Friday, January 10, 2020

Hujjat ul Islam hazrat Molana shah mohammad Hamid Raza Khan R.A[حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہ]

Hujjat ul Islam hazrat Molana shah mohammad Hamid Raza Khan R.A[حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہ]

حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہ


وارثِ علم ومعرفت ، نائبِ اعلی حضرت ،استاذِ محدثِ اعظم پاکستان، حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان قادری رضوی نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ولادت با سعادت ربیع الاول ۱۲۹۲ھ بمطابق ۱۸۷۵ء محلہ سودگراں بریلی شریف (یو۔پی)ہند میں ہوئی ۔
مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تعلیم وتربیت اپنے والد ماجد آفتابِ علم وفضل، مجدّدِدین وملت ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے زیرِ سایہ ہوئی ، اورآپ نے اورادواعمال ، اذکار و اشغال اورجمیع سلاسل کی اجازت بھی عطا فرمائی ، بیعت وخلافت نورالعارفین حضرت سید ابوالحسین احمد نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے حاصل ہے ، آپ تمامعلوم فنون میں کامل دسترس اور مہارتِ تامہ رکھتے تھے ، عرب وعجم کے بڑے بڑے علما وفضلاء نے آپ کی فصاحت وبلاغت، علم وفضل کی جلوہ سامانیوں پر داددی ، کلماتِ تحسین فرمائے اور اَسنادسے نوازا، دنیائے اسلام میں آپ کی شخصیت عظیم مقام ومرتبہ کی حامل ہے ۔

حجۃ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے والد کے جانشین اوروارث وامین تھے ، آپ کی شخصیت حقانیتِ اسلام کی دلیل تھی، آپ نے خد متِ دین میں اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ صرف کردیا، اپنے درس وتدریس سے ہزاروں تشنگانِ علوم کو سیراب کیا، مفتی ٔ اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان ، شیخ القرآن علامہ عبد الغفور ہزاروی، شیربیشۂ اہلِ سنت مولاناحشمت علی خان، محدثِ اعظم پاکستان مولاناسردار احمدرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہِم آپ کے اجلہ خلفاء وتلامذہ میں سے ہیں ، آپ کی تقریر وتحریر سے اسلام و سنیّت کی تبلیغ ہوئی ، دینِ متین کی تبلیغ اور حفاظتِ ناموسِ مصطفیٰ آپ کی زندگی کے اصل مقاصد تھے ، آپ کی زندگی غلبۂ اسلام، بلندیٔ پرچمِ اسلام، علم کی نشر و اشا عت اور خدمتِ دین کے لئے وقف تھی، تاحیات تعلیمی ، تبلیغی ، سیاسی اور سماجی خدمات کے کارہائے نمایاں انجام دئیے ، گوناں گوں مشاغل کے باوجودآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قابلِ صد مبارک باد تصانیف محتاجِ تعارف نہیں ، الدولۃ المکیہ کا ترجمہ آپ کا علمی ادبی شاہکار ہے ، فتاویٰ حامدیہ آپ کی فقہی شان و عظمت کا بیّن ثبوت ہے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہترین شاعر بھی تھے ، حمد ونعت اور کئی منقبتیں کہیں جن کے پڑھنے ، سننے سے ایمان تازہ ہوتا ہے اوردل کو سرور ملتا ہے ۔ان کا مجموعہ’’بیاضِ پاک حُجَّۃُ الاسلام ‘‘کے نام سے معروف ہے ۔
Hujjat ul Islam hazrat Molana shah mohammad Hamid Raza Khan R.A[حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہ]
حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْْْہ نے ۱۷ جمادی الاولیٰ۱۳٦۲ھ بمطابق ۲۳ مئی ۱۹۴۳ء کووصال فرمایا، آپ کا مزاربریلی شریف(ہند)میں زیارت گاہِ خواص وعام ہے۔

islamic events © 2019,

Wednesday, January 8, 2020

hazrat fatima binte asad R.A[حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا]

hazrat fatima binte asad R.A[حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا]

حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا


پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی چچی جان اور حضرت سیّدُنا علی المرتضی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت سیّدتُنا فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا تاریخ اسلام کی ایک اہم ہستی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام اسد بن ہاشم بن عبد مناف اور والدہ کا نام فاطمہ بنت ھَرِم بن رواحہ ہے ،آپ کا تعلق قبیلہ بنی ہاشم سے ہے ۔آپ بھی اُن خوش نصیب شخصیات میں شامل ہیں جو ایمان کی دولت سے سَرفراز ہوئیں اور مدینہ شریف ہجرت کی۔
سیّدتُنا فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کا نکاح ابوطالب سےہوا ۔آپ کی اولاد کی فہرست میں درج ذیل نام شامل ہیں:حضرت علی، حضرت جعفر، حضرت عقیل، طالب، حضرت اُمِّ ہانی، حضرت جُمانہ، رِیطہ۔
جب مدینۂ منوّرہ میں آپ رضی اللہ عنھا کا انتقال ہوا تو حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور ان کے سِرہانے بیٹھ کرارشاد فرمایا:”اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے! میری والدۂ محترمہ کے بعد آپ میری ماں تھیں، خود بُھوکی رہتیں مجھے کھلاتیں، خود پُرانے کپڑوں میں گزارہ کرتیں مجھے نئے کپڑے پہناتیں، اچھے کھانے خود نہ کھاتیں بلکہ مجھے کھلاتیں، صرف اس نیّت سے کہ اللہ پاک کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہو“۔

پھر غسلِ میّت ہوجانے کے بعد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کفن پہنانے سے پہلے اپنی مبارک قمیص انہیں پہنانے کے لئے دی۔ جب لَحْدبنا نے کاوقت آیاتو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود لحدبنائی اور اس میں لیٹ کر اس طرح دُعا کی: ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو جِلاتا (یعنی زندہ کرتا) اور مارتاہے اور خود زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا، (اے اللہ!) میری ماں فاطمہ بنتِ اسد کو بخش دے، انہیں اِن کی حُجّت سکھا اور اپنے نبی اور مجھ سے پہلے انبیا کے صدقے (وسیلے) ان کی قبر کو وسیع فرما، تُو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔“ پھر چار تکبیروں کےساتھ ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں قبر میں اُتارا(معجمِ کبیر) ۔
جب قبر پر مٹی برابر کر دی گئی تو کسی نے عرض کی:یارسولَ اللہ ! آج ہم نے آپ کو وہ عمل کرتے دیکھا جو آپ نے پہلے کسی کے ساتھ نہ کیا۔ فرمایا:انہیں میں نے اپنا کُرتا اِس لئے پہنایا تاکہ یہ جنّت کے کپڑے پہنیں اور ان کی قبر میں اس لئے لیٹا تاکہ قبر دَبانے میں ان کے لئے تخفیف کرے اور یہ ابوطالب کے بعد خلقِ خدا میں سب سے زیادہ میرے ساتھ نیک سلوک کرنے والی تھیں(معجمِ اوسط)۔
حضرت سیّدتُنا فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کا مزار جنّتُ البقیع میں امیرُ المؤمنین حضرت سیّدناعثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ کے مزار شریف کے پاس ہے۔ اللہ کریم کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

islamic events © 2020,

Tuesday, January 7, 2020

Matti Kay Bartan[مٹی کے برتن]


Matti Kay Bartan[مٹی کے برتن]

مٹی کے برتن


مختلف لوگ مختلف چیزوں اسٹیل، پلاسٹک، شیشے اور مٹّی وغیرہ کے بنے ہوئے برتنوں میں کھاتے پیتے ہیں، تاہم مٹّی کے برتن میں کھانے پینے کے اپنے فوائد ہیں۔ ہمارے مدنی آقا، دوجہاں کے داتا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مٹی کے برتنوں کو استعمال فرمانا بھی منقول ہے، چنانچہ حضرت سیّدُنا خَباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پختہ مٹّی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ (یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزےبھی۔ مزید فرماتے ہیں: (مٹی کے برتن) میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث میں ہے:جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھےفرشتےاُس کی زیارت کریں۔

حضرت سیّدُنا شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم گھر میں مٹی کے علاوہ دوسرے برتن رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ حضرت سَری سَقَطی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے ارشاد فرمایا: کوشش کرنا کہ تمہارے گھر میں استعمال ہونے والے برتن تمہارے بدن یعنی مٹی سے ہوں۔
مٹّی کے برتنوں کو کھانے پینے کے علاوہ دیگر کاموں میں بھی استعمال کرکے ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے، فتاویٰ شامی میں ہے کہ مٹّی کے برتن سے وضو کرنا مستحب (یعنی ثواب کا کام) ہے۔
مِٹّی کے برتن استعمال کرنے سے دینی فوائد حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ دُنیاوی فوائد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں جیسے مِٹّی کے برتنوں میں پکا ہوا کھانا اسٹیل اور دوسری دھاتوں میں پکے کھانے کی نِسْبَت زیادہ دیر تک اپنی اِفادِیَت قائم رکھتا ہے۔ ماہِرین کے مُطابِق نان اسٹک (، تانبے ، پیتل اور اسٹیل کے برتنوں کا اِسْتِعمال صِحَّت کیلئے مُضر(نقصان دِہ) ہے۔مٹکے یا مٹی کے برتن میں پانی محفوظ کر کے پینا گلے کے امراض، کھانسی اور سانس کی تکالیف سے بچاتا اور نظامِ ہاضمہ بھی درست رکھتا ہے۔

islamic events © 2019,

Saturday, January 4, 2020

hazrat Sheikh Syed Ahmed Kabir Rifai R.A[حضرت شیخ سَیِّد احمدکبیر رَفاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ]

hazrat Sheikh Syed Ahmed KabirRifai R.A[حضرت شیخ سَیِّد احمدکبیر رَفاعی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ]

حضرت شیخ سَیِّد احمدکبیر رَفاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ


حضرت مُحْیُ الدین سَیِّد ابُوالعباس احمدکبیر رفاعی حسینی شافعی کا نام احمدبن علی بن یحیٰ بن حازم بن علی بن رَفاعہ ہے۔جَدِّامجد رفاعہ کی مناسبت سےرفاعی کہلائے۔ آپ سَیِّدُالشُّہدا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اولاد میں سے ہیں،آپ کی کُنیت ابو العباس اورلقب مُحْیُ الدین ہےجبکہ مسلک کے اعتبار سے شافعی ہیں ۔حضرت سَیِّد احمدکبیر رَفاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ولادت ۱۵ رجبُ المرجب ۵۱۲ ھ بمقام اُم عبیدہ قصبہ حسن میں ہوئی۔
شیخ کبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ابھی سات سال ہی کے تھے کہ والد ماجدسید علی ہاشمی مکی قدس سرہٗ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس کے بعد اُن کی نشو ونما اور پرورش شیخ سیدمنصور بطائحی قدس سرہٗ کی زیرنگرانی ہوئی، جو اُن کے حقیقی ماموں تھے۔ شیخ کبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرلینے کے بعدشیخ عبدالسمیع حربونی کی نگرانی میں پہنچے اوراُن کی شاگردی میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا، اور مزید تعلیم وتربیت کے لیے شیخ ابوالفضل علی واسطی قدس سرہٗ کے سپرد ہوئے، جہاں شیخ کبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے علوم حدیث، تفسیر،منطق وفلسفہ نیز مروجہ علوم وغیرہ میں بطورخاص کمال ومہارت حاصل کی اور مختلف علمی فضل وکمال کے گوہرمراد سے اپنے دامن آرزو کو پُرکیا۔

حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اپنے مُریدین و مُحبّین کی حُسنِ تربیت کے لئے وقتاً فوقتا ًشریعت و طریقت کے بہترین رہنما اصول بھی بیان کرتے رہے ۔ان کےچند ملفوظات مُلاحظہ کیجئے :جو اپنے اوپر غیر ضروری باتوں کو لازم کرتاہے وہ ضروری باتوں کو بھی ضائع کردیتا ہے ۔مخلوق کو اپنے ترازو میں مت تولو بلکہ اپنے آپ کو مومنین کے ترازو میں تولو تاکہ تم ان کی فضیلت اور اپنی مُحتاجی جان سکو ۔جوشخص یہ خیال کرے کہ اس کے اعمال اسے رَبِِّ قدیر عَزَّ وَجَلَّ تک پہنچادیں گےتو اس نے اپنا راستہ کھو دیا (اپنے اعمال کے بجائے رحمتِ الہٰی پر نظر کرے )۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ غوث و قطب کو غیبوں پر مُطَّلَع فرمادیتاہے پس جو بھی درخت اُ گتا ہےاور پتَّا سر سبز ہوتاہے تو وہ سب جان لیتے ہیں ۔جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکُّل کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں حکمت داخل فرماتاہےاورہر مشکل گھڑی میں اسے کافی ہوجاتاہے۔ افسوس ہے ایسے شخص پر جو دنیا مل جانے پر اس میں مشغول ہوجاتاہے اور چھن جانے پرحسرت کرتاہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اولیاءُاللہ کے علاوہ تمام مخلوق سے وحشت ہو کیونکہ اولیا سے محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت ہے ۔ہمارا طریقہ تین چیزوں پر مشتمل ہے : نہ تو کسی سے مانگو ،نہ کسی سائل کو منع کرو اور نہ ہی کچھ جمع کرو ۔

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے متَعَدَّد کتابیں تحریر فرمائیں لیکن اکثرکتب تاتاریوں کے حملے میں ضائع ہوگئیں البتہ جو کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں ۔ حَالَۃُ اَھْلِ الْحَقِیْقَۃِ مَعَ اللہِ ،ا َلسِّرُ الْمَصُوْن، رَاتِبُ الرَّفَاعِی ،اَلْبُرھَانُ الْمُؤیَّد
حضرت سَیِّد احمدکبیر رَفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی ٦٦ سال اس دارِ فانی میں رہ کر مخلوقِ خدا کی رُشد وہدایت کا کا م سرانجام دینے کے بعدبروزجمعرات ۲۲جمادی الاولی ۵۷۸ھ بوقتِ ظہر اس عالمِ فنا سے عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا۔نمازِ جنازہ کے وقت کئی لاکھ کا مَجمَع موجود تھا،بعدنمازِ جنازہ خانقاہ ِاُمِّ عَبیدہ (صوبہ ذِیقار، جنوبی عراق) میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تدفین کی گئی۔
hazrat Sheikh Syed Ahmed KabirRifai R.A[حضرت شیخ سَیِّد احمدکبیر رَفاعی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ]
آج آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وصال مُبارک کو صدیاں ہوچکیں مگر اس کے باوجود جنوبی عراق میں آپ کا مزارمبارک بے شمار عقیدت مندوں کی اُمیدوں کا مرکز بنا ہواہے۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...