Saturday, October 12, 2019

bardasht[ برداشت]

bardasht[ برداشت]

برداشت


زندگی کا ایک پہلو ایک دوسرے کو برداشت کرنا بھی ہے ، کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں کسی کی کوئی بات ناگوار گزرتی ہے تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم اپنی ناگواری کا اُس پر اظہار کردیں۔یادرکھئے! اس سے معاملات سُدھرتے نہیں بلکہ بگڑنے کا اِمکان زیادہ ہوتا ہے۔سامنے والے نے ایک بات کی، ہم سے صبر اور برداشت نہ ہوا تو ہم نے ایک کی دس سُنا دِیں تو بات بڑھ کر جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے،بعض تو ایسے نادان ہوتے ہیں کہ ان کا مزاج ماچس کی تِیلی کی طرح ہوتا ہے کہ ذرا سی رگڑ پر بھڑک اُٹھتے ہیں۔ اگر ساس بہو، نگران وماتحت، شوہر بیوی وغیرہ ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے کی عادت بنا لیں تو ناخوشگواری سے بچا جا سکتا ہے۔ کسی نے بے خیالی میں آپ کے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا تو ’’اندھا ہے، دکھائی نہیں دیتا؟‘‘جیسے جملے بول کر غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لئے صبر و برداشت کا مظاہرہ کر کے ثوابِِ آخرت کا حقدار بنا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا فرمانِ عالیشان ہے( وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) )(پ۴،اٰلِ عمرٰن:۱۳۴) ترجمۂ کنزالایمان:اور غصہ پینے والے اورلوگوں سے درگزر کرنے والے اورنیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ۔
بیوی نے کھانا وقت پر تیارنہ کیا ، کپڑے ٹھیک سے اِستری نہ ہوئے تو بھی برداشت کرکے گھریلو زندگی کو تلخ ہونے سے بچائیے، کیونکہ جن گھروں میں برداشت کم ہوتی ہے، وہاں سے جھگڑوں کی آوازیں بلند ہوا کرتی ہیں۔

عفو و درگزر اوربرداشت سے کام لے کر دنیاوی اور اُخروی فوائد حاصل کرنا ہی دانشمندی ہے ، سلطانِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہوکہ اُسکے لیے (جنت میں)محل بنایا جائے اوراُسکے درجات بلند کیے جائیں، اُسے چاہیے کہ جو اُس پرظلم کرے یہ اُسے معاف کرے اورجو اُسے محروم کرے یہ اُسے عطا کرے اورجو اُس سے قطع تعلق کرے یہ اُس سے ناطہ جوڑے(حدیث)۔
کہتے ہیں:ایک آدَمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا۔ اسے غُصّہ تو بَہُت آیا مگر یہ سوچتے ہوئے وہ غُصّہ پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رَہتا ہوں۔اگر آج میں نے بیوی کی خطاپر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ کل بروزِقِیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی میری خطاؤں پر گرفت فرمالے۔چُنانچِہ اُس نے دل ہی دل میں اپنی زَوجہ کی خطا مُعاف کردی۔ اِنتِقال کے بعد اس کوکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا ؟ اُس نے جواب دیا کہ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والاتھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا: میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا اور تم نے اُس کی خطا مُعاف کردی تھی ، جاؤ!میں بھی اُس کے صِلے میں تم کوآج مُعاف کرتا ہوں۔
اگر ہمارے معاشرے کا ہر فرد یہ ذہن بنالے کہ میں صبر وتحمل اور برداشت کی عادت بناؤں گا تو ہمارا گھر ،محلہ ،شہر اور ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا۔اِن شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

islamic events © 2019,

Friday, October 11, 2019

guftagu[ گفتگو ]

guftagu[ گفتگو ]

گفتگو


فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:اِمْلَاء ُالْخَیْرِ خَیْرٌ مِّنَ السُّکُوْتِ وَالسُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنْ اِمْلَاءِ الشَّرِّ یعنی اچّھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بُری بات کہنے سے بہتر ہے(حدیث)۔
کس سے،کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگوکرنی ہے؟ یہ گُر سیکھنے سے آتا ہے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ،لہٰذا ’’پہلے تولوبعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہئے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی نے گفتگو کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے :مکمّل نقصان دِہ بات(اس سے بچنا ضروری ہے) مکمَّل فائدے مند بات(اس میں احتیاط یہ کرنا ہوگی کہ زبان کھلنے کے بعد نقصان دینے والی باتوں میں مبتلا نہ ہوجائے)ایسی بات جو نقصان دِہ بھی ہو اور فائدے مند بھی(اس کے لئے نفع نقصان کی پہچان ہونا ضروری ہے)اورایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان(اس میں وقت جیسی انمول دولت ضائع ہوتی ہے) ہمیں چاہئے کہ دنیا وآخرت کی کامیابیاں سمیٹنے کے لئے وہی گفتگو کریں جو مُفید ہو۔
ہم مختلف مَقامات پر مختلف لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں لہٰذا ہماری گفتگو بھی مختلف اور بہتر ہونی چاہئے۔ اپنی گفتگو کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں کچھ باتوں کو اپنانا پڑے گا اور کچھ چیزوں سے بچنا ہو گا ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سے عزت سے بات کی جائے تو آپ کو بھی اپنی گفتگو میں دوسروں کو عزت دینی ہوگی ، اس کی مِثال یوں سمجھئے کہ ربڑ کی گیند کو جتنی قوَّت سے دیوار پر مارا جائے اُسی رفتار سے واپس آتی ہے ۔ بولنے کی رفتار بھی اپنا اثر رکھتی ہے اگر رفتار زیادہ تیز ہوگی تو دوسرےکو الفاظ کم سمجھ میں آئیں گے اور اگر رفتار بہت کم ہوگی تو آپ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کا انتظار کرتے کرتے دوسرا اُکتا جائے گا ،لہٰذا اَوْسَط رفتار سے بات کرنا مُناسِب ہے۔ بولنے میں بلا شُبَہ زیادہ محنت نہیں ہوتی صرف زبان ہلانی پڑتی ہے مگر زبانیں صِرف رَس نہیں اُنڈیلتیں زہر بھی اُگلتی ہیں،نَرْم گفتگوآپ کا وَقار بڑھا دے گی اور تَلْخ گُفتگو آپ کی قَدْر گھٹا دے گی۔
بہترین چائے اگر گندے کپ میں پیش کی جائے تو اس کی اَہَمِّیَّت گِر جاتی ہے،گفتگو اگر چائے ہے تو لہجہ اس کا کپ ہے، ہما را لہجہ سننے والے کے قَلْب و ذِہن پر ہمارے لفظوں سے زیادہ اَثَر ڈالتا ہے،لیکن لہجہ حقیقت کے قریب ہوبناوَٹی نہ ہو،کیونکہ بناوٹی لہجہ لوگوں کو سمجھا دیتا ہے کہ آپ وہ نہیں ہیں جو نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے،چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگوبھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے،لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔ہوائی باتیں کرنے سے بچیں، اس سے شروع شروع میں آپ کو لوگوں کی توجہ تو مل جائے گی لیکن بعد میں آپ کی باتیں قابلِ بھروسا نہیں رہیں گی،جوبھی دعویٰ کریں اُس کے لئے آپ کے پاس کوئی دلیل یاحوالہ ہونا چاہئے۔الفاظ کا مناسب اِستِعمال آپ کی گفتگو میں جان ڈال دیتا ہے۔

چنانچہ’’کھالو‘‘کی جگہ’’کھالیجئے‘‘،’’میرا فیصلہ یہ ہے‘‘ کی جگہ ’’میری رائے یہ ہے‘‘،’’میں یہ کہہ رہا تھا‘‘کی جگہ ’’میں یہ عرض کررہا تھا‘‘، ”مجھے تم سے کام ہے“ کی جگہ ”مجھے آپ سے کچھ کام ہے“ یا” آپ کو تھوڑی زَحْمت دینی ہے“،’’اندھے‘‘کی جگہ”نابینا“،’’بوڑھے‘‘کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘کی جگہ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘،’’آپ غلط کہہ رہے ہیں ‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے ‘‘،’’آپ میری بات نہیں سمجھے ‘‘کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘وغیرہ استعمال کیجئے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے ۔مخاطب کا نام لے کر اس سے بات کرنا،اَجنبیت کو کم کرتا اور گفتگو میں سامنے والے کی دلچسپی بڑھا دیتا ہے زبان سامنے والے کے منہ میں بھی ہے ،یہ پیشِ نظر رکھئے اور اس کی بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرابولے اور پہلا سنے ۔اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے ۔
اندازِ گفتگو کسی حد تک انسان کی چھپی ہوئی خوبیوں اور خامیوں کو ظاہر کردیتا ہے،اس لئے اِن چیزوں سے بچئے:گھبراہٹ میں بندہ اپنی بات بہتر طریقے سے نہیں سمجھا سکتا ،پہلے خود کو پرسکون کیجئے پھر گفتگو کا آغاز کیجئے۔ ’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا ‘‘ ’’دیکھا نہ‘‘ ’’آپ میری بات لکھ لو ‘‘وغیرہ تَکِیہ کلام کی کثرت سامنے والے کی بَورِیَت کا سبب بن سکتی ہے، اس سے پرہیز کیجئے۔ زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں کا استعمال بھی بعضوں کی عادت ہوتی ہے ، کبھی اس کے کندھے پر ہاتھ رَسِید کریں گے تو کبھی ہاتھ بڑھا کر فرمائش کریں گے:’’دے تالی‘‘یہ باوقار لوگوں کا انداز نہیں ہے،اس سے بچئے ۔’’میں کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا‘‘،’’میں اُس کو کھری کھری سناؤں گا‘‘ایسا کرنے والے کو سامنےسے بھی کھری کھری سننے کو ملتی ہیں ،آپ یہ انداز اختیار نہ کیجئے ، گولی کی کڑواہٹ کم کرنے کے لئے بعض اوقات اس پر شوگر کوٹنگ کی جاتی ہے ، لہذا بات کی کڑواہٹ کم کرنے کے لئے نرم الفاظ کا انتخاب اچھی حکمتِ عملی ہے ، آپ بھی اسی کو اِختِیار کیجئے ۔بعض لوگ اتنی دھیمی آوازمیں گفتگو کرتے ہیں کہ خود بولتے ہیں خود ہی سمجھتے ہیں ، اگر بات کسی دوسرے سے کرنی ہے تو اتنی آواز سے بولئے کہ اس کے کانوں تک پہنچ جائے ۔اُوٹ پٹانگ باتیں کرکے ہر محفل کی رونق بننے کی خواہش نہ پالئے کہ ایسا کرنے والے کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ اللہ کرے ہمیں صحیح بولنا آجائے ۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

islamic events © 2019,

Thursday, October 3, 2019

Hazrat Bahauddin Zakariya Multani R.A[حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Hazrat  Bahauddin Zakariya Multani R.A[حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا بھرمیں اسلام پھیلنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ وہ بندگانِ خدا ہیں جنہیں صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کے طبقےمیں شمار کیا جاتا ہے۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں سے ایک بلند پایہ روحانی شخصیت شیخُ الشُّیوخ،غوثِ زمانہ شیخُ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی بھی ہے، حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا ہَبّار بن اَسْوَد ہاشمی قرشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد سے ہیں۔
حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بروز جمعہ کوٹ کروڑ (ضلع مظفر گڑھ، پنجاب پاکستان) میں ۲۷ رمضانُ المبارک ۵٦٦ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے علومِ ظاہری و باطنی کےحصول کے لئے خراسان، بخارا اور حجازِ مقدسہ وغیرہ کا سفر فرمایا۔ جب بغداد پہنچے تو وہاں شیخ المشائخ حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین عمر سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی بارگاہ میں حاضر ہو کر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
مرشدِکامل نے مریدِ کامل کو اپنی صحبت سے نوازا اور صر ف ۱۷دن بعد خلافت عطا فرما دی، دیگر مریدین کے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی کہ شیخ اتنی جلدی کسی کو خلافت عطا نہیں فرماتے تو بہاؤالدین زکریا پر یہ لطفِ خاص کیوں؟ مرشدِ کریم نے فراستِ مؤمنانہ سے مریدوں کی یہ بات جان لی اور فرمایا: تم سب گیلی لکڑی کی طرح ہو، جس پر عشقِ الٰہی کی آگ جلدی اَثَر نہیں کرتی، گیلی لکڑی کو جلانے کے لئے شدید محنت چاہئے، جبکہ بہاؤالدین زکریا سوکھی لکڑی کی طرح تھا کہ ایک ہی پھونک سے محبتِ الٰہی سے بھڑک اٹھا اسی لئے اسے میں نے اتنی جلدی خلافت دےدی۔ظاہری و باطنی علوم سے آراستہ ہوکر جب آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ملتان تشریف لائے تو یہاں پرآپ نے دعوت وتبلیغ کا کام شروع فرمایا، فرد اور معاشرے کی اِصلاح کے لئے مثالی خدمات سَر اَنجام دیں۔

فرد کی اِصلاح کے لئے خانقاہ کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں لوگ آکر ٹھہرتے اور حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی صحبتِ بابرکت سے فیض یاب ہوتے، اپنے قلوب کی پاکیزگی کا اہتمام کرتے، اس خانقاہ میں ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا۔معاشرے کی اِصلاح کے لئے حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک مُنَظَّم ادارہ قائم فرمایا، جسے آج کی اِصطلاح میں جامعہ کہا جاتا ہے، اس میں تدریس کے لئےمناسب تنخواہ و رہائش کی سہولیات دے کر مختلف زبانوں کے ماہرین عُلَما و فُضلاکو مقرر فرمایا۔ یہ ایک اِقامتی (رہائشی) ادارہ تھا، دور دراز سے طلبہ آکر یہاں ٹھہرتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے، ان کے لئے طعام کا اہتمام بھی آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی طرف سے ہوتا۔ طالبانِ علومِ نبویہ کو اس وقت کے مُرَوَّجہ مختلف علوم و فنون سکھائے جاتے۔ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے برِّعظیم کےساتھ عراق، شام اور سر زمینِ حجاز سے بھی آکر طلبہ داخلہ لیتے۔ اس ادارے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی، طلبہ کو علم و عمل کا پیکر بنایا جاتا، تاکہ وہ اپنے وطن واپس جاکر اسلام کی تَروِیج و اشاعت کا فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں۔
تبلیغِ دین کے لئے ایک انقلابی سرگرمی اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے مبلغین کی تربیت کا ایک باقاعدہ شعبہ تھا جہاں مختلف علاقوں کی زبانیں اُنہیں سکھائی جاتیں، جس مبلغ کو جہاں بھیجنا ہوتا اسے وہاں کے رہن سہن اور تہذیب و ثقافت سےآگاہی دی جاتی پھر اسے وہاں بھیجا جاتا تاکہ وہاں جاکر اسلام کا پیغام بہترین اندازمیں عام کر سکے، سال میں ایک مرتبہ یہ تمام مبلغین جمع ہوتے اور اپنی سال بھر کی کاوشوں کی کارکردگی پیش کرتے۔ معاشی طور پر خودکفیل کرنے کے لئے ان مبلغین کو سامان ِ تجارت دے کر روانہ کیا جاتا، ان کی ایسی تربیت کی جاتی کہ خریدار ان کے حسنِ کردار اور حسنِ معاشرت سے متأثر ہوکر دامنِ اسلام سے وابستہ ہوجاتا، ان مبلغین نےجن علاقوں میں اسلام کی روشنی کو پہنچایا ان میں سرِفہرست افغانستان، انڈونیشیا، فلپائن، خراسان اور چین کا ذکر ہے۔

Hazrat  Bahauddin Zakariya Multani R.A[حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت بہاؤالدین زکریا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۷ صفر المظفر ٦٦۱ھ کو حسبِ معمول اپنے وظائف میں مشغول تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے صاحبزادے شیخ صدرُ الدّین عارف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک نورانی شخص کو دیکھا، اُنہوں نے ایک رُقْعَہ آپ کے والد ماجد کو دینے کے لئے کہا، صاحبزادے حجرہ میں داخل ہوئے اور رُقْعَہ پیش کرکے باہر آگئے۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے آواز آئی: وَصَلَ الْحَبِیْبُ اِلَی الْحَبِیْبِ یعنی دوست دوست سے مل گیا۔ صاحبزادے جلدی سے اندر گئے تو دیکھا کہ والدِ محترم وصال فرما چکے ہیں۔ ملتان شریف پنجاب پاکستان میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔اٰمِیْن

islamic events © 2019,

Wednesday, October 2, 2019

Hazrat Baba Bulleh Shah R.A[حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ]

Hazrat Baba Bulleh Shah R.A[حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ]

حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ


حضرت بابا بلھے شاہ سیّد محمد عبد اللہ گیلانی قادری شَطّاری حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۰۹۱ھ میں مقام اُوچ شریف (ضلع بہاولپور،پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا اصل نام سیِّد عبداللہ ہے جبکہ بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے نام سے عالمگیر شہرت پائی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قادری شطاری بزرگ ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شجرۂ نسب چودہ واسطوں سے حضرت سیِّدنا شیخ سیّد ابو محمد عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جا ملتاہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آباواجداد میں سے ایک بلند پایہ بزرگ غوثِ وقت حضرت سیّد محمد غوث بندگی گیلانی قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۸۸۷ھ میں حَلب (ملک شام ) سے ہجرت کرکے اُوچ شریف میں آباد ہوئے ۔
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شکل و صورت کے اعتبار سے خوبرو اور خوش شکل تھے،سنّت کے مطابق سر ِاقدس پر زلفیں ہوا کرتی تھیں ، آنکھىں گول اور موٹى تھىں جو دیکھنے والوں کو بَھلی معلوم ہوتی جبکہ چہرے کے نقوش تىکھے (خوب صورت) تھے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شرىعت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی سجا رکھی تھی جو بہت گھنی تھی جس کى بدولت چہرہ پر اىک رعب و دبدبہ نظر آتا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ڈھیلا ڈھالا کرتہ پہنتے اور ساتھ تہبند باندھا کرتے تھے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سارى زندگى شادى نہ کى اورپوری زندگی تنہاگزاردی ۔

حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کلام معرفت اور عشقِ حقىقى سے بھرپور ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی تمام روحانی منازل کے حصول کا ذریعہ اور پہلا سبب شریعت ِمحمدی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہی قرار دیا اور اس پر عمل کو لازمی جانا۔
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جہاں اپنے کلام کےذریعے سرد دلوں میں عشق ومحبت کی گرمی پیدا کی تووہیں اپنے ملفوظات کو مدنی پھولوں میں ڈھال کر کوچۂ دل کو مہکا دیا چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : جو علم بے عمل ہے وہ دل کى کھوٹ کو کھرا نہىں کرسکتا۔اس علم کا کوئى فائدہ نہىں جس سے ذلت و خوارى حاصل ہو۔ظاہری جمع خرچ محض تکبر کی نشانی ہے جب تک عملاً کچھ نہ کیا جائےمراد کا پھل حاصل نہیں ہوسکتا۔محبوب ِحقىقى توانسان کے اپنےدل مىں ہوتا ہے،مگر اندھے کو اس کى پہچان کىسے ہوسکتى ہے۔جب تک دل سے تکبر، حرص ،کىنہ، بغض نکال کر جلا نہ دىا جائے محبوب ِحقىقى نہىں مل سکتا۔جس نے خود کو دنىا کى آلائشوں سے پاک کیا اس نے کسبِ فقر پالىا۔آخرت کا توشہ کمانا چاہتے ہو تو محبوبِ حقىقى کى محبت اپناؤ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ہمىشہ ہر شے سے زىادہ ىاد کرو۔پیر ومرشد ہی ہمیشہ طرزِ فکر کابیج بَوتا ہے۔

Hazrat Baba Bulleh Shah R.A[حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ]
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاوصال ٦ صفر المظفر ۱۱۸۱ھ میں ہوا۔ قصور شہر میں ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزارِ اقدس ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عرس مبارک ہرسال اگست کی ۲۵۔۲٦ ۱ور ۲۷تاریخ کو منعقد ہوتا ہے جہاں ملک کے کونے کونے سے عقیدت مند اپنی عقیدت کے پھول چڑھانے جوق در جوق آتے ہیں۔

islamic events © 2019,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...