Friday, April 10, 2020

Hazrat Essa A S Ke Char Mojzat[حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار معجزات]

Hazrat Essa A S Ke Char Mojzat[حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار معجزات]

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار معجزات


حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے سامنے اپنی نبوت اور معجزات کا اعلان کرتے ہوئے یہ تقریر فرمائی۔ جو قرآن مجید کی سورہ آلِ عمران میں ہے:۔
وَرَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدْ جِئْتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ۙ اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذْنِ اللہِ ۚ وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمْ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾۔
ترجمہ کنزالایمان:۔اور رسول ہو گا بنی اسرائیل کی طرف یہ فرماتا ہوا کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے، اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو، اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے، اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ بے شک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ (پ۳،آل عمران:۴۹)۔


اس تقریر میں آپ نے اپنے چار معجزات کا اعلان فرمایا:۔۔(۱)مٹی کے پرند بنا کر ان میں پھونک مار کر ان کو اڑا دینا۔۔۲)مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا۔۔(۳)مردوں کو زندہ کرنا۔۔(۴)اور جو کچھ کھایا اور جو کچھ گھروں میں چھپا کر رکھا اس کی خبر دینا۔
اب ان معجزات کی کچھ تفصیل بھی پڑھ لیجئے:۔
مٹی کے پرند بنا کر اُڑا دینا:۔ جب بنی اسرائیل نے یہ معجزہ طلب کیا کہ مٹی کا پرند بنا کر اڑا دیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مٹی کے چمگادڑ بنا کر ان کو اڑا دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پرندوں میں سے چمگادڑ کو اس لئے منتخب فرمایا کہ پرندوں میں سب سے بڑھ کر مکمل اور عجیب و غریب یہی پرندہ ہے کیونکہ اس کے آدمی کی طرح دانت بھی ہوتے ہیں اور یہ آدمی کی طرح ہنستا بھی ہے اور یہ بغیر پر کے اپنے بازوؤں سے اڑتا ہے اور یہ پرندہ جانوروں کی طرح بچہ جنتا ہے اور اس کو حیض بھی آتا ہے۔روایت ہے کہ جب تک بنی اسرائیل دیکھتے رہتے یہ چمگادڑ اڑتے رہتے اور اگر ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے تو گر کر مرجاتے تھے۔ ایسا اس لئے ہوتا تھا تاکہ خدا کے پیدا کئے ہوئے اور بندئہ خدا کے پیدا کئے پرند میں فرق اور امتیاز باقی رہے۔ (روح البیان،ج۲،ص۳۷،پ۳، آل عمران:۴۹)۔
مادر زاد اندھوں کو شفا دینا:۔ روایت ہے کہ ایک دن میں پچاس اندھوں اور کوڑھیوں کو آپ کی دعا سے اس شرط پر شفاء حاصل ہوئی کہ وہ ایمان لائیں گے۔ (تفسیر جمل،ج۱،ص۴۱۹،پ۳،آل عمران ۴۹)۔


مردوں کو زندہ کرنا:۔روایت ہے کہ آپ نے چار مردوں کو زندہ فرمایا:۔(۱)عاذر اپنے دوست کو۔ (۲)ایک بڑھیا کے لڑکے کو۔(۳)ایک عُشر وصول کرنے والے کی لڑکی کو۔ (۴)حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو
عاذر:۔یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک مخلص دوست تھے جب ان کا انتقال ہونے لگا تو ان کی بہن نے آپ کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ کا دوست مررہا ہے۔ اس وقت آپ اپنے دوست سے تین دن کی دوری کی مسافت پر تھے۔ عاذر کے انتقال و دفن کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں پہنچے اور عاذر کی قبر کے پاس تشریف لے گئے اور عاذر کو پکارا تو وہ زندہ ہو کر اپنی قبر سے باہر نکل آئے اور برسوں زندہ رہے اور صاحب ِ اولاد بھی ہوئے۔
بڑھیا کا بیٹا:۔یہ مرگیا تھا اور لوگ اس کا جنازہ اٹھا کر اس کو دفن کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ ناگہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا تو وہ آپ کی دعا سے زندہ ہو کر جنازہ سے اٹھ بیٹھا اور کپڑا پہن کر اپنے جنازہ کی چارپائی اٹھائے ہوئے اپنے گھر آیا اور مدتوں زندہ رہا اور اس کی اولاد بھی ہوئی۔
عاشر کی بیٹی:۔ایک چنگی وصول کرنے والے کی لڑکی مرگئی تھی۔ اس کی موت کے ایک دن بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے زندہ ہو گئی اور بہت دنوں تک زندہ رہی اور اس کے کئی بچے بھی ہوئے۔


حضرت سام بن نوح:۔ اوپر کے تینوں مردوں کو آپ نے زندہ فرمایا تو بنی اسرائیل کے شریروں نے کہا کہ یہ تینوں درحقیقت مرے ہوئے نہیں تھے بلکہ ان تینوں پر سکتہ طاری تھا اس لئے وہ ہوش میں آگئے لہٰذا آپ کسی پرانے مردہ کو زندہ کر کے ہمیں دکھایئے تو آپ نے فرمایا کہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کو وفات پائے ہوئے چار ہزار برس کا زمانہ گزر گیا۔ تم لوگ مجھے ان کی قبر پر لے چلو میں ان کو خدا کے حکم سے زندہ کردیتا ہوں تو آپ نے ان کی قبر کے پاس جا کر اسم اعظم پڑھا تو فوراً ہی حضرت سام بن نوح علیہ السلام قبر سے زندہ ہو کر نکل آئے اور گھبرائے ہوئے پوچھا کہ قیامت قائم ہو گئی؟ پھر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے پھر تھوڑی دیر بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
جو کھایا اور چھپایا اس کو بتا دیا:۔حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مکتب میں بنی اسرائیل کے بچوں کو ان کے ماں باپ جو کچھ کھاتے اور جو کچھ گھروں میں چھپا کر رکھتے وہ سب بتا دیا کرتے تھے۔ جب والدین نے بچوں سے دریافت کیا کہ تمہیں ان باتوں کی کیسے خبر ہوتی ہے؟ تو بچوں نے بتا دیا کہ ہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکتب میں بتا دیتے ہیں۔ یہ سن کر ماں باپ نے بچوں کو مکتب جانے سے روک دیا اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جادوگر ہیں۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچوں کی تلاش میں بستی کے اندر داخل ہوئے تو بنی اسرائیل نے اپنے بچوں کو ایک مکان کے اندر چھپا دیا کہ بچے یہاں نہیں ہیں آپ نے پوچھا کہ گھر میں کون ہیں؟ تو شریروں نے کہہ دیا کہ گھر میں سوّر بند ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اچھا سوّر ہی ہوں گے۔ چنانچہ لوگوں نے اس کے بعد مکان کا دروازہ کھولا تو مکان میں سے سوّر ہی نکلے۔ اس بات کا بنی اسرائیل میں چرچا ہو گیا اور بنی اسرائیل نے غیض و غضب میں بھر کر آپ کے قتل کا منصوبہ بنالیا۔ یہ دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت بی بی مریم رضی اللہ عنہا آپ کو ساتھ لے کر مصر کو ہجرت کر گئیں۔ اس طرح آپ شریروں کے شر سے محفوظ رہے۔(تفسیر جمل علی الجلالین،ص۴۱۹،پ۳، آل عمران ۴۹)۔
حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفٰی اعظمی ؒ ۔۔۔۔



islamic events © 2020,

Wednesday, April 1, 2020

April Fool[اپریل فُول]

April Fool[اپریل فُول]

اپریل فُول


مُعَاشَرے میں پائی جانے والی برائیوں میں ایک ناسُور ”اپریل فُول “ بھی ہے جسے یکم اپریل کو رسم کے طور پر منایا جاتا ہے، نادان لوگ اس دن پریشان کردینے والی جھوٹی خبر سُنا کر، مختلف انداز سے دھوکا دے کر اپنے ہی اسلامی بھائیوں کو فُول (یعنی بے وقوف) بنا کر خوش ہوتے ہیں، مثلاً کسی کو یہ خبر دی جاتی ہے کہ ٭آپ کا جَوان بیٹا فلاں جگہ ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے شدید زخمی ہے اور اسے فلاں اَسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے ٭آپ کا فلاں رشتہ دار انتقال کرگیا ہے ٭آپ کی دکان میں آگ لگ گئی ہے ٭آپ کی دکان میں چوری ہوگئی ہے ٭آپ کے پلاٹ پر قبضہ ہوگیا ہے ٭آپ کی گاڑی چوری ہوگئی ہے ٭آپ کے بیٹے کو تاوان کے لئے اغوا کرلیا گیا وغیرہ۔ پھر حقیقت کھلنے پر ”اپریل فُول، اپریل فُول“ کہہ کر اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ جو جتنی صفائی اور چالاکی سے دوسرے کو بے وقوف بنائے وہ خود کو اُتنا ہی عقل مند سمجھتا ہے مگر اس’’ فُول ‘‘کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی’’ بُھول ‘‘کر چکا ہے ۔”اپریل فُول“ منانے والے دانستہ یا نادانستہ طور پرکن لوگوں کی پیروی کر رہے ہیں۔

اپریل فُول کے آغاز کے بارے میں مختلف اسباب بیان کئے جاتے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ جب کئی سو سال پہلے عیسائی اَفواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتِح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب قابض اَفواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گِرِفْتار مسلمان حُکمران کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے، قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئیں۔ جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کر دیا جائے، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور اپنی شناخت پوشیدہ کرلی، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔

پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ جس ملک میں جانا چاہیں جاسکیں۔ اب چونکہ ملک میں اَمْن قائم ہوچکا تھا اس لئے مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے، اَلْحَمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کر دیے گئے، جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ ’’یکم اپریل‘‘ کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بَحری جہاز میں بٹھایا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی۔ دوسری طرف حکمران اپنے مَحَلَّات میں جشن منانے لگے، جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوَداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دئیے، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے ۔جب جہاز گہرے سَمُندر میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سَمُندر میں ڈوب گئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف (فُول) بنایا۔

اپریل فُول کو ”جُھوٹ کا عالَمی دن“ بھی کہا جاسکتا ہے اور جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:اِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَاِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي اِلَى النَّارِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَاللہِ كَذَّابًایعنی بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اورگناہ جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔
مذاق میں بھی جُھوٹ نہ بولیں:فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :بندہ کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا حتی کہ مذاق میں جھوٹ بولنا اور جھگڑنا چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو۔
اپریل فُول میں دوسروں کی پریشانی پر خوشی کا اظہار بھی ہوتا ہے،ایسوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ بھی اس کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں،عربی مقولہ ہے : مَنْ ضَحِکَ ضُحِکَ یعنی جو کسی پر ہنسے گا اُس پر بھی ہنسا جائے گا۔
افسوس! اتنی خرابیوں کا مجموعہ ہونے کے باوجود ہر سال یکم (فرسٹ) اپریل کو جھوٹ بول کر، اپنے مسلمان بھائیوں کو پریشان کرکے ان کی ہنسی اُڑانے کو تفریح کا نام دیاجاتا ہے، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ عقلِ سلیم عطافرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم
islamic events © 2020,

Thursday, March 26, 2020

Nuzool e Ayat e Durood [نزولِ آیتِ درود ]

 Nuzool e Ayat e Durood [نزولِ آیتِ درود ]

نزولِ آیتِ درود شریف
۔۲۔شعبان جشنِ نزولِ آیتِ درود و سلام


ماہِ شعبان نزولِ آیتِ درود شریف کا مہینہ:حضرت علامہ امام شہاب الدین قسطلانی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ’’آیتِ درود کا نزول ‘‘شعبان المعظم میں ہوا۔

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
۵سورة الأحزاب ، آیت ٦
ترجمہ کنزالایمان:بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
 Nuzool e Ayat e Durood [نزولِ آیتِ درود ]

islamic events © 2020,

Thursday, March 19, 2020

Hazrat Sayyiduna Umar Bin Abdul Aziz R.A[حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ]

Hazrat Sayyiduna Umar Bin Abdul Aziz R.A[حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ]

حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ


تاریخِ اسلام کے قابلِ فخر اور لائقِ اتباع خلیفہ وحکمران حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ٦۱یا ٦۳ھ میں مدینۂ منوَّرہ میں آنکھ کھولی اور مدینے شریف ہی میں عِلم وعمل کی منزلیں طے کرنے کے بعد صِرف۲۵سال کی عمر میں مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ اور طائف کے گورنر بنے اور ٦ سال یہ خدمت شاندار طریقے سے اَنجام دینے کے بعد مُستَعفِی ہوکر خلیفہ کے مُشِیرِ خاص بن گئے اور سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد ۱۰ صفر المظفر ۹۹ھ کو تقریباً۳٦ سال کی عمر میں جمعۃُ المُبارک کے دن خلیفہ مقرَّر ہوئے آپ خلیفہ کا منصب سنبھالنے سے پہلے شاہانہ زندگی بسر کیا کرتے تھے مگر ظلم وجبر اور حق تلفی اس میں بھی نہ تھی، جب خلیفہ بنے تو زندگی کا رنگ ہی بدل گیا، اِس شان سے خِلافت کی ذمّہ داریوں کو نِبھایا کہ تاریخ میں اُن کا نام سُنہرے حُرُوف سے لکھا گیا۔


حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خلافت کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں:سابق خلیفہ کی تدفین سے واپسی پر آپ کو عمدہ نسل کے خچر اور تُرکی گھوڑے پیش کئے گئے پوچھا: یہ کیا ہے؟ عرض کی گئی: شاہی سواریاں ہیں، ان پر خلیفہ ہی سوار ہوتا ہے، آپ قبول فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: میرے لئے میرا خچر ہی کافی ہے ،انہیں مسلمانوں کے بیتُ المال میں جمع کروادو۔ یونہی آپ کی نشست کےلئےشاہی خیمے اور شامیانے لگائے گئے تو فرمایا:انہیں بھی بیتُ المال میں جمع کروادو حتّٰی کہ جب اپنے ذاتی خچر پر سوار ہو کر شاہی قالینوں تک پہنچے تو ان کو پاؤں سے ہٹا کر نیچے چٹائی پر بیٹھ گئے اور ان بیش قیمت قالینوں کو بھی بیتُ المال میں جمع کروا دیا۔
سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے خلیفہ بننے کے بعد اپنی ساری زمینیں، غلام، کنیزیں، لباس، خوشبوئیں اور دیگر سامان بیچ کر ساری رقم راہِ خدا میں خرچ کر دی،یہاں تک کہ آپ کی ترغیب پر آپ کی سعادت مند بیوی نے بھی اپنے زیورات بیتُ المال میں جمع کروادیئے۔گھریلو اخراجات کے لئے روزانہ صرف دو دِرہم وظیفہ لیتےاور مرتے دم تک بیتُ المال سے کبھی کوئی چیز ناحق نہیں لی،خلیفۂ وقت کی بیوی نے گھر کے لئے کوئی ملازمہ نہ رکھی بلکہ سارے کام خود کرتیں۔
سابق خلیفہ کے بیٹے رَوح نے چند مسلمانوں کی دکانوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ان کی شکایت پر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حکم دیا کہ ان کی دکانیں واپس کر دو اور اپنے پولیس افسر سے فرمایا: اگر یہ دکانیں واپس کر دے تو ٹھیک ورنہ سزائے موت دے دینا۔ چنانچہ اس نے ناجائز قبضہ چھوڑ کر دکانیں اصل مالکوں کو لوٹا دیں۔

اندھوں، محتاجوں، فالج کے مریضوں اور اپاہجوں کے لئے سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے وظائف مقرر فرمائے بلکہ ان کے روزمرّہ کے کاموں کے لئے انہیں غلام بھی دیئے، حتّٰی کہ غیر شادی شدہ افراد کی شادیاں کروائیں، مقروضوں کے قرض اتارے اور کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے کی خیرخواہی کو فراموش نہیں کیا۔
الغرض حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اڑھائی سالہ دورِ خلافت میں ظلم و ناانصافی اور کرپشن کا سدِّ باب کر کے عدل و انصاف اور عوامی خدمت کی ایسی مثال قائم کر دی کہ اگر کوئی صدقہ دینا چاہتا تو صدقہ لینے والا کوئی نہ ملتا، یہاں تک کہ جو لوگ آپ کی خلافت سے پہلے صدقہ لیا کرتے تھے وہ خوش حال ہو کر خود صدقہ دینے کے قابل ہوگئے۔
Hazrat Sayyiduna Umar Bin Abdul Aziz R.A[حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ]
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ۲۵ رجب ۱۰۱ھ بدھ کے دن اپنا سفر حیات مکمل کیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ اس وقت آپ کی عمر صِرف ۳۹سال تھی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کو حلب کے قریب دَیر سِمعان میں سِپُردِ خاک کیا گیا جو شام میں ہے ۔

islamic events © 2020,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...