حدیثیں سننے کے لئے بغداد کے مشہور محدث شیخ ہیثم کی بارگاہ میں حاضری دی۔ان کے بعد مکہ مکر مہ،مدینہ منورہ،بصرہ،شام،کوفہ، یمن اور مصر گئے اور علم حدیث حاصل کیا۔
امام احمد بن حَنبَل کے استادوں میں یحیی بن سعید قطان شاگرد امام اعظم،بشر بن مفضل،سفیان بن عینیہ،ابوداؤد طیالسی اور امام شافعی نہایت مشہور ہیں۔اور آپ کے شاگردوں میں امام بخاری،امام مسلم اور امام ابو دا ؤد بہت مشہور ہیں۔
امام احمد بن حَنبَل کے زمانہ میں خلیفہ مامون رشید نے یہ عقیدہ پھیلا نا شروع کر دیا کہ قرآن کریم اللہ تعالی کی مخلوق ہے۔ آپ نے فر مایا کہ قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے اور اللہ تعالی کی صفت ہے اور اس کی کوئی صفت مخلوق نہیں،آپ کو مجبور کیا گیاکہ آپ بادشاہ کے عقیدے کو قبول کر لیں لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اس کی سزا میں آپ پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ،آپ کو کوڑوں سے مارا گیا یہاں تک کہ آپ لہولہان ہو گئے ،اس کے باوجود بھی آپ نے بادشاہ کے غلط عقیدے کو قبول نہیں فر مایا اور آخر دم تک حق بات پر قائم رہے۔

آپ کے علم وفضل،زہد وتقوی اور مشکل ترین آزمائش میں پورے اترنے کی وجہ سے ان کے زمانے کے بڑے بڑے علما نے خوب خوب خراج عقیدت پیش کیا۔
امام ابودا ؤد فر ماتے ہیں میرے دو سو استاد ہیں لیکن اُن میں امام احمد کی طر ح کوئی نہیں تھا۔آپ کبھی عام دنیاوی کلام نہیں کرتے جب بھی گفتگو فر ماتے تو کوئی علمی مسئلہ ہوتا۔
مشہور محدث حافظ ابو زرعہ فر ماتے ہیں کہ:امام احمد علم وفن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
علم حدیث کے مشہور زمانہ امام اسحاق بن راہویہ فر ماتے ہیں کہ:اگر اسلام کی خاطر امام احمد کی قر بانیاں نہیں ہوتیں تو آج ہمارے سینوں میں اسلام نہیں ہوتا۔
آپ کے استاذ یحیی بن سعید قطان فرماتے تھے کہ:بغداد میں جو لوگ بھی آئےاُن سب میں مجھے احمد بن حنبل زیادہ محبوب ہیں۔
امام احمد کا زہد وتقویٰ اور بے نیازی مشہور تھی،آپ عبادت اور ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے اور دن رات میں تین سو رکعات نفل نماز پڑ ھتے تھے اور ایک ہفتہ کی نماز میں پورا قرآن شریف تلاوت فر مالیتے تھے۔آپ کو لوگ تلاش کرتے تو آپ یا تو مسجد میں،یا نماز جنازہ میں،یا کسی بیمار کے پاس عیادت میں ہوتے۔

حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا دل عشق رسول سے منور تھا،آپ کے پاس حضور رحمت عالم ﷺ کا ایک مقدس بال تھا،آپ اس کو چومتے،ہونٹوں پر لگاتے اور بیمار ہو جاتے تو اس کو پانی میں ڈال کر پانی پی لیتے جس سے شفا حاصل ہوتی۔
سیّدنا امام احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی دعائیں قبول ہوتیں تھیں،بہت سے لوگ آپ کے پاس دعا کرانے آتے۔ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی بیمار ماں کے لئے جو ہاتھ پاؤں سے معذور تھیں دعا کرانے آیا تو آپ نے فر مایا کہ:ہم خود دعا کے محتاج ہیں،اُن سے کہنا کہ ہمارے لئے دعا کریں،وہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں گھر واپس آیا تو میری ماں گھر میں ٹھیک ٹھاک چل پھر رہی تھیں۔
hazrat sayyidina imam ahmad bin hambal R.A[حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا وصال ۱۲ ربیع الاول ۲۴۱ہجری میں جمعہ کے دن ہوا۔آپ کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ شاہی خاندان کے ایک سو شاہزادے آپ کے غسل اور دفن میں شر یک تھے اور آپ کے مقدس پیشانی کو چومتے تھے،بے شمار لوگوں نے جنازہ کی نماز میں شر کت کی،دربار خلافت کے حکم سے جب لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگایا گیا تو دس لاکھ سے زیادہ کا مجمع تھا۔اس بھیڑ بھاڑ اور آپ کی مقبولیت کو دیکھ کر بیس ہزار یہودی اور عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا۔آپ سے پہلے کبھی کسی کے جنازے میں اتنے لوگ شر یک نہیں ہوئے۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Wednesday, November 13, 2019

sharm o haya[شرم و حیا]

sharm o haya[شرم و حیا]

شرم وحیا


Best Web Hosting in Pakistan
دُکھ، خوشی اور غصے کے اظہار کے طریقے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں جبکہ شَرْم و حیا ایسا وصف ہے جو صرف انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ جانور اور انسان کے درمیان وجہِ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے۔ اگر لب و لہجے،حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے دائرے میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی لئے ارشاد فرمایا: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر(بخاری) معلوم ہوا کہ کسی بھی بُرے کام سے رکنے کا ایک سبب شرم و حیا بھی ہے۔
وہ کام جو اللہ پاک اور اس کی مخلوق کے نزدیک ناپسند ہوں ان سے بچانے والے وصف کو ”شرم وحیا“ کہتے ہیں۔ اسلام اور حیا کا آپس میں وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔(مستدرک للحاکم) اسی لئے اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں، اشتہارات اور مارننگ شوز وغیرہ کے نام پر معاشرے میں شرم و حیا کے سائبان (شیڈ) میں چھید کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بے شرمی و بے حیائی تباہی لاتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ مردوں کے اخلاق و عادات بگڑنے سے معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور جب عورتوں میں یہ بیماری پھیل جائے تو نسلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا مرد ہو یا عورت اسلام دونوں کو حیا اپنانے کی تلقین کرتا ہے اور حیا کو تمام اخلاقیات کا سرچشمہ قرار دیتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: بے شک ہر دین کا ایک خُلق ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے(ابن ماجہ) ۔

صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو حقیقی حیا کو فَروغ دیتا ہے۔رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایسی تعلیمات عطا فرمائی ہیں جن پر عمل کرنا پورے معاشرے کو حیا دار بنا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات فطرتِ انسانی میں موجود شرم و حیا کی صفت کو اُبھارتی ہیں اور پھر اس میں فکر و شعور کے رنگ بھر کر اسے انسان کا خوشنما لباس بنا دیتی ہیں۔
حضرت سیّدُنا عمران بن حُصَین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کنواری، پردَہ نشین لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۔ (معجمِ کبیر) اسی حیا پَروَر ماحول کا نتیجہ تھا کہ حضرت سیّدتُنا اُمِّ خَلاد رضی اللہ عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا۔ یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے نقاب ڈالے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا: اس وقت بھی باپردہ ہیں! کہنے لگیں: میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے،حیا نہیں کھوئی۔(ابوداؤد) شرم و حیا بڑھائیے نورِ ایمان جتنا زیادہ ہوگا شرم و حیا بھی اسی قدر پروان چڑھے گی۔ اسی لئے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: حیا ایمان سے ہے۔(مسند ابی یعلیٰ) وہ لوگ جو مخلوط محفلوں (جہاں مردوعورت میں بے پردگی ہوتی ہو)،مکمل بدن نہ ڈھانپنے والے لباس، روشن خیالی اور مادر پِدَر آزادی کو جِدّت و ترقی کا زینہ سمجھ کر انہیں فَروغ دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ ان میں نورِ ایمان کتنا کم ہوگیا ہے؟ حیا تو ایسا وصف ہے کہ جتنا زیادہ ہو خیر ہی بڑھاتا ہے۔ اسی لئے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:حیا صرف خیر ہی لاتی ہے(مسلم) ۔

اس میں شک نہیں کہ جیسے جیسے ہم زمانَۂ رسالت سے دور ہوتے جا رہے ہیں شرم و حیا کی روشنیاں ماڈرن،اندھی اور تاریک تہذیب کی وجہ سے بُجھتی جا رہی ہیں۔ اس منحوس تہذیب کے جراثیم مسلم معاشرے میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگے ہیں۔ افسوس! وہ شرم و حیا جسے اسلام مَرد و زَن کا جُھومر قرار دیتا ہے آج اس جھومر کو کَلَنک کا ٹیکا (بدنامی کا دھبّا) بتایا جا رہا ہے۔ مَحْرم و نامَحرم کا تصوّر اور شعور دے کر اسلام نے مَرد و زَن کے اِختلاط پر جو بند باندھا تھا آج اس میں چھید نمایاں ہیں۔ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: خبردار کوئی شخص کسی(اجنبیہ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوتا مگر اُن کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے(ترمذی)۔
میڈیا جس تَواتُر سے بچّوں اور بڑوں کو بےحیائی کا درس دے رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ قابلِ غور ہے کہ جو نئی نسل والدین کے پہلو میں بیٹھ کر فلموں ڈراموں کے گندے اور حیا سوز مَناظر دیکھ کر پروان چڑھے گی اس میں شرم و حیا کا جوہر کیسے پیدا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نسلِ نَو کی ایک تعداد شرم و حیا کے تصوّر سے بھی کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔ شرم و حیا کی چادر کو تار تار کرنے میں رہی سہی کسر انٹر نیٹ نے پوری کردی ہے۔ اس کے فوائد اپنی جگہ مگر بےحیائی اور بے شرمی کے فَروغ میں بھی انٹرنیٹ نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ واقعی ”تیزترین“ ہے۔
اگر انسان خود شرم و حیا کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو گا تبھی اس کی اولاد بھی ان صفات و خَصائل کی حامل ہوگی اور اگر وہ خود شرم و حیا کا خیال نہ رکھے گا تو اولاد میں بھی اس طرح کے خراب جراثیم سرایت کرجائیں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حیا کو مُتأثّر کرنے والے تمام عَوامل سے دور رہا جا ئے اور اپنےتَشَخُّص اور روحِ ایمان کی حفاظت کی جائے۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Tuesday, November 12, 2019

Short Cut[شارٹ کٹ]

Short Cut[شارٹ کٹ]

شارٹ کٹ


Best Web Hosting in Pakistan
دین ِاسلام میں ہربھلےکام کی ترغیب اورپذیرائی ہے جبکہ ہر برےکام مسلمانوں کو روکاگیاہے، شارٹ کٹ یعنی مختصرراستہ مطلقاًبرانہیں ہوتا، بسااوقات اِختِصار(مختصر کرنا) شریعت کو محبوب بھی ہوتاہے ، البتہ ہمارے زمانے کےلوگوں بالخصوص نوجوانوں میں زندگی کےکئی مَراحِل پرغلط شارٹ کٹ اپنانے کی خرابی عام ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سےکئی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں جنم لےرہی ہیں، جبکہ کئی مقامات پردینی حدود واحکامات کو بھی پامال کیا جاتا اور ناجائز و حرام کاموں کا ارتکاب ہوتا ہے
امیربننےکےلئے ہمارے پچھلے اور پرانے لوگوں نے جو محنتیں کی ہیں،طریقۂ کار اختیار کیا ہے اور اپنی عمر کا ایک حصہ اس کوشش میں گزاراہے، آج کل نوجوانوں کی ایک تعداد ہے جو اس پورے پروسیجر کو اپنانے، محنت کرنے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کے بجائے کسی ایسے راستےکی تلاش میں ہے جس سے وہ جلد سےجلد امیر ہوجائے، لہٰذاعام طور پر وہ درج ذیل ناجائز ذرائع میں سےکوئی ذریعہ اپناتے ہیں: جلد مالدار بننے کے ارادے سے بیرونِ ملک کا غیرقانونی سفر کرنا ، کرپشن یعنی بدعنوانی کرنا اور رشوت لینا ،نشہ آور اَشیاءبیچنایاان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ،چوری اور ڈکیتی کرنا،جواکھیلنا ،جُوئے کی پرچی لینا اور بینکوں کے پیسوں کے معاملے میں گھپلے کرنا، یہ سب امیر بننے کے غلط اور تباہ کن شارٹ کٹ ہیں، نیز جلد مالدار بننے کیلئے دنیا میں ان کے علاوہ بھی کوئی غلط راستہ اپنایاجاتاہو توکوئی بعید(دور)نہیں۔

دفاتِرمیں کام کرنے والے ملازمین کی آمدنی عموماً نارمل ہوتی ہے، بَسااوقات وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اِنکم بڑھےجبکہ ان کی اتنی قابلیت و صلاحیت نہیں ہوتی، لہٰذا وہ اپنے مقصد کو پانے کیلئے مختلف غلط شارٹ کٹ استعمال کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہےکہ ناجائز طور پر اپنے سے اوپر والے کی جگہ لینے کی کوشش کرنا، اس کے لئے اپنے سینیئرز کی برائیاں اور بےجا شکایتیں بڑے آفیسرسے کرتے ہیں، بَسااوقات یہ کام اپنے سینیئرز سے حسد اور اَن بَن(ناراضی) کی بنا پربھی کیا جاتا ہے، اسی طرح کبھی مذکورہ دونوں صورتیں نہیں ہوتیں بلکہ مقصد صرف عہدے کا ہی حصول ہوتا ہے، جس کےلئے سینیئرز کی عزّت کو اُچھالاجاتاہے۔ یوں عام طورپراس طرح کے افراد اپنے حسد اورکینے کے باعث یا پھر مَنْصَب و شُہرت کے حصول کی خاطر جھوٹ، تہمت اور غیبت وغیرہ جیسے ناجائزو حرام کاموں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان صورتوں کومنصب اور عہدے کاغصب(چھیننا) بھی کہا جاسکتا ہے جو کہ مال کے غصب سے زیادہ بُرا ہے(حالانکہ مال کاغصب ناجائز و حرام ہے تو پھر عہدے کے غصب کےاُخرَوِی نتائج کس قدربھیانک ہوں گےاس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے)۔ ناجائز طور پر عہدے کے حصول کی دوسری صورت یہ ہے کہ جب صرف بےجا شکایتوں کے ذریعے بڑی پوسٹ کا حصول نہیں ہوپاتا توبسا اوقات ”رشوت دینے“ کے بُرے شارٹ کٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، حالانکہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رشوت دینے والے، لینے والے اوران دونوں کے درمیان معاملہ کروانے والے (دَلّال)پر لعنت فرمائی ہے اور کبھی غلط شارٹ کٹ کے ذریعے عہدے کے حصول کی تیسری صورت بھی ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک غیرِ قابل وغیرِ مستحق شخص رشتے داری یا محبت كی بنا پرکوئی عہدہ حاصل کرلیتاہے جبکہ کوئی شخص محض رشتہ داری یا محبت کا لحاظ کرتے ہوئے کسی کوعہدہ دےگا تووہ یقیناً کئی ایسی باتوں کو بھی نظر انداز کردے گا جو اس عہدے والے کے لئے ضروری ہوتی ہیں، نتیجۃً جس کو عہدہ دیا جائے گا وہ اس عہدے کی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے نِبھا نہیں سکے گا۔ اسی وجہ سے امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: مَنِِ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا لِمَوَدَّةٍ اَوْ لِقَرَابَةٍ لَايَسْتَعْمِلْه اِلَّا لِذٰلِكَ فَقَدْ خَانَ اللہَ وَرَسُوْلَه وَالْمُؤْمِنِيْنَ یعنی جس نے کسی شخص کو محبت یا رشتہ داری کی وجہ سے کوئی عہدہ دیا اور کوئی وجہ عہدہ دینے کی نہ تھی تو اس نے اللہ پاک ، اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور مومنوں سے خیانت کی۔

شارٹ کٹ کےذریعے عہدے کے حصول کی مذکورہ تینوں صورتیں تب ہی ممکن ہوتی ہیں جبکہ سسٹم میں بَدعُنوان اور کرپٹ لوگ شامل ہوں، جنہیں بجائے قابلیت وصلاحیت کےصرف مال ودولت، لحاظِ رشتہ ومحبت سےہی غرض ہو، ایسے بَدعُنوان لوگ دَرحقیقت اداروں اورملک وملّت کی عزّت و عظمت کونقصان پہنچانے، باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کاخون کرنے، ان کی دنیااوراپنی آخرت برباد کرنےکے علاوہ کوئی نمایاں کام نہیں کررہے ہوتے۔
ہر ملک میں لوگوں کی جان ومال اور عزّت کی حفاظت کے لئے کچھ نہ کچھ قوانین بنے ہوتےہیں، ان پرعمل ہرایک کیلئے فائدہ مَند ہوتا ہے، ان ہی میں سے ٹریفک کے اچھے قوانین بھی ہیں،ان قوانین پر عمل نہ کرکے شارٹ کٹ کرتے ہوئے بعض لوگ اپنی بلکہ دوسروں کی بھی جان ومال اورعزت کوداؤ پر لگادیتے ہیں، روڈ پارکرنے کے لئے پُل یا زیبرا کراسنگ کا استعمال نہ کرنا ،یوٹرن دور ہونے یا مطلوبہ مقام رونگ وے سے قریب ہونے کی وجہ سے رونگ وے استعمال کرنا ،ٹریفک جام کی صورت میں فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل چڑھا دینا یا پھر عام صورتِ حال ہی میں نارمل راستہ اختیار کرنے کے بجائے کسی ایسی راہ کو اختیار کرنا کہ جو مزید مصیبت میں ڈال دے مثلاً: وہ تنگ ہویا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو وغیرہ۔ البتہ اگر شارٹ کٹ قانون تُڑواتا یاجان و مال اور عزّت کو خطرے میں نہ ڈالتا ہو تو اسے استعمال کرنےمیں کوئی حرج نہیں۔
ہمارے معاشرے میں جتنےبھی غلط شارٹ کٹ اپنائے جاتے ہیں ان کی ایجادمیں ایک بہت بڑا ہاتھ فلموں، ڈراموں کابھی ہے، اگران سے اور اس طرح کے دیگر دینِ اسلام سے دور کرنے والے کاموں سے خود کو اور اپنی اولادکونہ بچایاگیا توآئندہ نہ جانے کیسی کیسی بھیانک خرابیاں اس معاشرےمیں جنم لے سکتی ہیں۔
ہر معاملے میں غلط شارٹ کٹ اپنانےسےخودبھی بچئے اور دوسروں کو بھی بچائیے، نیز غلط شارٹ کٹ کی سوچ کو پروان چڑھانے والے اسباب کو ختم کیجئے۔ اللہ کریم ہمیں بھلائی والے کام اپنانے اور برے کاموں سے خود کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Friday, November 8, 2019

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد  مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]
hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد  مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم


Best Web Hosting in Pakistan

حُضُورنبیِّ رَحْمت شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی’’محمد‘‘ہے۔ دیگرآسمانی کتابوں میں آپ کا نام ’’احمد‘‘ مذکورہے جبکہ قراٰن واَحادیث وسیرت کی کتب میں آپ کےسینکڑوں صفاتی نام ذِکْرکئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:’’مُزَّمِّل،مُدّثّر،رَءُوْف، رَحِیم،مُصطفٰے،مجتبیٰ،مرتضیٰ‘‘ وغیرہ جبکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلۂ قریش کےایک اعلیٰ خاندان بنو ہاشم سے تعلّق رکھتے تھے،والد ماجد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمِنہ ہے،والد کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بِن ہاشِم بن عبدِمَناف بِن قُصَی بِن کِلاب بِن مُرّہ۔ والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:محمد بِن آمِنہ بنتِ وَہب بن عبدِ مَناف بِن زُہرہ بِن کِلاب بِن مُرّہ ۔کلاب بن مُرّہ پر جاکر آپ کے والدین کا نسب مِل جاتاہے۔
آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت با سعادت۱۲ربیع الاول بروز پیرمطابق۲۰اپریل۵۷۱ء کو ہوئی۔ اس تاریخ کو دنیا بھر میں مسلمان میلاد شریف مناتے ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت سے پہلے ہی والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا۔ عمر مُبَارک تقریباً 5 سال کی ہوئی تو والدہ ماجدہ بھی وصال فرماگئیں اور آپ کی پرورش دا داجان حضرت عبدُ الْمُطّلب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی۔ دو سال کے بعد دادا جان بھی پردہ فرماگئے اور پرورش کی ذمّہ داری آپ کے چچا ابوطالِب نے سنبھالی۔
شرفائے عرب کا دستور کہ وہ اپنے بچّوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح کے دیہاتوں میں بھیجتے تھے تاکہ دیہات کی صاف ستھری آب وہوا میں ان کی جسمانی صحت اچّھی ہو جائے اور وہ فصیح عَرَبی زَبان بھی سیکھ جائیں۔اسی دستور کے موافق والدہ ماجدہ نے بچپن میں آپ کو حضرتِ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ان کےقبیلے بھیج دیاجہاں وہ آپ کو دودھ پلاتی رہیں۔اس عرصے میں آپ سے کثیر برکات کا ظہور ہوا۔ بچپن میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جُھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا، چاند آپ کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ بچّوں کی عادت کے مُطابق کبھی بھی کپڑوں میں بول و براز نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ ایک معَیّن وَقْت پر رفع حاجَت فرماتے۔ عُمْرِ مُبَارک چند سال ہوئی تو باہر نکل کر بچّوں کو کھیلتادیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہ ہوتے، لڑکے کھیلنے کے لئے بلاتے تو فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔

آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جوانی سچائی، دیانتداری،وفاداری، عہدکی پابندی، رحم وسخاوت، دوستوں سے ہمدردی، عزیزوں کی غمخواری، غریبوں اورمفلسوں کی خبرگیری،الغرض تمام نیک خصلتوں کا مجموعہ تھی۔حِرْص، طَمع، دَغا، فریب، جُھوٹ، شراب نوشی، ناچ گانا، لوٹ مار، چوری اور فحش گوئی وغیرہ تمام بُری عادتوں،مذموم خصلتوں اور عُیُوب ونَقائِص سے آپ کی ذاتِ گرامی پاک وصاف رہی۔ آپ کی راست بازی اور امانت ودیانت کا چرچا دُوردُور تک پہنچ چکاتھا ۔تجارت آپ کا خاندانی پیشہ تھا،۱۳سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلی بار اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملکِ شام کاتجارتی سفر فرمایا جبکہ۲۳سال کی عمر میں بغرضِ تجارت حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال لے کر اُن کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملکِ شام کا دوسرا سفراختیارکیا۔
آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےچارسےزائد نکاح فرمائے جو آپ کی خصوصیت ہے۔ پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر مایااور جب تک وہ حیات رہیں دوسرا نکاح نہ فرمایا۔آپ کی گیارہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کے اَسمائے گرامی یہ ہیں:حضرتِ خدیجۃُ الکبریٰ،حضرتِ سَودَہ ،حضرتِ عائشہ ،حضرتِ حَفْصہ،حضرتِ اُمِّ سَلَمہ ،حضرتِ اُمِّ حبیبہ،حضرتِ زینب بنتِ جَحش ،حضرتِ زینب بنتِ خُز یمہ، حضرت ِمیمونہ،حضرتِ جُویریہ اور حضرتِ صَفِیّہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔آپ کی تین باندیوں کے نام یہ ہیں:حضرتِ مارِیہ قِبْطِیَّہ ،حضرتِ رَیحانہ اورحضرتِ نفیسہ رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ۔اولاد آپ کے تین شہزادے:حضرت قاسم ،حضرت عبدُاللہ(طیب وطاہر) اور حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہم اور چارشہزادیاں ہیں:حضرتِ زینب ، حضرتِ رُقیّہ،حضرتِ اُمّ کُلثوم اورحضرتِ فاطمۃُ الزّہراء رضی اللہ تعالٰی عنہنَّ ۔آپ کی تمام اولاد مبارک حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی البتہ حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔
رشتہ دار چارمشہور چچا: حضرتِ حمزہ ،حضرتِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما،ابو طالِب اورابولہب۔چار پھوپھیاں: حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، عاتِکہ، اُمیمہ اوراُمّ حکیم۔

چالیس سال کی عمر میں آپ مکۂ مکرمہ سے تقریباً تین میل دورغارِحرا میں تشریف لے جاتے اور رب تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے۔یہیں آپ پر پہلی وحی کانزول ہوا ۔چالیس سال کی عمر میں ہی آپ نے اِعلانِ نُبوّت فرمایا، پھرتین سال تک پوشیدہ طورپر تبلیغِ اسلام کا فریضہ سَرانجام دیتے رہے، خواتین میں سب سے پہلے آپ کی زوجہ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،مَردوں میں سب سے پہلےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہاور بچوں میں سب سے پہلےحضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہاِسلام لائے، پھرحضرتِ عثمانِ غنی،حضرتِ زبیر بن عوام،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت طَلحہ بِن عُبَیْدُ اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی دامَنِ اِسلام میں آگئے۔ تین سال کے بعدآپ نے رب تعالیٰ کے حکم سے اپنے قبیلے والوں کو دعوتِ اِسلام دی، عذاب الٰہی سے ڈرایا، لیکن انہوں نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ناراض ہوکر نہ صرف چلے گئے بلکہ آپ کے خلاف اَول فَول بکنے لگے۔اِعلانِ نبوت کے چوتھے سال آپ اعلانیہ طور پر دِینِ اِسلام کی تبلیغ فرمانے لگے، شِرک وبُت پرستی کی کھلم کھلا بُرائی بیان فرمانے لگے جس پر کفار آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے نیز آپ کو اور دیگر مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔آپ کے چچا حضرت حمزہ اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قبول اسلام سے دِینِ اسلام کو بہت تقویت ملی لیکن پھر بھی کفّارکی مخالفت ختم نہ ہوئی بلکہ دِن بَدِن بڑھتی ہی گئی۔ کفارنے آپ کے خاندان والوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے ایک پہاڑ کی گھاٹی تک محصورکردیا جسے ’’شعبِ ابی طالب‘‘ کہا جاتا ہے۔یہاں آپ تین سال رہے اور آپ کوبڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ حج کے موقع پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل کو دعوتِ اِسلام دیتے اورہرسال کچھ لوگ اِسلام قبول کرلیتے۔اعلانِ نبوت کےتیرہویں سال مدینے سے آئے ہوئے ۷۲افراد نے اِسلام قبول کیا اور واپَس جاکر اپنے یہاں دعوتِ اِسلام دینا شُروع کردی اوررفتہ رفتہ شمعِ اسلام کی روشنی مدینہ سے قُباتک گھر گھرپھیل گئی۔
اعلانِ نبوت کے تیر ہویں سال سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینۂ منورہ جانے کی اجازت عطا فر مائی اور بعد میں حضرتِ سیّدنا ابو بکر صدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خود بھی ہجرت کرکے وہاں تشریف لے گئے۔ ہجرت کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مدینۂ منوّرہ کو گیارہ سال شرفِ قیام بخشا، اِن سالوں پیش آنے والے مختلف اہم واقعات کا مختصر تذکرہ ملاحظہ فرمائیے۔

پہلا سال مسجدِقُبا ومسجدِنبوی کی تعمیرکی گئی،پہلا جمعہ ادا فرمایا، اَذان واِقامت کی ابتدا ہوئی۔دوسرا سال قبلہ تبدیل ہوایعنی بیتُ الْمقدّس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نَماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے،نمازِ عیدین و قربانی کا حکم دیاگیا۔ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکاح ہوا۔مسلمانوں کو غزوۂ بدر میں فتحِ مبین حاصل ہوئی۔ تیسرا سال کفّار کے ساتھ غزوۂ اُحُد کا معرکہ درپیش آیا۔ ایک قول کے مطابِق اسی سال شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ چوتھا سال صلوٰۃ ُالخوف کا حکم نازل ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ سَلَمہ اور حضرتِ زینب بنتِ جَحش رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے نکاح فرمایا۔ نمازِ قصراور پردے کا حکم نازل ہوا۔ پانچواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ جُویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ غزوۂ احزاب یعنی غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی مُصطَلق واقع ہوئے۔ تَیَمُّمْ کا حکم بھی اِسی سال نازل ہوا۔چھٹا سال صلح حُدیبیہ اوربیعتِ رِضوان واقع ہوئے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف بادشاہوں کے نام اسلام کی دعوت پرمشتمل خُطوط روانہ فرمائے۔ حبشہ کے بادشاہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِسلام قبول کیا ۔ اسی سال آپ پرجادو کیا گیا اور اس کے توڑ کیلئے سورۂ فَلَق وسورۂ نَاس نازل ہوئیں۔ساتواں سال غزوۂ خیبر اور غزوۂ ذاتُ الرّقاع واقع ہوئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ اُمِّ حبیبہ،حضرتِ صَفیہ اورحضرتِ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے نکاح فرمایا۔ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازِعصرکیلئے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دُعا سے سورج واپس پلٹا۔آٹھواں سال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لختِ جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی، غزوۂ حنین واقع ہوا۔مکّۂ مکرّمہ فتح ہوا۔ نواں سال شاہِ حبشہ حضرت نَجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا۔ مختلف وُفود کی بارگاہِ رِسالت میں حاضِری ہوئی ۔ حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔غزوۂ تبوک واقع ہوا جس کیلئے صحابہ ٔکرام علیہمُ الرِّضوان نے دِل کھول کر مالی معاونت کی ۔ دسواں سال اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لخت جگرحضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا اور اسی سال آپ نے حج ادا فرمایا جسے حُجۃُ الوداع کہا جاتا ہے۔
hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد  مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]
گیارہواں سال ہجرت کے گیارہویں سال ۱۲ ربیع الاول بروزپیر بمطابق ۱۲جون٦۳۲عیسوی کو٦۳ سال کی عمر میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وِصال ِظاہری ہوگیااور حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے(یعنی گھر)میں تدفین ہوئی ۔
hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد  مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...