Wednesday, February 26, 2020

Hazrat Dawood AS kis Tarah Badshah Banay[حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟]

Hazrat Dawood AS kis Tarah Badshah Banay[حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟]

حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟


جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ""جالوت""سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔
یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھرہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔

آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔
جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلاا ور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اوراپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرمادیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۳۰۸،پ۲،البقرۃ۲۵۱)۔

اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورئہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ:۔
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ۔
ترجمہ کنزالایمان:۔اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔(پ۲،البقرۃ:۲۵۱)۔
حضرت داؤد علیہ السلام کا ذریعہ معاش:۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے باوجودیکہ ایک عظیم سلطنت کے بادشاہ تھے مگر ساری عمر وہ اپنے ہاتھ کی دستکاری کی کمائی سے اپنے خورد و نوش کا سامان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجایا کرتا تھا اور آپ اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے اور ان کو فروخت کر کے اس رقم کو اپنا ذریعہ معاش بنائے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔(روح البیان،ج۱،ص۳۹۱،پ۲،البقرۃ:۲۵۱)۔
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا الحاج عبد المصطفٰے اعظمیؒ  
islamic events © 2020,

Thursday, February 20, 2020

Hazrat Imam-ul-Muslimeen Syedna Imam Ali Naqi R.A[حضرت امام المسلمین سیدنا امام علی نقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ]

Hazrat Imam-ul-Muslimeen Syedna Imam Ali Naqi R.A[حضرت امام المسلمین سیدنا امام علی نقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ]

حضرت امام المسلمین سیدنا امام علی نقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


امام علی نقی کانام علی، کنیت ابو الحسن ثالث، لقب نقی، ہادی، زکی، عسکری، متوکل، ناصِح مرتضیٰ، فقیہ، امین، طیّب، بروز جمعہ ۱۳؍ رجب ۲۱۴ھ کو ام ولد حضرت ثمانہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے بمقام مدینہ طیّبہ پیدا ہوئے۔
علم و سخاوت میں وارث اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ کے تھے، اور جملہ حالات میں مثل آبائے کرام رضی اللہ عنہ تھے، لباس پشمین پہنتے، اِن کے مناقب و اوصاف حدّ حصر سے افزوں ہیں۔
حضرت نقی ایک دن رے کے دیہات میں تشریف لے گئے۔ ایک دیہاتی نے آکر عرض کی کہ میرے ذمّہ ایک بہت بڑا قرضہ ہے کہ میں اس کے ادا کرنے سے قاصر ہُوں۔ حضرت امام اس کی بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ ایک تمسک تیس ہزار کا لکھ دیا اور اپنی مُہر چسپاں کردی اور اس کے حوالے کرتے ہُوئے کہا کل جب میں امراء میں بیٹھا ہوا ہوں لے آنا اور شدید تقاضا کرنا اور بیشک درشت کلامی بھی کر لینا اور اس تدبیر سے تمہارا قرضہ بیباق کرنے میں مدد مل جائے گی۔ دیہاتی نے تمسک تھام لیا اور چلا گیا۔

ایک دن خلیفہ بغداد کو ملنے کے لیے بہت سی مخلوق آئی ہوئی تھی۔ مجلس جمی ہوئی تھی۔ اعرابی آگیا اور تمسک نامہ پیش کیا اور تیس ہزار روپے کا تقاضا کرنے لگا اور سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا۔ حضرت امام نے بڑی نرمی سے اسے ٹالا اور سہولت کے ساتھ ادائیگی کا وعدہ کرلیا۔ خلیفہ نے یہ صورت حال دیکھی۔ تیس ہزار روپیہ خزانے سے منگوا کر حضرت امام کی خدمت میں رکھا اور یُوں آپ نے اس دیہاتی کو دے کر روانہ کیا۔
پہلے سیدنا امام علی نقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قیام مدینہ منوّرہ میں تھا، خلیفہ متوکل بگمانِ خروج اِن کو بغداد لے گیا، وہاں بغداد کے متصل شہر سرمن رائے المعروف عسکر میں انہوں نے سکونت اختیار کی۔
حضرت امام المسلمین سیدنا امام علی نقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۲۵؍ جمادی الآخر ۲۵۴ھ کو انتقال فرمایا، اور سرمن رائے میں مدفون ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر چالیس یا اکتالیس سال تھی۔
islamic events © 2020,

Monday, February 10, 2020

Valentine Day(Barbadi Day)[ویلنٹائن ڈے(بربادی ڈے)۔]

Valentine Day(Barbadi Day)[ویلنٹائن ڈے(بربادی ڈے)۔]

ویلنٹائن ڈے(بربادی ڈے)۔


فی زمانہ ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں کو خوب فروغ دیا جارہا ہے۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال ۱۴ فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے بھی اسی سلسلے کی ایک کَڑی ہے، جو دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ویلنٹائن ڈے کی نحوست سے خود کو دور رکھئے۔
اس دن بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے، حالانکہ حدیثِ پاک میں اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے(معجم کبیر)۔ لڑکے لڑکیاں تحائف اور پھول خرید کر نامحرموں کو پیش کرتے ہیں اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں،حدیث پاک میں ہے: ہاتھ اور پاؤں بھی بَدکاری کرتے ہیں اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف) چل کرجانا ہے (مسلم)۔ اس دن رَنگ رَلیاں مَنانےکیلئے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ(بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتاہے، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے گا، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا (معجم ِکبیر)۔

ویلنٹائن ڈے کو مَنانے کیلئے جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے،مُوسیقی بجائی جاتی ہے، وہیں بڑے پیمانے پرمیوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ روایت میں ہے کہ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سُنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں پِگھلا ہوا سِیسہ اُنڈیلا جائے گا (جمع الجوامع) ۔اس دن بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے، جس کی وجہ سے ایڈز نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے، ڈاکٹرز کے مُطابق’’ایڈز‘‘ جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے۔قُراٰنِ پاک میں بَد کاری تو دُور، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ چُنانچہ اِرشادِ خُداوندی ہے:( وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا) تَرجَمَۂ کَنزُ الاِیمَان:اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔(پ۱۵، بنی اسرائیل:۳۲) افسوس ’’ویلنٹائن ڈے‘‘کے موقع پر لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رَسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں غیرمُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر، اِسلامی شِعار (طریقہ ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
islamic events © 2020,

Thursday, February 6, 2020

Zaban[زبان]

Zaban[زبان]

زبان


زبان کا اچھا استعمال جنّت میں جانے کا ذریعہ جبکہ اس کا غلط استعمال ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے، کسی بڑے برتن کے اندر کئی طرح کے پھول رکھے ہوں اور اس کا ڈھکن کھولا جائے تو ان پھولوں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے، یوں ہی اگر کسی گٹر کا ڈھکن کھولا جائے تو بدبو کے اس قدر بھبکے اٹھتے ہیں کہ جس سے آس پاس کا خوشگوار ماحول بھی متأثر ہونے لگتا ہے، اسی طرح انسان جب بولتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کا تعارف پیش کررہا ہوتا ہے، اس کے الفاظ اس کی سمجھداری، معلومات اور کردار کا پتا دیتے ہیں، جن لوگوں کا باطن میٹھے مدینے کے مدنی پھولوں سے مہکتا ہو، عشقِ مصطفےٰ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے جن کا سینہ رچا بسا ہو وہ جب لب کھولتے اور بولتے ہیں تو شمعِ رسالت (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے پروانے کھنچے چلے آتے ہیں، لیکن بعض لوگ جب بولتے ہیں تو ان کی گفتگو اتنی فحش و بےحیائی سے بھرپور ہوتی ہے جیسے گٹر کا ڈھکن کھل گیا ہو یا ایسے بولتے ہیں جیسے دلوں پر تیر چلا رہے ہوں کیونکہ ان کی گفتگو طعنہ زنی اور دل آزاری پر مشتمل ہوتی ہے۔
انسان کی گفتگو کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے، جیسا مقصد ویسی گفتگو، اگر سامنے والے کا دل خوش کرکے ثواب کمانے کا ارادہ ہو تو گفتگو بھی اچھے اور ستھرے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے، اگر مخاطَب پر غصہ اتارنا مقصود ہے یا اسے طعنہ دینے، نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے جیسے گناہوں بھرے مَقاصِد ہوں تو گفتگو بھی ان ہی الفاظ پر مشتمل ہوگی، نتیجۃً اس سے مخاطب کا دل پارہ پارہ ہوجائے گا۔

عام طور پر جن لوگوں کو کسی پر تسلط حاصل ہوتا ہے جب وہ بولتے ہیں تو تولتے نہیں، نتیجۃً ایسوں کی گفتگو مخاطَبین (سامنے والوں) کے دلوں پر تیر برسنے کے مترادف ہوتی ہے، مثلاً ٹیچر کی اسٹوڈنٹ سے گفتگو، والدین کی اولاد سے، نگران کی ماتحت سے، سیٹھ کی نوکر سے، شوہر کی بیوی سے، مالک مکان کی کرائے دار سے۔ پھر زبان کا دُرست استعمال نہ کرنے والوں کی اپنی حالت ایسی ہوتی ہے کہ ہر وقت ٹینشن کے شکار، تکالیف میں مبتلا، اداسی ان کے چہروں پر چھائی رہتی، ان کی مسکراہٹ پھیکی پھیکی سی اور کم دورانیہ والی ہوتی ہے، لوگ ان کے قریب جانا پسند نہیں کرتے، جو مجبوری کی وجہ سے قریب ہوتے ہیں وہ دور ہونے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
لہٰذا یہ سوچنا ضَروری ہے کہ میرے بولنے کا مقصد کیا ہے، کسی کا دل دُکھانا یا خوش کرنا، گالی دینا یا دعا دینا، کسی کی حوصلہ افزائی کرکے اس کے لئے ترقّی کی راہیں ہموار کرنا یا پھر کسی کی حوصلہ شکنی کرکے اسے ناکارہ بنا دینا وغیرہ، میری تمام مسلمانوں سے فریاد ہے کہ جس طرح ہم اپنے ہاتھ کو چلاتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کہیں یہ کسی کو لگ نہ جائے یا کسی چیز سے ٹکرا کر زخمی نہ ہوجائے تو اسی طرح زبان کے استعمال سے پہلے بھی ہمیں سوچنا اور ”پہلے تولو! بعد میں بولو!“ پر عمل کرنا چاہئے۔ اللہ پاک ہمیں احترامِ مسلم کا جذبہ عطا فرما کر پہلے تولنے اور بعد میں بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن
islamic events © 2020,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...