Monday, October 21, 2019

cheenk[چھینک]

cheenk[چھینک]

چھینک


Unlimited Web Hosting
چھینک ہر چھوٹے بڑے کو آتی ہے۔ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو فَرِشتے کہتے ہیں: رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ اوراگرچھینکے والا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِِّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہے تو فَرِشتے کہتے ہیں: رَحِمَكَ اللهُ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رَحم فرمائے۔(حدیث)بہتریہ ہے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِِّ حَال کہے، سننے والے پر واجِب ہے کہ فو راً ’’یَر حَمُکَ اللّٰہ‘‘( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے)کہے اور اِتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والا سن لے۔ جواب سُن کر چھینکنے والاکہے: یَغْفِرُاللّٰہُ لَنَا وَ لَکُمْ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مَغفِرت فرمائے) یا یہ کہے :’’یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ‘‘(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہِدایت دے اورتمہارا حال دُرُست کرے) چھینک کے وَقت سر جھکایئے ، منہ چُھپایئے اور آوا ز آہِستہ نکالئے، چھینک کی آواز بُلند کرنا حَماقت ہے ۔
جو کوئی چھینک آنے پراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِِّ حَال کہے اور اپنی زبان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دانتوں کی بیماریوں سےمَحفوظ رہے گا۔
حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:جوکوئی چھینک آنے پراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِِّ حَال کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتَلانہیں ہوگا(حدیث)۔
چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجِب ہے، دوسری بار چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے تو دوبارہ جواب واجِب نہیں بلکہ مُستَحَب ہے۔
Unlimited Web Hosting

islamic events © 2019,

Saturday, October 19, 2019

naqshe qadam[ نقشِ قدم]

naqshe qadam[ نقشِ قدم]

نقشِ قدم


Best Web Hosting in Pakistan
فرمانِ مصطَفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:اَلبَرَکَۃُ مَعَ اَکَابِرِکُم یعنی بَرَکت تمہارے بُزُرگوں کے ساتھ ہے۔(حدیث) بُزُرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم کے نقشِ قدم پر چلنا بہت بڑی سعادت ہے کیونکہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کی، دنیا و آخرت کی کامیابیاں ان کا مقدر بنیں، ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اَحکامات پر اِسی طرح سرِ تسلیم خم کریں جیسے ان بُزُرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم نے کیا تھا، ان پاکیزہ ہستیوں کی کتابِ زندَگی کا ایک ایک صَفْحہ ہمارے لئے راہنُمائی کی دستاوِیز ہے۔
اگر کسی کو بچپن ہی سے ماں باپ کی جُدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑے تو وہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کی آزمائش یاد کرے کہ کس طرح آپ علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کی والِدہ ماجِدہ رحمۃ اللہ علیہا نے آپ کو فرعون جو کہ آپ کے قتل کے دَرپے تھا، اُس سے بچانے کے لئے دریائے نیل کی موجوں کے حوالے کردیا تھا۔
اگر شریعت کا کوئی حکم مشکِل محسوس ہو تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کو یاد کرے کہ کس طرح حکمِ الٰہی کی اطاعت میں اپنے چہیتے بیٹے کو ذَبح کرنے پر تیّار ہوگئے تھے۔
اگر کوئی مَصائب و آلام میں مبتَلاہو تو حضرتِ سیِّدُنا ایُّوب علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کی بیماری اور اس پر آپ علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کے عظیم صَبْر کو یاد کرے۔
اگر کسی کو مَنصب و حکومت ملے تو حضرتِ سیِّدُنا سُلَیمان علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کی سیرتِ مبارَکہ پر چلے کہ اتنی بڑی سلطنت ہونے کے باوُجُود لمحہ بھر کیلئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوئے اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلے کہ جنہوں نے حُکومت ملنے کے بعد اپنی بیوی کا قیمتی ہار بھی مسلمانوں کی خیرخواہی کی ترغیب دِلا کربیتُ المال میں جمع کروا دیا تھا۔

اگر کسی کا لاڈلا بیٹا کھو جائے تو وہ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کو یاد کرے کہ کس طرح آپ علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام نے حضرتِ سیِّدُنا یوسُف علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کے بِچھڑنے پر صَبْر کیا تھا۔
اگر کوئی عورت دعوتِ گناہ دے تو حضرتِ سیِّدُنا یوسُف علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کو یاد کرے جنہوں نے قید میں جانا تو گوارا کرلیا مگر اپنے دامن پر کوئی داغ نہ لگنے دیا۔
اگر کسی کو دِین کی خاطِر اپنا عَلاقہ چھوڑنا پڑے تو وہ اپنے آبائی شہر مکّۂ مکرَّمہ کو چھوڑ کرمدینۂ منوَّرہ کو ہِجرت کرنے والے عظیم مسافریعنی آقا مکّی مَدَنی مصطَفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یاد کرے۔
اگر تبلیغِ اسلام کی راہ میں کوئی زَخم لگے تو حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کو یاد کرے جنہوں نے کعبۂ مُشرَّفہ کے قریب کھڑے ہوکر بیان کرنے کے نتیجے میں کفّارِ جَفاکار کی ظالمانہ مار سہی تھی۔
اگر کبھی عَدْل و انصاف کرنے کا موقع ملےاور قدم ڈگمگائیں تو حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے انصاف کو یاد کرے جس کی گواہی غیر مسلم بھی دیتے ہیں۔
اگر راہِ خدا میں خَرچ کرنے کا موقع ملے اور نفس و شیطان حیلے بہانےسجھائے تو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی سَخاوت کو ذِہن میں لائے کہ اُنہوں نے کبھی راہِ خدا میں خَرْچ کرنے سے دَرَیغ نہیں کیا۔
دشمنانِ اسلام سے مقابلہ ہو تو حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ علی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کی شُجاعَت کو یاد کرکے اپنا حوصلہ بڑھائے۔
راہِ علم میں سفر درپیش ہو تو حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ کے شوقِ علم کو سامنے رکھتے ہوئےآگے بڑھتا جائے۔
Earn Money online with the Inspedium Affiliate Program
مسلمانوں میں صُلح کروانے کا موقع ملے تو حضرتِ سیِّدُنا امامِ حَسَن مُجْتَبٰی رضی اللہ عنہ کی عظیم حکمتِ عملی کو پیش نظر رکھے ۔
راہ ِخدا میں جان دینے کا موقع آپڑے تو سیِّدُالشُّہَدَاء سیِّدُنا امامِ حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت کویاد کرے۔ اَلْغَرَض ہم زندگی کے ہر ہر مُعامَلے میں بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت پاسکتے ہیں۔

islamic events © 2019,

Thursday, October 17, 2019

parda poshi[پَردہ پوشی]

parda poshi[پَردہ پوشی]

پَردہ پوشی


انسان کی ذات اچھائیوں اور بُرائیوں کا مجموعہ ہے، اس کی بعض برائیاں و خامیاں دوسروں کو معلوم ہوتی ہیں اور کچھ چھپی رہتی ہیں۔ مگر چند لوگوں کی طبیعت مکھی کی طرح ہوتی ہے جو سارا جسم چھوڑ کر زخم پر بیٹھنا پسند کرتی ہے، چنانچہ یہ لوگ دوسروں کی چھپی ہوئی برائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان بُرائیوں اور عیبوں کو دوسروں پر کھولنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اس قسم کے جملے ان کی زبان پر آتے رہتے ہیں: ارے تمہیں پتہ چلا! فلاں کی اپنی بیوی سے کل زبردست لڑائی ہوئی ،فلاں کو اس کے مالکِ مکان نے بہت ذلیل کیا ،فلاں بہت ڈرپوک ہے، کل گھر میں چوہا آگیا تو ڈر کے مارے گلی میں آگیا تھا،فلاں بہت لالچی ہے ،فلاں کا بچہ پڑھائی میں بہت کمزور ہے اسے روزانہ اسکول میں سزا ملتی ہے ،فلاں عورت کی اپنی ساس سے نہیں بنتی، کل ہی ان کی تُو تُو میں میں ہوئی ہے ،فلاں شخص فلاں کے گھر رشتہ مانگنے گیا تو انہوں نے ذلیل کر کے گھر سے نکال دیا وغیرہ۔ اس کام میں انہیں عجیب قسم کی شیطانی لذّت ملتی ہے۔ انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ خود کتنے بُرے کام کرچکے ہیں۔
ایک بُرا کام تو یہ کہ دوسروں کے عیب جاننے کی جستجو کی اور اس سے قرآنِ پاک میں منع کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ لَا تَجَسَّسُوْا (پ۲٦،حجرات:۱۲) ترجمۂ کنزالایمان:اور عیب نہ ڈھونڈو۔یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور اُن کے چُھپے حال کی تلاش میں نہ رہو، جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی سَتّاری سے چُھپایا۔
دوسرا یہ کہ اس کے عیبوں کو اچھالا اور لوگوں میں عام کیا، یہ بھی مذموم (یعنی بُرا) ہے،رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عیب کھول دے گا اور جس کے عیب اللہ عَزَّوَجَلَّ ظاہر کرے وہ مکان میں ہوتے ہوئے بھی ذلیل و رسوا ہوجائے گا(ترمذی)۔مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں: یہ قانونِ قدرت ہے کہ جو کسی کو بِلا وجہ بَدنام کرے گا قدرت اسے بَدنام کر دے گی۔

حکایت: ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابُو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جامِع مسجِد کُوفَہ کے وُضو خانے میں تشریف لے گئے تو ایک نوجوان کو وُضو کرتے ہوئے دیکھا،اُس سے وُضو میں اِسْتِعْمال شُدہ پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: بیٹا! ماں باپ کی نافرمانی سے توبہ کر لے۔ اُس نے عرض کی: میں نے توبہ کی۔ ایک اور شخص کے وُضو کے پانی کو مُلاحَظَہ فرمایا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اُس شخص سے ارشاد فرمایا: میرے بھائی! بدکاری سے تَوبہ کر لے۔ اُس نے عرض کی: میں نے تَوبہ کی۔ ایک اور شخص کے وُضو کے پانی کو دیکھا تو اُس سے فرمایا: شَراب پینے اور گانے باجے سُننے سے توبہ کر لے۔ اُس نے عرض کی: میں نے تَوبہ کی۔ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پر غیبی باتوں کے اِظہار کے باعِث چُونکہ لوگوں کے عُیُوب ظاہِر ہوجاتے تھے لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بارگاہِ خُداوَندی میں غیبی باتوں کے اِظہار کے ختم ہوجانے کی دُعا مانگی، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دُعا قَبول فرما لی جس سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو وُضو کرنے والوں کے گناہ جھڑتے نظر آنا بند ہوگئے۔
یہ تھا ہمارے بزرگانِ دین کا انداز کہ دوسروں کا عیب نہ دیکھنا پڑے، اس کے لیے دعا مانگی، اللہ تَعَالیٰ ہمیں بھی دوسروں کے عیب ڈھونڈنے، انہیں اچھالنے سے بچائے۔ اگر بغیر کوشش کے کسی کے عیب معلوم ہوبھی جائیں تو ”پَردہ پوشی“ کرنی چاہیے، فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے: جس نے کسی مسلمان کی ”پَردہ پوشی“ کی اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا و آخرت میں اس کی ”پَردہ پوشی“ فرمائے گا۔(مسلم) مراٰۃ المناجیح میں ہے: (یعنی) چُھپے ہوئے عیب ظاہر نہ کرے! بشرطیکہ اس ظاہر نہ کرنے سے دین یا قوم کا نقصان نہ ہو، ورنہ ضرور ظاہرکر دے! کفار کے جاسوسوں کو پکڑوائے! خفیہ سازشیں کرنے والوں کے راز کو ظاہر کرے! ظلماً قتل کی تدبیر کرنے کی مظلوم کو خبر دے دے! اخلاق اور ہیں، معاملات اور سیاسیات کچھ اور۔

islamic events © 2019,

Wednesday, October 16, 2019

Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri R.A[حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ]

Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri R.A[حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ]

حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ


حضرت سیِّدُنا داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی ولادتِ با سعادت کم و بیش ۴۰۰ ھ میں غزنی(مشرقی افغانستان) میں ہوئی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خاندان نے غرنی کے دومَحَلُّوں جُلَّاب و ہجویر میں رہائش اِختیار فرمائی اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہجویری جُلَّابی کہلاتے ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی کُنیت ابوالحسن، نام علی اور لقب داتا گنج بخش ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا شجرۂ نسب اس طرح ہے:’’حضرت مَخْدوم علی بن سید عثمان بن سیّد عَبْدُالرَّحْمٰن بن سید عبداللہ(شجاع شاہ) بن سیّد ابوالحَسَن علی بن سیّد حَسَن بن سیِّد زَیْد بن حضرت امامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بن علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم۔
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد حضرت سَیِّدُنا عثمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے وقت کے جَیَّد عَالِم اورعابدو زاہد تھے ۔ شاہان ِ غَزنیہ کے زمانے میں دنیاکے کونے کونے سے عُلَماء و فُضَلَاء،شُعَرَاء اورصُوْفِیَاء غزنی میں جمع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے غزنی عُلُوم و فُنُون کا مرکز بن چکا تھا ،حضرت سیدنا عثمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی یہاں رہائش اختیا ر فرمائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ حُسَیْنی سادات سے تھیں، عابِدہ زاہِدہ خاتون تھیں ، گویا حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نَجِیبُ الطَرفَیْن سَیِّد تھے اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حَسَنی جمال اور حُسینی کمال دونوں ہی کے جامِع تھے۔

گنج بخش کہنے کی وجہ:منقول ہے کہ حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ روحانی فیض کے حصول کے لئے داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مزارِ فائضُ الاَنْوَارپر ایک عرصہ تک مقیم رہے، وقتِ رخصت والہانہ انداز میں فرمایا:گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خُدا ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما یعنی:آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خزانے لُٹانے والے ،عالَم کو فیض پہنچانے والے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کےنور کے مظہر ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ناقصوں کے لئے پیرِ کامل اور کاملوں کے راہنما ہیں۔اس کے بعدخلقِ خدا آپ کو گنج بخش کے لقب سے پکارنے لگی۔
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے پیر و مُرشِد حضرت سیّدنا ابوالفضل بن حسن خُتَّلی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے حکم پر لاہور میں تبلیغِ اسلام کا سلسلہ شروع فرمایا،اُس زمانے میں غزنی سے لاہور تک کا راستہ کافی کٹھن تھا لیکن رضائے الٰہی کے حصول اور تبلیغِ اسلام کی خاطر آپ نے اِس مشقت کو بھی دل و جان سے قبول کیا اور انتہائی دُشوار گزار پہاڑ و دریا عبور کرتے ہوئے ۴۳۱ ھ کو لاہور تشریف لائے۔دین کی ترویج و اشاعت کے لئے سب سے پہلے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہاں ایک مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا اور علم و عرفان کا نور پھیلانے کے لئے دَرْس و تَدْرِیْس کا آغاز فرمایا،آپ دن رات قراٰن و حدیث کا درس دیتے، لوگوں کے روزمرہ پیش آنے والے مسائل کا حل ارشاد فرماتے، آپ کے حسنِ اخلاق، شرافت اور اخلاص سے متأثّر ہو کر غیر مسلم جوق دَر جوق حلقہ بگوشِ اسلام ہونے لگے۔اسی طرح آپ کی دعاؤں اور وعظ و نصیحت کی بدولت لاہور کا نائب حاکم رائے راجو بھی مسلمان ہوگیا۔

داتا صاحب نے تقریباً۹ کُتُب تصنیف فرمائیں جن میں کَشْفُ الْمَحْجُوب جیسی شاہکار کتاب بھی شامل ہے جو رہتی دنیا تک ہدایت و اِصلاح کے طلبگاروں کے لئے ایک بے مثال راہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔
کئی سالوں پر مُحِیط داتا علی ہجویری علیہ رحمۃ اللہ البارِی کی تبلیغِ اسلام کا نتیجہ یہ ہوا کہ کُفرو شِرْک کے اندھیروں میں ڈُوبا ہوا شہر قَلْعۂ اِسلام بن گیا، ہزاروں بے عِلْم فیضانِ عِلْم سے سیراب ہو کر”عالِم“بنے، گمراہ راہِ راست پر آئے، ناسمجھ لوگوں نے عقل و دانش کی دولت پائی اور روحانیت میں ناقص لوگ کامل ہوگئے اور کامل لوگ اکمل(یعنی اور زیادہ کامل ) ہوگئے دُور دُور سے عُلما و مَشائخ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں آکر اپنے مَن کی مُراد پاتے۔
Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri R.A[حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ]
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاوصالِ پُرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴٦۵ ھ کوہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کامزارمنبعِ انواروتجلیات مرکزالاولیا لاہور(پاکستان)میں ہے،اسی مناسبت سے لاہور کو مرکز الالیااورداتا نگر بھی کہا جاتا ہے۔داتا صاحب کا یہ فیضِ روحانی آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...