Monday, September 30, 2019

Masjid E Nabawi Sharif[مسجدِ نبوی شریف]

Masjid E Nabawi Sharif[مسجدِ نبوی شریف]

مسجدِ نبوی شریف


حضورنبیِّ کریم، رءوفُ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب مکّہ معظّمہ سے ہجر ت فرما کر مدینۂ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ بنی عَمْرو بن عَوف کے پاس دس دن سے کچھ زائد قیام فرمایا ، وہاں مسجد قُبا کی بنیاد رکھی اور اس میں نماز ادا فرمائی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے جھُرمٹ میں آگے بڑھےیہاں تک کہ اونٹنی مدینۂ منورہ میں آ کر اس مقام پر بیٹھ گئی جہاں اس دن بعض مسلمان نمازیں ادا کررہے تھے۔ یہ کھجوروں کو خشک کرنے کی جگہ تھی اور یہ زمین دو یتیم بچوں سَہْل اور سُہَیْل کی تھی جو حضرت سیدنا اَسْعَد بن زُرارَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زیرِ کَفالت تھے۔ جب اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہی ہماری منزل ہو گی ان شآء اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ پھر رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان بچّوں کو بلایا اور ان سے زمین خریدنے کے لئے گفتگو فرمانے لگے تو انہوں نے عرض کیا: ہم آپ کو بطور نذرانہ پیش کرتے ہیں۔(بخاری) رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ زمین بلاقیمت قبول نہ فرمائی بلکہ اس کو خریدا اور رقم حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ادا کی۔

مسجد نبوی شریف کاسنگِ بنیاد کس نے اور کب رکھا؟:ربیع الاوّل1ھ مسجد نبوی شریف کا سنگ بنیاد اس انداز سے رکھا گیا کہ پہلا پتھر حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے، دوسرا حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق نے، تیسرا حضرت سیّدنا عمرفاروق نے رضی اللہ تعالی عنہم نے رکھا۔
مسجد نبوی کی تعمیر: صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان مسجدِ نبوی کی تعمیر کیلئے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے اور خود حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے ساتھ اینٹیں اٹھا کر لاتے تھے
مسجد نبوی شریف کا رقبہ اور تعمیر کا سامان: حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانہ اقدس میں مسجد نبوی شریف کی لمبائی ۷۰ ہاتھ، چوڑائی ٦۰ ہاتھ تھی جو تقریباً۳۰/۳۵ میڑ بنتے ہیں۔چھت کی بلندی پانچ ہاتھ، بنیادیں پتھر کی ، دیواریں کچی اینٹوں کی، سُتون کھجور کے تنوں کے اور چھت کھجور کی شاخوں کی بنائی گئی، مسجد نبوی کے تین دروازے تھے، ایک دروازہ مسجد کی جنوبی جانب تھا جسے تحویل قبلہ کے بعد بند کرکے اس کے سامنے شمالی جانب دروازہ کھول دیاگیا جبکہ دوسرے دودروازوں میں سے ایک بابِ رَحمت اور دوسرا بابِ جبریل تھا، مسجد کا دالان تین صفوں پر مشتمل اور باقی صحن تھا۔

islamic events © 2019,

Saturday, September 28, 2019

Mahe Safar ul Muzaffar[ماہ صفر المظفر]

Mahe Safar ul Muzaffar[ماہ صفر المظفر]

ماہ صفر المظفر


اسلامی سال کے دوسرے مہینے کا نام ’’صفر المظفر‘‘ ہے۔یہ صفر بالکسر سے ماخوذ ہے، جس کا معنی خالی ہے۔ حرمت والے چار مہینوں میں جنگ کرنا اہلِ عرب کے نزدیک حرام تھا، اس لیے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام میں باشندگانِ عرب گھروں میں بیٹھتےیا سفر حج اختیار کرتے، اور جب ماہِ صفر شروع ہوتا تو رُکے ہوئے تنازعات ’’از سرِنو جدال و قتال ‘‘ میں مصروف عمل ہوجاتے، پھر گھروں کو خالی چھوڑتے اور میدانِ جنگ کا رخ کرتے اس لیے اس ماہ کو صفر کہتے ہیں۔
باطل عقائد و رسومات :ماہ صفر المظفرکوجاہل لوگ منحوس سمجھتے ہیں، اس میں شادی کرنے اور لڑکیوں کو رخصت کرنے سے، نیا کاروبار شروع کرنے اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ خصوصاًماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ منحوس گمان کی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے عنوان سے سفید چنے (کابلی چنا) کی نیاز بھی دی جاتی ہے۔ نیاز و فاتحہ کرنا مستحب ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اگر تیرہ تیزی کی فاتحہ نہ دی اور سفید چنے پکا کر تقسیم نہ کیے تو گھر کے کفیل افراد (خصوصاً کمانے والے) کا روزگار متاثر ہوگا، یہ باطل نظریہ ہے۔ نیاز و فاتحہ ہر طرح کے رزقِ حلال پر دی جاسکتی ہے اور ہرماہ کی ہر تاریخ کو دی جاسکتی ہے۔ محض ماہِ صفر سے کسی نیاز کو مقید کرنا جہالت ہے۔

ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ کو ’’آخری بدھ‘‘کے عنوان سے لوگ بہت مناتے ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل (کپڑے کا کاروبار) قالین بافی، لوہار، بڑھئی اور بنارسی (کھڈی لوم) کا کام کرنے والے اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں، سیر و تفریح کو جاتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں،خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس روز صحت کا غسل فرمایا تھا۔ اور بیرونِ شہر(یعنی مدینہ طیبہ کے باہر) سیرو تفریح کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل اور بے بنیاد ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان نے تحقیق فرمائی ہے کہ ماہِ صفر کے آخری ہفتہ میں سیّد العرب والعجم ﷺ کا مرض شدت کے ساتھ تھااور فوراً بعد ربیع الاول شریف میں آقائے دوجہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حیات کا عرصہ گزار کر وصال فرما گئے تھے۔ ان تاریخوں میں جو باتیں لوگوں میں مشہور ہیں، وہ خلافِ شرع و حقیقت ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں۔ اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جن کے بارے میں کئی احادیث وارد ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرۃَ وَ اُحِبُّ الْفَالَ الصَّالِحَ(مسلم شریف )(ترجمہ) معروف محدّث و مُعَبِّر امام محمد بن سیرین ؒ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، بیماری کا لگنا اور بدشگونی کوئی چیز نہیں فالِ بد کچھ نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔

islamic events © 2019,

Friday, September 27, 2019

mimbar e rasool sallallahu alaihi wasallam[مِنبر رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم]

mimbar e rasool sallallahu alaihi wasallam[مِنبر  رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم]

مِنبر رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حدیثِ پاک میں ہے کہ جب نبیِّ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خطبہ ارشاد فرماتے توکھڑے ہوجاتےپھر قیام کو طویل کرتے توکھڑے رہنا دُشوار ہوتا چنانچہ کھجور کا ایک تنا لا کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلو کی جانب زمین میں گاڑ کر کھڑاکردیاگیا،جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خطبہ ارشاد فرماتے اور قیام طویل ہوجاتا تو اس سےسہارا لیتے اورٹیک لگا لیتے۔
صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے عرض کیا کہ لوگ زیادہ ہو گئے ہیں،ہم آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے منبر بنوا لائیں جس پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمائیں؟ تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اجازت عطا فرما دی۔
مِنبررسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کس نے اور کس چیز سے بنایا؟ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہےکہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک خاتون کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے بڑھئی غلام سے میرےلئے لکڑیوں کی کوئی ایسی چیز بنواد و کہ جس پر بیٹھ کر لوگوں سے گفتگو کر سکوں۔ اس خاتون نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ جنگل سے جھاؤ (کی لکڑی کا) منبر بنادو،وہ تیار کر کے لایا تو اس عورت نے اسے نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں پیش کر دیا گیا، نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم کے مطابق اسے رکھا گیا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس پر تشریف فرما ہوئے(بخاری)۔

کھجور کا تنا رونے لگا جب منبر شریف تیار ہو گیا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس پر خطبہ دینے کیلئے جلوہ افروز ہوئے تو کھجور کے تنے سے رونے کی آواز آئی۔ آپ نے اس پر دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا پھر نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم سےاس کو منبر کے نیچے دفن کر دیا گیا(بخاری)۔
مِنبررسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیسا تھا؟ مِنبر شریف کی لمبائی دو گز، چوڑائی ایک گز اور سیڑھیاں تین تھیں ہر سیڑھی کی بُلندی ایک بالشت اور لمبائی ایک ہاتھ تھی اور اس کے تین زینے (سیڑھیاں) اس تخت کے علاوہ تھے جس پر بیٹھا جاتا ہے حضور سیّدِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم درجۂ بالا پر خطبہ فرمایا کرتے، (حضرت سیدنا ) صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دوسرے پر پڑھا، (حضرت سیدنا ) فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تیسرے پر۔
مِنبررسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر چادر حضرت سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سب سے پہلے مِنبر پر قِبطی چادر چڑھائی۔

islamic events © 2019,

Thursday, September 26, 2019

ghar E sor[غارِثور]

ghar E sor[غارِثور]

غارِ ثور


غارِ ثور اسلام کے تاریخی مقامات میں سے نہایت مبارک مقام ہے، دنیا بھر کے عاشقانِ رسول دیگر ایام میں بالعموم اور عمرہ و حج کے موقع پر بالخصوص اِس مقدس مقام کی نہ صِرف زیارت کرتے ہیں بلکہ یہاں نوافل وغیرہ ادا کرکے خوب برکتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس غار میں چونکہ ثَور بن عبدِمَنات آکر ٹھہرا تھا اسی لئے اسے غارِ ثَور کہتے ہیں۔ غارِ ثور مکۂ مکرمہ کی دائیں جانِب’’ مَحَلَّۂ مَسفَلہ‘‘ کی طرف کم و بیش چار کلومیٹر پر واقِع جبلِ ثور میں ہے۔
شہنشاہِ دوجہاں کا غارِثَور میں قیام محبوبِِ ربِّ اکبر صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے یارِغارویارِمزارحضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ بَوَقتِ ہِجرَت یہاں تین رات قِیام پذیر رہے۔ جب دشمن تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے منہ پر آپہنچے تو حضرتِ سیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ غمزدہ ہو گئے اور عرض کی: یَارَسُولَ اللہ! دشمن اتنے قریب آچکے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالیں گے تو ہمیں دیکھ لیں گے، سرکارِ نامدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں تسلّی دیتے ہوئے فرمایا:( لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ- ) ترجَمۂ کنزالایمان:غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (پ۱۰،التوبہ: ۴۰)سرکارِ علیہِ الصَّلٰوۃ و السَّلام یکم ربیع الاوّل جمعرات کی رات کو مکۂ مکرمہ سے نکل کر غارِثور میں مقیم ہوئے، تین راتیں یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی راتیں غارمیں قیام فرمایا، پھر وہاں سے پیر کی رات۵ربیع الاوّل کوعازمِ مدینہ ہوئے۔

ایک قول کے مطابق غارِثور والے پہاڑ یعنی جَبَلِ ثَور پر ہی سب سے پہلا قتل ہوا، قابیل نے اپنے بھائی حضرت سیِّدُنا ہابیل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کیا۔
جبل ثَور اور غارِ ثَور کی پیمائش جبلِ ثور کی بلندی ۷۵۹ میٹر ہے یعنی یہ پہاڑ جبلِ اُحُد سے ۱۲۰میٹر زیادہ اونچا ہے، جبلِ ثَور کی چوٹی کا رقبہ تقریباً ۳۰ مربع میٹر ہے۔ غارِ ثور کی لمبائی ۱۸ بالشت اور چوڑائی ۱۱بالشت ہے، غارِ ثور سطحِ سمندر سے تقریباً ۷۴۸ میٹر بلند ہے۔ اس کا چھوٹا دَہانہ تقریباً نصف میٹر کھلا ہے جبکہ غار میں کھڑے ہوں تو سر چھت سے لگتا ہے۔ جب رب تعالیٰ نے کوہِ طورپر تجلی فرمائی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور ان ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا جبلِ ثَوربھی ہے۔
غارِ ثَور کی اندرونی ساخت حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی غارِ ثور کی ہیئت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’اس غار کے دو دروازے ہیں،کفار اُس دروازے پر پہنچے جس سے حضور داخل ہوئے تھے۔اس دروازے کی لمبائی ایک ہاتھ ہے چوڑائی صرف ایک بالشت۔ یہ فقیر اس غار شریف سے نکلتے وقت دروازے میں پھنس گیا تھا رگڑ سے کچھ سر کے بال اڑ گئے وہاں پہلے بہت سوراخ تھے مگر اب کوئی سوارخ نہیں ہے۔ اندرچھ سات آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...