Monday, August 26, 2019

mizan[ میزان(اعمال تولنے کی ترازو)۔]

 mizan[ میزان(اعمال تولنے کی ترازو)۔]

میزان


حضرت سیّدنا داؤد علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی: مولیٰ مجھے میزان دکھا دے۔ جب آپ نے اُسے دیکھا تو بے ہوش ہو گئے ، جب اِفاقہ ہوا تو عرض کی :یا الٰہی!کس میں طاقت ہے جو اس کے پلڑے کو اپنی نیکیوں سے بھر دے؟ اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:اے داؤد!اِنِّي اِذَا رَضِيْتُ عَنْ عَبْدِی مَلَأتُهَا بِتَمْرَةٍ بے شک جب میں اپنے بندے سے راضی ہو جاؤں گا تو اِسے ایک کھجور سے ہی بھر دوں گا۔
عقیدہ میزان (اعمال تولنے کی ترازو) حق ہے، یعنی دلائلِ سمعیہ قطعیہ (قراٰن و سنّت) سے ثابت ہے۔اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ جس آلے کے ساتھ چیزوں کا وزن کیا جائے اسے میزان کہتے ہیں۔
قراٰن پاک میں ہے: (وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸))ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔ جمہور مفسّرین کے نزدیک اس آیت میں ’’ وَزْن‘‘ سے’’ میزان کے ذریعے اعمال کا وزن کرنا‘‘مراد ہے۔
میزان کی وسعت نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا اگر اس میں آسمانوں اور زمینوں کو رکھا جائے تو وہ اس میں سَما جائیں۔ فرشتے کہیں گے: یااللہ! اس میں کس کا وزن کیا جائے گا؟ اللہ تعالٰی ارشاد فرمائے گا: میں اپنی مخلوق میں سے جس کا چاہوں گا۔ فرشتے عرض کریں گے: تو پاک ہے، ہم تیری اس طرح عبادت نہیں کر سکے جوتیری عبادت کا حق ہے۔

میزان کی صفات امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالی فرماتے ہیں: میزان کو نصب کیا جائے گا،اس کے دو پلڑے ہیں، عرش کی سیدھی جانب کا پلڑا نورانی ہے جبکہ دوسرا تاریک (سیاہ) پلڑا عرش کی بائیں جانب ہے۔ نورانی پلڑا نیکیوں کیلئے جبکہ سیاہ پلڑاگناہوں کے لئے ہو گا۔حضرت سیّدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میزان کا ایک پلڑا جنّت پر اور دوسرا دوزخ پر ہوگا۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نیکیوں کا پلّہ اگر بھاری ہو گا تو اُوپر اٹھے گا اور بدی کا پلّہ نیچے بیٹھے گا، قال اللہ عَزَّوَجَلَّ:( اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗؕ-) ترجمہ کنزالایمان: اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے( جس کتاب میں لکھا ہے کہ نیکیوں کا پلہ نیچا ہوگا غلط ہے۔
میزان کے نگران حضرت سیّدنا حُذَیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: صَاحِبُ الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِبْرِيلُ یعنی قیامت کے دن میزان کے نگران حضرت جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوں گے۔ حضرت علامہ ابراہیم باجُوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نقل فرماتے ہیں: حضرت سیّدنا جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام ترازو کی ڈنڈی ہاتھ سے پکڑے ہوں گے، کانٹے پر ان کی نظر ہوگی جبکہ حضرت سیّدنا میکائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام میزان کے امین ہوں گے۔

islamic events © 2019,

Sunday, August 25, 2019

hoz e kausar[حوضِ کوثر]

hoz e kausar[حوضِ کوثر]

حوضِ کوثر


عقیدہ اللہ کریم ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو آخرت میں جو حَوض عطا فرمائے گا اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، جو اس کا انکار کرے وہ فاسِق و بدعتی ہے۔ حضرت علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حَوضِ کوثر کے متعلق احادیث ۵۰سے زائد صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے مروی ہیں۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے لئے ایک حَوض ہے اور انبیا آپس میں فخر کریں گے کہ کس کے حَوض پر زیادہ لوگ آتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ میرے حَوض پر سب سے زیادہ لوگ ہوں گے۔(ترمذی)۔
ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بلاشبہ حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور بَرف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کی خوشبو کَستُوری سے بڑھ کر اور پیالے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، جو انسان اس سے پیئے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس سے پی کر جانے والا انسان ہمیشہ سیراب رہے گا۔( حدیث)۔
حوضِ کوثر کے پرنالے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جنّت سے حوض میں دو پرنالے بہتے ہیں ان میں سے ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔(مسلم)۔حوضِ کوثر کی لمبائی چوڑائی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میرا حوض ایک مہینے کی مَسافَت کا ہے۔ اس کے گوشے برابر ہیں۔ (بخاری)۔

یعنی حوضِ کوثر جو میرا حوض ہے اس کی لمبائی چوڑائی کا یہ حال ہے کہ اگر اس کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ کی طرف چلا جائے تو چلنے والا ایک مہینہ میں وہاں پہنچے۔ حوضِ کوثر مُرَبَّع ہے لمبائی چوڑائی برابر اور اس کا ہر گوشہ زَاوِیہ قائمہ ہے حَادَّہ یا مُنْفَرِجَہ نہیں بلکہ گہرائی بھی ہر جگہ یکساں ہے یہ نہیں کہ کنارہ پر کم گہرا بیچ میں زیادہ گہرا۔
حوضِ کوثر کہاں ہوگا؟ حَوضِ کوثر کے مقام میں کئی اَقوال ہیں: حضرت امام ابراہیم بن محمد باجوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جمہور کا قول یہ ہے کہ حَوضِ کوثر پُل صِراط سے پہلے ہوگا، بعض نے اس کی تصحیح فرمائی ہے کیونکہ لوگ اپنی قبروں سے پیاسے نکلیں گے تو انہیں پانی پلانے کے لئے حوض پر لایا جائے گا۔بعض علما کے نزدیک حوضِ کوثر پُل صِراط کے بعد ہو گا۔حضرت امام محمدقُرطُبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:صحیح یہ ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو حوض ہوں گے ایک پُل صِراط سے پہلے اور پُل صِراط کے بعد،ان دونوں کا نام کوثر ہے۔
حضرت سیّدنا امام جلالُ الدّین سُیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس میں یوں بھی تطبیق ہوسکتی ہےکہ بعض لوگ پُل صِراط عبور کرنے سے پہلے حوض سے جام پئیں گے اور بعض کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پُل صِراط عُبور کرنے کے بعد حَوض سے پلایا جائے گا تاکہ پُل صِراط عُبور کرکے گناہوں سے پاک ہوجائیں پھر حوض سےپئیں۔یہ قول زیادہ قوی ہے۔

کیا حَوضِ کوثر اسی زمین پر ہوگا حضرت سیِّدُنا امام محمد قُرطُبی رحمۃ اللہعلیہ فرماتےہیں:تمہارے وَہم و خَیال میں بھی یہ نہ آئے کہ حوض اسی سطحِ زمین پر ہوگا بلکہ حَوض اس تبدیل کردہ زمین پر ہوگا جو چاندی کی طرح سفید ہوگی، اس پر نہ تو کبھی خون بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کیاگیا ہوگا۔
حوضِ کوثر پر سب سے پہلے کون رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اَوَّلُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ اَهْلُ بَيْتِی وَمَنْ اَحَبَّنِي مِنْ اُمَّتِي یعنی سب سے پہلے میرے پاس حَوضِ کوثر پر آنےوالے میرے اہلِ بیت ہیں اور میری اُمّت میں سے میرے چاہنے والے۔(حدیث)۔حَوضِ کوثر پر جنہیں چابُک مارے جائیں گے حضرت سیِّدُنا امامِ حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم سے بُغض (دشمنی) مت رکھنا کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:لَایُبْغِضُنَا وَ لَایَحْسُدُنَا اَحَدٌ اِلَّا ذِیْدَ عَنِ الْحَوْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِسِیَاطٍ مِنْ نَارٍ یعنی جو ہم سے بُغض و حَسَد کرے گا، اسے قِیامت کے دن حَوضِ کوثر سے آگ کے چابکوں کے ذریعے دُور کیا جائے گا۔(حدیث)۔
آبِ کوثر سے بھرا پیالہ چاہئے تو یہ دُرودِ پاک پڑھا کیجئے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص حَوضِ کوثر سے بھرا پیالہ پینا چاہے وہ اس دُرُودِ پاک اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَوْلَادِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیّٰتِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ وَاَصْھَارِہٖ وَاَنْصَارِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ وَمُحِبِّیْہِ وَاُمَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کو پڑھے۔

islamic events © 2019,

Saturday, August 24, 2019

pul sirat[پُل صراط]

pul sirat[پُل صراط]

پُل صراط


عقیدہ”صِراط“ حق ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب اور اِس کا انکار گمراہی ہے۔ اس پُل سے گزرے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا کیونکہ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے۔
نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جہنَّم پر ایک پُل ہے جو بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، اس پر لوہے کےکُنڈے اور کانٹے ہیں جسے اللہ پاک چاہے گا یہ اُسے پکڑیں گے۔ لوگ اُس سے گزریں گے، بعض پلک جھپکنے کی طرح، بعض بجلی کی طرح، بعض ہوا کی طرح، بعض بہترین اور اچھے گھوڑوں اور اُونٹوں کی طرح (گزریں گے) اور فِرشتے کہتے ہوں گے: ’’رَبِّ سَلِّمْ، رَبِّ سَلِّمْ‘‘ (یعنی اے پَروَردگار سلامتی سے گزار، اے پروَر دگار سلامتی سے گزار ) بعض مسلمان نجات پائیں گے، بعض زخمی ہوں گے، بعض اَوندھے ہوں گے اور بعض منہ کے بل جہنَّم میں گِر پڑیں گے۔ (حدیث:) حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا جیسا عمل، جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار۔ یہاں اَشِعَّۃُ اللَّمۡعَات نے فرمایا کہ اعمال سببِ رفتار ہیں اور حضور صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قُرْب زیادہ اتنی رفتار تیز۔
پُل صراط ہر ایک کے لئے بال سے زیادہ باریک نہیں ہو گا بلکہ جس کے لئے اللہ کریم چاہے گا اُس کے لئے وسیع و عریض وادی کی طرح ہو گا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا سَعید بن ابو ہِلال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: میرے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے روز پُل صراط بعض لوگوں پر بال سے بھی زیادہ باریک ہوگا اور بعض کے لئے کُشادہ وادی کی طرح ہوگا۔(حدیث)۔

پُل صراط سے ہر ایک کو گُزرنا ہے جیسا کہ قراٰنِ مجید میں ہے:( وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱)) ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے ربّ کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔ (پ۱٦، مریم: ۷۱) ۔حضرت سیّدنا عَبداللّٰہ بن مَسعود، حضرت سیّدنا حسن اور حضرت سیّدنا قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنھم سے روایت ہے کہ جہنم پر وارد ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو کہ جہنم کے اوپر بچھایا گیا ہے۔
سب سے پہلے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیاء و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی۔ اللہ کریم نے حضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا: اے داوٗد! کیا تم جانتے ہو پل صراط پر سب سےتیزی سے گزرنے والے کون ہوں گے؟ وہ جو میرے فیصلے پر راضی رہے اور ان کی زبانیں میرے ذکر سے تَر رہیں۔پُل صراط سے گُزرنے والا آخری شخص پیٹ کے بَل گِھسَٹ گِھسَٹ کر گزرے گا، وہ اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کرے گا: یا اللہ مجھے اتنی دیر کیوں لگی؟ اللہ کریم ارشاد فرمائے گا: تجھے میں نے دیر نہیں کروائی بلکہ تجھے تیرے اعمال نے دیر کروائی ہے۔
ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الاَحْبار علیہ رحمۃ اللہ الغفَّار نے سورۂ مریم کی یہی آیت( وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-) تلاوت کی: پھر فرمایا: تم جانتے ہو کہ دوزخ پر لوگوں کا گزرکس طرح ہوگا؟ پھر خود ہی فرمانے لگے: جہنم لوگوں پر ایسےظاہر ہو گا گویا چربی کی تَہ جمی ہے، جب نیک و بد کے قدم اس پر جَم جائیں گے تو ایک منادی ندا دےگا: اے جہنم! اپنے اصحاب پکڑلے اور میرے اصحاب چھوڑ دے پھرجہنم میں جانےوالےاس میں گرنے لگیں گےوہ انہیں اس طرح پہچان لےگاجیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے، مؤمن اسےاس طرح پار کر لیں گے کہ ان کے کپڑوں پر کوئی نشان نہیں ہوگا۔

جنَّتیوں پر یہ انعام بھی ہو گا کہ اُنہیں جہنم کی ہلکی سی آواز بھی سُنائی نہیں دے گی چنانچہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ( لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۲)) (پ۱۷،الانبیآء:۱۰۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
پُل صراط کی مسافت کتنی ہے اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:۱۔بہت سے علماء و مفسرین نے حضرت سیِّدنا امام مجاہد اور حضرت سیّدنا امام ضحّاک رَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی سے نقل فرمایا کہ پُل صراط کا سفر تین ہزا ر سال کی راہ ہے، ایک ہزار سال اوپر چڑھنے کے،ہزار سال نیچے اُترنے کے اور ہزار سال اس کی سطح پر چلنے کے۔۲۔حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاضرَحمۃُ اللہ تعالٰی عَلیہِ سے منقول ہے: پُل صراط کاسفر پندرہ ہزا ر سال کی راہ ہے، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال(اس کی پشت پر)چلنے کے۔ اس پر سے وہ گزرسکے گا جو خوفِ خدا کے باعث ناتوان وکمزور ہوگا۔
نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صراط پر کھڑے رَبِّ سَلِّمْ رَبّ سَلِّم دُعا کر رہے ہوں گے۔(مسلم)اور فرشتے بھی اس پر کھڑے عرض کررہے ہوں گے: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! سلامتی سےگزار، سلامتی سے گزار۔اللہ کریم ہمیں سلامتی سے پل صرط سے پار لگائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2019,

Friday, August 23, 2019

kab gunahon se kinara[مُناجات:کب گناہوں سے کَنارا میں کروں گا یارب!]

kab gunahon se kinara[مُناجات:کب گناہوں سے کَنارا میں کروں گا یارب!]

کلام سنیے


مُناجات



کب گناہوں سے کَنارا میں کروں گا یارب!

نیک کب اے مِرے اللہ! بنوں گا یارب!

کب گناہوں کے مَرَض سے میں شِفا پاؤں گا

کب میں بیمار مدینے کا بنوں گا یارب!

آج بنتا ہوں مُعَزَّز جو کُھلے حشر میں عیب

آہ! رُسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب!

عَفْو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا

گر کرم کردے تو جنّت میں رہوں گا یارب!

دے دے مرنے کی مدینے میں سعادت دیدے

کس طرح سندھ کے جنگل میں مروں گا یارب!

کاش! ہر سال مدینے کی بہاریں دیکھوں

سبز گُنبد کا بھی دیدار کروں گا یارب!

اِذْن سے تیرے سرِ حَشْر کہیں کاش! حُضور

ساتھ عطّاؔر کو جنّت میں رکھوں گا یارب!

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہِ

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...