Tuesday, March 3, 2020

Hazrat Sayyiduna Salman Farsi R.A[حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ]

Hazrat Sayyiduna Salman Farsi R.A[حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ]

حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ


زُہدو قَناعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والے، تقویٰ اور پرہیز گاری کے پھولوں کو اپنے دامن پر سجانے والے، حضرتِ سیِّدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے تابعی اور رحمتِ عالَم،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے مشہور صحابیِ رسول،سَلْمانُ الخَیْر حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِسلام لانے کا واقعہ بہت اہم ہے۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اَصْفَہَان (ایران) کے رہنے والے تھے۔ آباو اَجداد آتش پرَسْت تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بچپن سے ہی سادہ اور خاموش طبیعت تھے، ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے ہر وقت آتش کَدے کی آگ روشن رکھنے میں مصروف رہتے مگر جلد ہی مجوسیّت سے بیزارہوگئے اور دینِ حق کی تلاش میں اپنے وطن سے نکل کر شام جاپہنچے ،جہاں مختلف دینی و مذہبی راہنماؤں کی صحبت اختیار کی۔ ہر مذہبی راہنما یا تو خود یہ وصِیَّت کردیا کرتا کہ میرے بعدفلاں کے پاس جانا ،یا پھر حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خودپوچھ لیا کرتے کہ اب کس ہستی کی صحبت اختیار کروں؟ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آخری رَاہِب سے پوچھا تواس نے کہا : اے حق کے مُتَلاشی بیٹے!اس دنیا میں مجھے کوئی ایسا شخص نظرنہیں آتا جس کی صحبت میں تمہیں اَمن و سلامتی نصیب ہو، ہاں!اب نبیِّ آخِرُ الزَّماں کے ظہور کا وقت قریب ہے جو دینِ ابراہیمی پر ہوں گے، اُس مقام کی جانب ہجرت کریں گے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہوگا، جہاں کھجور کے درخت کثرت سے پائے جائیں گے، اُن کے دونوں کندھوں کے درمیان مُہر ِنَبُوَّت ہوگی،وہ ہدیہ قبول کریں گے اور صدقہ نہیں کھائیں گے۔ رَاہِب کے انتقال کے بعد حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس وصیت کو پیشِ نظر رکھا اور ایک قافلے کے ہمراہ آگے بڑھ گئے۔راستے میں قافلے والوں کی نیَّت بدل گئی اور انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک یہودی کے ہاتھ بیچ دیا یوں حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو غلامی کی زنجیر وں میں جکڑ دیا گیا۔تقریباً دس بار بیچے گئے بالآخر بکتے بِکاتے مدینۂ مُنَوَّرہ پہنچ گئے۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک مرتبہ کھجور کے درخت پر چڑھ کر کھجور توڑ رہے تھے کہ خبر سنی کہ نبیِّ آخِرُ الزَّمَاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرماکر مدینے کے قریب مقامِ قُبا میں تشریف لا چکے ہیں اسی وقت دل بے قرار ہوگیا،فوراً نیچے تشریف لائے اور خبر لانے والے سے دوبارہ یہ روح پَروَر خبر سننے کی خواہش ظاہر کی یہودی آقا نے اپنے غلام کا تَجَسُّس اور بے قراری دیکھی توغصےہوگیا اور ایک زوردار تھپڑ رسید کرکے کہنے لگا: تمہیں ان باتوں سے کیا مطلب؟ جاؤ!دوبارہ کام پر لگ جاؤ، حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہوگئے لیکن متاعِ صَبْر و قَرار تو لُٹ چکا تھا لہٰذا جونہی موقع ملا چند تازہ کھجوریں ایک طَباق میں رکھ کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یہ صدقہ ہے، قبول فرمالیجئے،پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا:تم کھالو،اور خود تناول نہ کیا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دل میں کہا: ایک نشانی تو پوری ہوئی ، اگلی مرتبہ پھر کھجوروں کا خوان لے کر پہنچے اور عرض گزار ہوئے کہ یہ ہدیہ ہے، قبول فرمالیجئے ۔ رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کوکھانے کا اشارہ کیا اور خود بھی تناول فرمایا ۔ دل میں کہا:دوسری نشانی بھی پوری ہوئی اس درمیان میں سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دونوں شانوں کے درمیان’’مُہر ِنَبُوَّت‘‘کو بھی دیکھ لیا اس لئے فوراً اسلام قبول کر لیااور اس دَر کے غلام بن گئے جس پر شاہَوں کے سَر جھکتے ہیں۔
سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے غزوۂ بدر و اُحد میں حصہ نہ لے سکے پھر تین سو کھجور کے درخت اور چالیس اوقیہ چاندی کے بدلے آزادی کا تاج سر پر سجایا اور ایک سرفروش مجاہد کی طرح بعد میں آنے والے تمام غزوات میں حصہ لیا۔ غزوۂ خندق میں خندق کھودنے کا مشورہ بھی حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کا تھا ۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے والہانہ محبت تھی، اپنے وقت کا بیشتر حصہ دربار ِ رسالت میں گزارتے اور فیضانِ نبوی سے بَہرہ مَند ہوتے، اِس کے بدلے میں بارگاہ ِ رسالت سے سَلْمَانُ الْخَیْر اور سَلْمَانُ مِنَّا اَہْلَ الْبَیْت (سلمان ہمارے اَہلِ بیت سےہیں) جیسی نویدِ جاں فِزا سننے کی سعادت پائی ایک اور مقام پر اس بشارتِ عظمیٰ سے سرفراز ہوئے کہ جنّت” سلمان فارسی“ کی مشتاق ہے۔جب کوئی پوچھتا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے والد کون ہیں؟ تو ارشاد فرماتے: میں دینِ اِسلام کا بیٹا سلمان ہوں۔
سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک عرصہ تک مدینہ میں قیام فرمایا پھرعہد ِفاروقی میں عراق میں سکونت اختیارکرلی۔کچھ عرصے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدائِن کا گورنرمقرر کردیا۔گورنر کے اہم اور بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑی سادہ زندگی گزاری، ایک دن مدائن کے بازار میں جارہے تھے کہ ایک ناوَاقِف شخص نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مزدور سمجھ کر اپنا سامان اٹھانے کے لئے کہا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چپ چاپ سامان اٹھا کر اس کے پیچھے چلنے لگے، لوگوں نے دیکھا تو کہا: اے صاحبِ رسول!آپ نے یہ بوجھ کیوں اٹھا رکھا ہے؟ لائیے! ہم اِسے اٹھالیتے ہیں۔ سامان کا مالک ہَکَّا بَکَّا رَہ گیا،پھر نہایت شرَمْسار ہوکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے معافی مانگی اور سامان اُتروانا چاہالیکن حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:میں نے تمہارا سامان اٹھانے کی نیّت کی تھی،اب اِسے تمہارے گھرتک پہنچا کر ہی دَم لوں گا۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ راہ ِ خدا میں مال خرچ کرنے کو محبوب رکھا کرتے تھے چنانچہ بطورِ تنخواہ چار یا پانچ ہزار درہم ملتے لیکن پوری تنخواہ مساکین میں تقسیم فرمادیتے اور خود کھجور کے پتوں سے ٹوکریاں بناکر چند درہم کماتے اور اسی پر اپنا گزر بسر کرتےتھے ۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے۱۰ رَجَبُ المُرَجَّب۳۳یا۳٦ ہجری میں اس دنیا سے کوچ فرمایا، مزارِ مبارک عراق کے شہر مدائن میں ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ساڑھے تین سو سال (جبکہ بعض روایات کے مطابق اڑھائی سو سال) کی طویل عمر پائی۔
islamic events © 2020,

Monday, March 2, 2020

Hazrat Sayyiduna Imam Jafar Sadiq R.A[حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ]

Hazrat Sayyiduna Imam Jafar Sadiq R.A[حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ]

حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ


ماہ ِرَجَبُ المُرَجَّب کو کئی بزرگانِ دین سے نِسبت حاصل ہے، اِنہی میں سے ایک ہستی ایسی بھی ہے جس نے بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائی،حُسْنِ اَخلاق کی چاشنی سے بداَخْلاقی کی کڑواہٹ دور کی،عمدہ کِردار کی خوشبو سے پریشان حالوں کی داد رَسی فرمائی اور عِلم کے نور سے جَہالت کی تاریکی کا خاتمہ فرمایاوہ عظیمُ المَرتَبَت شخصیت حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کانام”جعفر“ اورکُنیّت”ابوعبداللہ“ہے ۔حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت ۸۰ ہجری میں ہوئی،آپ کے دادا شہزاد ۂ امام حسین حضرت سیّدناامام زَیْنُ الْعَابِدِین علی اَوسط اور والد امام محمد باقِر ہیں جبکہ والدہ حضرت سیّدتنا اُمِّ فَرْوَہ بنتِ قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق ہیں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ یوں والد کی جانب سےآپ”حسینی سَیِّد“اوروالدہ کی جانب سے”صدیقی“ہیں۔سچ گوئی کی وجہ سےآپ کو”صادِق کے لقب سے جانا جاتا ہے۔

حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےمدینۂ مُنَوَّرہ کی مشکبار عِلمی فضا میں آنکھ کھولی اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیّدنا امام ابوجعفرمحمدباقِر، حضرت سیّدنا عُبَيۡد الله بن ابی رافع،نواسۂ صدیقِ اکبر حضرت سیّدناعُروہ بن زُبَير،حضرت سیّدناعطاء اورحضرت سیّدنانافع عَلَیْہِمُ الرََّحْمَۃکے چَشْمۂ عِلْم سے سیراب ہوئے۔دو جَلیلُ القدر صحابۂ کِرام حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک اورحضرت سیّدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی زیارت سے مُشَرَّف ہونے کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی ہیں۔
کتاب کی تصنیف سےزیادہ مشکل افراد کی علمی، اَخلاقی اور شخصی تعمیر ہے اور اُستاد کا اِس میں سب سے زیادہ بُنیادی کِردار ہوتا ہے۔ حضرت سیّدنا امام جعفرصادِق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رَہ کرکئی تَلامِذہ(شاگرد) اُمّت کے لئے مَنارۂ نور بنے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عِلمی فیضان سے فیض یاب ہونے والوں میں آپ کے فرزندامام موسیٰ کاظم، امامِ اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک، حضرت سفیان ثَوری،حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ عَلَیْہِمُ الرَّحۡمَۃ کے نام سرِفَہرِست ہیں۔

خوش اَخلاقی سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طبیعت کا حصہ تھی جس کی وجہ سے مبارک لبوں پر مسکراہٹ سجی رہتی مگر جب کبھی ذکرِ مصطفےٰ ہوتا تو (نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہیبت وتعظیم کے سبب)رنگ زَرد ہوجاتا،کبھی بھی بے وضو حدیث بیان نہ فرماتے ، نمازاور تلاوت میں مشغول رہتےیا خاموش رہتے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی گفتگو”فضول گوئی“سے پاک ہوتی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے معمولات ِزندگی سے آباء و اجداد کے اَوصاف جھلکتے تھے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےرویّےمیں نانا جان نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معاف کردینے والی کریمانہ شان دیکھنے میں آتی، گُفتار سےصدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حق گوئی کا اظہار ہوتا اور کردارمیں شجاعتِ حیدری نظر آتی۔
حضرت سیّدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ۱۵رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۸ ہجری کو٦۸سال کی عمر میں ہوا اور تدفین جَنَّتُ الْبَقِیْع آپ کے دادا امام زین العابدین اور والد امام محمد باقِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہماکی قبورِ مبارَکہ کے پاس ہوئی۔

islamic events © 2020,

Saturday, February 29, 2020

Hazrat Sayyiduna Imam Shafi R.A[حضرت سیّدنا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

Hazrat Sayyiduna Imam Shafi R.A[حضرت سیّدنا  امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]

حضرت سیّدنا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ


بحیثیتِ مسلمان یہ بات قابلِ اِفْتِخار ہے کہ ہماری تاریخ ایسی جلیل ا لقدر شخصیات سے مُزَیَّن ہے جن کی علمی وَجاہَت کا شہرہ اَطرافِ عالَم میں پھیلا ہوا ہے ۔ ان ہی روشن و تابَنْدہ شخصیات میں سے ایک دَرَخْشاں نام عالمُ العَصْر، ناصرُ الحدیث، فَقِیْہُ الْمِلَّۃ، حضرت سیّدنا امام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا بھی ہے، جو مجتہد، فقہِ شافِعی کے بانی ا ور عظیم رُوحانی شخصیت کے مالک ہیں۔ ۱۵۰ھ میں جس دن حضرت سیّدنا امامِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کا وصال ہوا اسی دن غَزَّہ (فلسطین)میں آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کےدادا کے دادا حضرت سیّدنا شافِع رضی اللہ تعالٰی عنہ صحابیِ رسول تھے،انہی کی نسبت سے آپ شافعی کہلاتے ہیں۔
کم عُمری میں ہی امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یتیم ہو گئے تھے اس لئے آپ کی پرْورِش اور تربیت آپ کی والدہ نے فرمائی۔ بچپن میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو تحصیلِ علم اور تیر اَندازی کابے حد شوق تھا، تیر اندازی میں مہارت کا یہ عالَم تھا کہ آپ کے دس میں سے دس نشانے دُرُست لگتے تھے۔

معاشی اِعتبارسے امام شافعی کے ابتدائی حالات نہایت دُشوار گزار تھے، آپ کی والدہ کے پاس استاد صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھااور کاغذ نہ ہونے کی وجہ سےکبھی ہڈیوں پراور کبھی صفحات مانگ کر ان پر احادیثِ مبارکہ لکھا کرتے۔ شدید تنگ دَسْتی کے باعث تین بار آپ کو اپنا تمام مال حصولِ علم کے لئے فروخت کرنا پڑا۔اتنے سخْت حالات کے باجود آپ طلبِ علم میں لگے رہے،حصولِ علم کےلئےعرب کےدیہاتوں میں آپ نے ۲۰ سال گزارے اور وہاں کی زبانوں اور اَشعار پر عبور حاصل کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بہت ذہین تھے،۷ سال کی عمر میں کلامِ مجید اور۱۰سال کی عمر میں حدیث شریف کی کتاب”مؤطَّا امام مالِک“ صرف ۹ راتوں میں حِفظ کر لی تھی۔۱۵ سال کی عمر میں آپ کو فتویٰ دینے کی اجازت مل گئی لیکن اِحتِیاط کے پیشِ نظر آپ نےاس وقت تک فتویٰ دینا شروع نہ کیا جب تک دس ہزار حدیثیں یاد نہ کر لیں۔
سیّدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے اپنے دور کے عظیمُ المَرْتَبَت علمائے کرام و بزُرْگانِ دین سے علم حاصل کیا،ان میں حضرت سیّدنا امام مالک ، حضرت سیّدنامُسلم بن خالد، حضرت سیّدنا سفیان بن عُیَیْنہ اورحضرت سیّدنا فُضَیْل بن عِیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں، جبکہ آپ کے تلامِذہ میں حضرت سیّدنا امام احمد بن حنبل، حضرت سیّدناامام عبداللہ حُمَیْدی اور حضرت سیّدناامام حسن زعفرانی علیہم الرحمۃجیسی نابِغۂ روزگار شخصیات شامل ہیں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی جلالتِ علمی کو دیکھتے ہوئے آپ کو یمن میں نَجْران کا قاضی مقرر کیاگیا۔ دیگر اَکابِرین کے علاوہ آپ نے حضرت سیّدنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کے جلیل القدر شاگرد حضرت سیّدنا امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی اِکتسابِِ فیض کیا۔ علومِ مُرَوَّجہ کی تکمیل کے دوران عراق ہی سے آپ نے اپنی فقہ (یعنی فقہِ شافعی) کی تَروِیج و تَدوین کا آغاز فرمایا۔ آپ نے ہی سب سے پہلے اصول ِ فقہ کے موضوع پر کتاب تصنیف فرمائی نیز ابوابِِ فقہ اور اس کے مسائل کی دَرَجَہ بَندی فرمائی۔حضرت سیّدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے دَرْس و تَدریس اور تَصانیف کے ذریعے علمِ دین کی خوب اِشاعت فرمائی جس کا فیضان آج تک جاری ہے، آپ کی تَصانیف میں کتاب ”الاُمّ“، ”اَلرِّسالَۃ“، ”اِخْتِلافُ الْحَدِیث“، ”اَدَبُ الْقاضی“ اور ”اَلسَّبَق و الرَّمْی“ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔
مُجْتَہدِ وقت ہونے کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نہایت عبادت گزار اور قراٰنِ پاک کی کثْرت سے تِلاوت کرنے والے تھے، آپ روزانہ ایک قراٰنِ پاک اور رمضانُ المبارک میں ساٹھ قراٰن مجید کا ختم فرماتے۔ آپ نہایت خوش آواز قاریِ قراٰن تھے، آپ کی تلاوت سن کر لوگوں پر رِقّت طاری ہو جاتی تھی۔

زُہد و قَناعت میں بھی سیّدنا امام شافعی کا اعلیٰ مقام تھا،چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: میں نےسولہ سال سےکبھی سیر ہو کرکھانا نہیں کھایا۔آپ کی شرافت و عظمت کا شہرہ زبانِ زدِ عام تھا یہاں تک کہ اُس دور کے صاحِبانِ کمال نے بھی آپ کے فَضائل و مَناقِب بیان فرمائے، چنانچہ حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتےہیں: امام شافعی(علیہ رحمۃ اللہ الکافی) اپنے زمانے کے اَفراد میں سب سے اَفضل ہیں۔ حضرت سیّدنا امام احمد بن حَنبَل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی دنیا کے لئے سورج اور لوگوں کے لئےخیر و عافیَّت کی طرح ہیں جس طرح ان دونوں کا کوئی مُتَبادِل نہیں اسی طرح ا ن کا بھی کوئی مُتَبادِل نہیں۔
زندگی کی ۵۴ بہاریں دیکھنے کے بعد علم و فضل کا یہ چمکتا سورج ۳۰ رجب ۲۰۴ھ جمعرات کی رات کو مصر میں غروب ہوا۔
Hazrat Sayyiduna Imam Shafi R.A[حضرت سیّدنا  امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ]
حضرت سیّدنا امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار مبارَک جبل مقطم کے قریب قَرافہ صغریٰ (قاہرہ مصر) میں مَرجعِ عوام وخواص ہے ۔
islamic events © 2020,

Wednesday, February 26, 2020

Hazrat Dawood AS kis Tarah Badshah Banay[حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟]

Hazrat Dawood AS kis Tarah Badshah Banay[حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟]

حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح بادشاہ بنے؟


جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ""جالوت""سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔
یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھرہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔

آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔
جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلاا ور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اوراپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرمادیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۳۰۸،پ۲،البقرۃ۲۵۱)۔

اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورئہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ:۔
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ۔
ترجمہ کنزالایمان:۔اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔(پ۲،البقرۃ:۲۵۱)۔
حضرت داؤد علیہ السلام کا ذریعہ معاش:۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے باوجودیکہ ایک عظیم سلطنت کے بادشاہ تھے مگر ساری عمر وہ اپنے ہاتھ کی دستکاری کی کمائی سے اپنے خورد و نوش کا سامان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجایا کرتا تھا اور آپ اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے اور ان کو فروخت کر کے اس رقم کو اپنا ذریعہ معاش بنائے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔(روح البیان،ج۱،ص۳۹۱،پ۲،البقرۃ:۲۵۱)۔
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا الحاج عبد المصطفٰے اعظمیؒ  
islamic events © 2020,

hazrat muhammad mustafa sallallahu alaihi wa sallam[حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم]

حضرت محمد مصطفٰی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم ...